• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

درس و تدریس سے منسلک افراد بخوبی جانتے ہیں کہ جامعات کے طلبہ میں بےحد تنوّع پایا جاتا ہے۔ یہاں ایک طرف نہایت ذہین، کُند ذہن، بہت زیادہ پُراعتماد، شرمیلے اور شوخ و چنچل طلبہ دکھائی دیتے ہیں، تو دوسری جانب سبز، نیلے، ارغوانی، نقرئی اور سُرخ رنگ سمیت اَن گنت رنگوں کے حجاب لپیٹے ’’بےحجاب‘‘ نازنینائیں بھی نظرآتی ہیں۔

وہ کیا ہے کہ حجاب اوڑھنے کے باوجود بھی ’’بےحجاب‘‘ نظر آنا موجودہ دَورِ دجل کا ایک اضافی وصف ہے، جو ہر جا تو نہیں، لیکن بہت سے مقامات پر دکھائی دیتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ تیزی سے زوال پذیر ہے اور صُورتِ حال اس نہج پر جا پہنچی ہے کہ ہم اپنے سماج کو مغربی کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر مشرقی۔

دوسری طرف نہ ہی اِسے اسلامی معاشرہ کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی سیکولر اور لبرل سوسائٹی بلکہ ستم تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اپنی تمام تر بے حجابانہ جلوہ سامانیوں کے ساتھ ’’آدھے تیتر، آدھے بٹیر‘‘ کی صُورت پیش کررہا ہے۔ تہذیبوں اور معاشروں کے زوال کے اسباب وعوامل پر تحقیق کرنے والے ماہرین جانتے ہیں کہ ایسا تب ہوتا ہے، جب کسی معاشرے سے تعلق رکھنے والے افراد نظریاتی طور پر زبوں حالی کا شکار ہوجائیں۔ یہ افراد اپنی تمام تر ثقافتی اقدار کے باوجود بےرُوح اور تہی دامن ہوتے ہیں اور ان کے ہر ہر عمل سے ریا کاری اور دکھاوا جھلکتا ہے۔

ایک سے ڈیڑھ گز پر مشتمل کپڑے کے ایک ٹکڑے، ’’حجاب‘‘ کے معنی و مفہوم سے متعلق تحقیق کی جائے، تو تمام تر دست یاب ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاب کے لغوی معنی پردہ، اوٹ، آڑ، نقاب اورکسی چیز کو ڈھانکنا یا چُھپانا کے ہیں۔

یہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مادہ ’’ح ج ب‘‘ ہے اور اس کے معنی دو اشیاء کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹ یا فاصلے کے بھی ہیں، جب کہ حجاب کے شرعی و اصطلاحی معنی سے مُراد ’’وہ مخصوص لباس اورطرزِ عمل ہے، جس کے ذریعے ایک مسلمان خاتون اپنے جسم اور زیب وزینت کو نامحرم مَردوں سے چُھپاتی ہے اور دینِ اسلام میں یہ عفّت، حیا اور تحفّظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

سورۃ الاحزاب میں عورتوں کو ’’جلباب’’ (بڑی سی چادر) اپنے اوپر لٹکانے کا حُکم دیا گیا ہے تاکہ وہ پہچانی جائیں اور ستائی نہ جائیں، جب کہ سورۃ النور میں مومن عورتوں کو اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالنے اور اپنی زینت ظاہر نہ کرنے کا حُکم ہے۔

مذکورہ بالا نکات سے ظاہر ہوتا ہےکہ حجاب کی اصل رُوح ’’حیا‘‘ ہے اور اگر حجاب، چادر یا برقعہ اوڑھنے کے باوجود بھی حیا کا فقدان نظر آئے کہ آج عبایا، اسکارفس کوبھی محض فیشن ٹرینڈ ہی بنا کر رکھ دیا گیا ہے، تو اس سے بڑا المیہ اور معاشرتی انحطاط کیا ہو سکتا ہے۔ اگر رنگ برنگے عبایا، اسکارفس میں دعوتِ نظارہ دیتے وجود، مسکارے، آئی لائنرسے بوجھل کٹارا آنکھوں کے تیر مَردوں کی نظروں کو خود پر مرکوز رکھنے کے تمام تر گُر لیے ہوئے ہوں، تو اس دَورِ دجل کے بے چارے نیم ایمانی کیفیت والے مَرد کہاں جائیں، تب ہی تو جب اُنہیں اُن کی اس گُم راہی پر ٹوکا جاتا ہے، تو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ؎ آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں … ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔اپنے اکبر الہٰ آبادی بھی یہی شکایت کرتے جہانِ فانی سے کُوچ کرگئے کہ ؎ حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بے گانہ تھی… اب ہے شمعِ انجمن پہلے چراغِ خانہ تھی۔ چلیں، وہ بےچارے تو بی بی حامدہ کی انگریزی سے گھائل ہوئے، آج کے نوجوان تو حجابی خواتین کی بےحجابیوں سے گھائل نظر آتے ہیں۔

بقول داغ دہلوی ؎ خُوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں… صاف چُھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔ طُرفہ تماشا یہ کہ آج حجاب کو پگڑی بنا کر مَردوں کی پگ کے تصوّر کو بھی روند ڈالا گیا ہے۔ غالباً60کی دہائی سے سینے پر لپیٹے جانے والا دوپٹا کچھ اِس طوراِس حجاب کی نذر ہوا کہ نازنینوں نےاُسے سمیٹ کر پگڑی کی مانند اپنے سَر پر سوار کر لیا، حالاں کہ اگر وہ اس کی ایک دودھجیاں سینے پر بھی ڈال لیتیں، توشاید صُورتِ حال یوں ابتر سے بدتر نہ ہوتی۔

قصّہ مختصر، ہر گلی کوچے، دُکان اور چبوترے پر جب نگاہ سنبھالنی مشکل ہوگئی، تو نکاح کی خواہش دامن گیر ہوئی، مگرجب نکاح کے لوازمات بھی مشکل نظر آئے، تو بے راہ روی عام ہوتی چلی گئی اور پھر ہم جیسے افراد کے قلم، یہ جانے بوجھے بغیر کہ ہم نے معاشرے کو حجاب کا چولا تو پہنا دیا، مگر اِسے اختیار کرنے والیوں میں حیا کی رُوح پیدا کرنے میں ناکام رہے، بے راہ روی پر لن ترانیاں کرنے لگے۔

ہم بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں جامعات میں اکّا دُکّا باحجاب خواتین ہوا کرتی تھیں اور ہم اُن میں سے ایک تھے اور آج الحمدُللہ، نجی و سرکاری جامعات اور تدریسی ادارے ہی نہیں، دفاتر اور کاروباری مراکز میں بھی بےشمار خواتین حجاب پہنے دکھائی دیتی ہیں، مگر ان سب خواتین سے صرف اتنی گزارش ہے کہ ’’حجاب‘‘ محض ہماری دیرینہ روایت کا حصّہ ہی نہیں، کپڑے کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا آخرت میں ہماری نجات کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔ اگر صرف حجاب کےلغوی معنی ہی پر غور کرتے ہوئے اِسے اختیار کیا جائے، تو یقین جانیے، پورا معاشرہ سنور سکتا ہے، یہاں تک کہ ’’غضِ بصر‘‘ کی تاکید کے بغیربھی ہر آنکھ احتراماً بےاختیار ہی جُھکے گی۔