• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دل، اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک شاہ کار ہے۔ یہ عام حالات میں تقریباً ایک لاکھ بار روزانہ دھڑکتا اور پورے جسم کو خون پہنچاتا ہے، جب کہ جسم کے مختلف حصّوں میں آکسیجن اور ضروری خوراک بھی اِسی کے ذریعے پہنچتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام بنایا ہے کہ یہ خُود بخود دھڑکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر یہ دھڑکن رُک جائے، تو زندگی رُک جاتی ہے۔ جس طرح یہ پورے جسم کو آکسیجن اور غذائیت پہنچاتا ہے، اِسی طرح اِسے بھی خون کی ضرورت ہوتی ہے کہ اِسے توانائی مل سکے۔

اللہ ربّ العزّت نے دل کے اندر کچھ اِس ترتیب سے خون کی شریانیں بنائی ہیں کہ جنھیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ تین بڑی شریانیں پورے دل کو اِس طرح کور کرتی ہیں کہ کوئی حصّہ خون کے بغیر نہیں رہ پاتا۔ تاہم، ہماری کم زوریوں، بے احتیاطیوں اور کچھ موروثی اثرات کے سبب اِن شریانوں کے افعال متاثر ہوجاتے ہیں۔

جیسے تمباکو نوشی، ذیابطیس، جسم میں چربی کی زیادتی اور سُستی وغیرہ کے سبب۔ اگر دیکھا جائے، تو یہ ایسی عادات ہیں، جنہیں چھوڑنا کچھ زیادہ مشکل نہیں، لیکن عموماً ہماری لاپروائی کے سبب یہ عادات پختہ ہی ہوتی چلی جاتی ہیں اور یوں دل کے افعال متاثر ہونے سے ہم مختلف جسمانی عوارض کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔

علاج کی تدابیر

امراضِ قلب سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ30 سے35 منٹ پیدل چلا جائے، کچھ تیز، کچھ آہستہ۔ نیز، غیر ضروری دباؤ اور تناؤ کی کیفیات سے بچنا بھی بے حد ضروری ہے، یعنی دل و دماغ پُرسکون رکھنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ اِس مقصد کے لیے عبادات میں مصروف رہنا ایک آزمودہ نسخہ ہے کہ اِس طور ازحد ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے، جب کہ خُود کو ترو تازہ رکھنے کے لیے تفریحی مقامات پر جانے کو بھی معمول بنانا چاہیے۔ دل درست رکھنا ہے، تو سُستی کی عادت ہر صُورت ختم کرنی ہوگی۔

پیدل چلنے کا بہانہ ڈھونڈا جائے اور پھر اِس موقعے کو واک کے لیے استعمال میں بھی لایا جائے۔ اپنے دل کی درستی کے لیے تمباکو نوشی ہر صُورت ترک کرنی ہوگی اور اگر بلڈ پریشر یا شوگر لاحق ہو، تو انہیں مکمل کنٹرول میں رکھا جائے۔

نیز، کھانے پینے میں بہت احتیاط برتی جائے، تلی ہوئی چیزوں، تیز مرچ، چربی سے پرہیز، بہت زیادہ چربی والی غذاؤں جیسے مغز، کلیجی، پائے، نہاری کا استعمال کم کرنے کے ساتھ، انڈے کی زردی بھی زیادہ استعمال نہ کی جائے۔

اگر خدانخواستہ دل کی رگوں میں کوئی مسئلہ ہو، تو عام طور پر چہل قدمی یا چڑھائی چڑھتے سینے کے سامنے والے حصّے میں درد یا بھاری پن ہونا، سانس پھولنا یا دل کا زیادہ تیزی سے دھڑکنا عام علامات ہیں۔ ایسی صُورت میں ماہرِ امراضِ قلب سے فوری طور پر رجوع کرنا ضروری ہے، جو حسبِ ضرورت مختلف ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دے سکتے ہیں، تاہم اصل طریقۂ تشخیص انجیو گرافی ہی ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ رگوں کی کیا کیفیت ہے، کتنی رگیں بند اور کس قدر بند ہیں۔

تشخیص کے بعد باقاعدہ علاج کا آغاز کیا جاتا ہے، جو عُمر، صحت اور مختلف بیماریاں مدّ ِنظر رکھتے ہوئے الگ الگ ہوتا ہے، لیکن عام طور پر اگر دل کی رگیں ایک یا دو مخصوص مقامات سے بند ہوں، تو انجیو پلاسٹی اور اسٹنٹ ڈالنا بہتر ہے، جب کہ اگر تینوں رگیں بند ہوں، تو پھر بائی پاس سرجری کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بائی پاس سرجری کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ دیرپا ہوتی ہے۔

خصوصاً ذیابطیس کے مریضوں یا جن کا دل کم زور ہو گیا ہو یا جن میں رگوں کی بیماری زیادہ ہو، جسے’’ڈیفیوز ڈیزیز‘‘ کہتے ہیں، ان کے لیے سرجری ہی بہتر متبادل ہے۔ کام یاب بائی پاس کے بعد عام طور پر مریض سات دنوں میں کافی بہتر ہو جاتا ہے۔ چار سے چھے ہفتوں میں ایسے کام کرسکتا ہے، جن میں وزن نہ اُٹھانا پڑے، جب کہ چھے ہفتے کے بعد گاڑی یا موٹر سائیکل چلا سکتا ہے اور رفتہ رفتہ اپنی نارمل زندگی کی طرف لَوٹ سکتا ہے۔

(مضمون نگار، ڈاؤ یونی ورسٹی اسپتال، کراچی کے شعبۂ کارڈیک سرجری سے وابستہ ہیں)