نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کی تربیت اعلیٰ اخلاق، نظم و ضبط، خود اعتمادی، خدمتِ خلق اور حُبّ الوطنی سے معمور جذبات کے تحت کی جائے، تو یہ مستقبل میں مُلک و قوم کی ترقّی کے ضامن بنتے ہیں، جب کہ اسکاؤٹنگ ایک ایسی عالمی تربیتی تحریک ہے، جو گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے دُنیا بَھر میں نوجوانوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس تحریک کی بنیاد لارڈ رابرٹ بیڈن پاؤل نے 1907ء میں رکھی تھی اور آج دُنیا کے تقریباً ہر مُلک میں لاکھوں نوجوان اس سے وابستہ ہیں۔
دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن اور اسکاؤٹنگ کی صوبائی تنظیمیں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور اُنہیں باکردار شہری بنانے کے لیےمسلسل کوشاں ہیں۔ واضح رہے کہ اسکاؤٹنگ کا مقصد محض جنگلات میں رہنا یا خیمے نصب کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی تعمیر ہے کہ جو سچّا، دیانت دار، بااخلاق، ذمّےدار، محنتی، خُوددار، قانون کا پابند، محبِّ وطن اور ہمہ وقت دوسروں کی مدد پر آمادہ رہنے والا ہو۔ اسی طرح اسکاؤٹنگ کا نصب العین ’’ہمیشہ تیار رہو‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ پاکستان میں بھی اسکاؤٹنگ کی مختلف تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں، تو اس ضمن میں موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران پنجاب بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے مَری کے حسین، پُرفضا پہاڑی مقام، گھوڑا گلی میں قائم سمرٹریننگ سینٹرمیں منعقد ہونےوالا بوائے اسکاؤٹس کیمپ نوجوانوں کی عملی تربیت کا ایک بہترین نمونہ ہے۔
اس کیمپ میں ہر سال پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں اسکاؤٹس شریک ہوتے ہیں۔ سرسبز پہاڑوں، بلند و بالا درختوں، بادلوں سے ڈھکی چُوٹیوں اور دیگر حسین قدرتی مناظر سے مالا مال یہ دِل کش مقام تربیت کے ساتھ نوجوانوں کو فطرت کے قریب رہنے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ مذکورہ اسکاؤٹنگ کیمپ کے شب و روز نظم و ضبط کی عملی تصویر ہوتے ہیں۔
کیمپ میں رہنے والے اسکاؤٹس صُبح سویرے بےدار ہوتے ہیں۔ نمازِ فجر کی ادائی کے بعد ورزش کی جاتی ہے۔ پھر پرچم کُشائی کے بعد ناشتے کا اہتمام ہوتا ہے۔ اگلے مرحلے میں تربیتی کلاسز کا آغاز ہوتا ہے اور پھر اسکاؤٹس مختلف عملی مشقوں، کھیل کُود، ہائیکنگ، شام کی پریڈ اور رات کو کیمپ فائر میں حصّہ لیتے ہیں۔ کیمپ میں ہرسرگرمی مقرّرہ وقت پرانجام دی جاتی ہے، تو یہ معمولات نوجوانوں میں وقت کی پابندی، احساسِ ذمّےداری اور اجتماعی نظم کا شعور پیدا کرتے ہیں۔
تربیتی سرگرمیوں میں نوجوانوں کو خیمہ نصب کرنے کی جدید تیکنیک، رسیوں کااستعمال، ابتدائی طبّی امداد، نقشہ خوانی، سمت شناسی، جنگلات میں بقا، قدرتی آفات کے دوران امدادی خدمات، ہائیکنگ، جسمانی فٹ نیس، ڈِرل اور پریڈ کے طریقے مختلف طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے نوجوان عملی زندگی میں درپیش مشکلات کا مقابلہ کرنےکا حوصلہ اور مہارت حاصل کرتے ہیں۔ اسکاؤٹنگ کیمپ میں ٹیم ورک پر بھی خصوصی توجّہ دی جاتی ہے۔
ہر پیٹرول اپنے خیمے کی صفائی، کھانے پینے کے انتظامات، وقت کی پابندی اور اجتماعی ذمّے داریوں کا خُود خیال رکھتا ہے۔ اس سے نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیت، باہمی تعاون کا جذبہ اور اجتماعی سوچ فروغ پاتی ہے۔ علاوہ ازیں، مری کی پہاڑی پگڈنڈیوں پر کی جانے والی ہائیکنگ نوجوانوں کے لیے ایک یادگار تجربہ ثابت ہوتی ہے کہ یہ عمل محض پیدل سفر نہیں ہوتا بلکہ صبر، برداشت، جسمانی قوّت اور قدرتی ماحول سے محبّت کا سبق بھی دیتا ہے۔
ہائیکنگ کے دوران اسکاؤٹس کو درختوں، جنگلات، جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کے تحفّظ کی اہمیت سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ ماحول دوست شہری بن سکیں۔ مزید برآں، کیمپ فائر ہر اسکاؤٹ کی زندگی کا ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہوتا ہے۔ رات کے وقت تمام اسکاؤٹس الاؤ کےگرد جمع ہوکرملی نغمے، ٹیبلوز، خاکے، مزاحیہ پروگرامز، تقاریر اور ثقافتی پرفارمینس پیش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مختلف اضلاع سے آئے نوجوان ایک دوسرے کی زبان، ثقافت اور روایات سےواقف ہوتے ہیں، جس سے قومی یک جہتی اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔
واضح رہے، اسکاوٹنگ صرف جسمانی تربیت نہیں بلکہ کردار سازی کا ایک مکمل نظام ہے۔ روزانہ منعقد ہونے والی اخلاقی تربیت کی نشستوں میں دیانت داری، سچّائی، والدین و اساتذہ کے احترام، خدمتِ خلق، قانون کی پاس داری، رواداری، برداشت، مذہبی ہم آہنگی اورقومی ذمّےداری جیسے موضوعات پرگفتگو کی جاتی ہے۔ اس دوران نوجوانوں کو بتایا جاتا ہے کہ اصل کام یابی اچّھے کردار میں پنہاں ہے۔
سمر ٹریننگ سینٹر میں تجربہ کار اسکاؤٹس اورتربیت یافتہ انسٹرکٹراپنی عملی زندگی کے تجربات نوجوانوں سے شیئر کرتے ہیں۔ وہ صرف تربیت نہیں دیتے بلکہ اپنےکردار، سادگی، خدمت اور اخلاص سے ایک عملی مثال بھی ثابت ہوتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب نوجوان موبائل فونز پر بےجا اسکرولنگ سمیت دیگر غیر صحت مندانہ اور غیر مفید سرگرمیوں میں اپنا زیادہ تروقت گزار رہے ہیں، اسکاؤٹنگ کیمپس انہیں ایک بہترین مثبت متبادل فراہم کرتے ہیں۔
ان کیمپس میں وہ خود انحصاری، اجتماعیت، برداشت، نظم وضبط اوردوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی عادات سیکھتے ہیں۔ پھر کیمپ کے آخری روز رنگارنگ تقریبِ تقسیمِ انعامات منعقد ہوتی ہے، جس میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اسکاؤٹس کو اسناد، بیجز، شیلڈز اور ٹرافیز دی جاتی ہیں۔ یہ اعزازات نوجوانوں کے لیے صرف انعام ہی نہیں ہوتے، ان میں محنت اورخدمتِ خلق کےجذبات پروان چڑھانےکا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
اسکاؤٹنگ کی ایک اور بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ نوجوانوں کو عملی زندگی میں ایک ذمّےدار شہری بننے کی ترغیب دیتی ہے۔ قدرتی آفات، حادثات یا ہنگامی حالات میں اسکاؤٹس سب سے پہلے امدادی سرگرمیوں میں حصّہ لیتے ہیں اور یہی جذبہ اُنہیں معاشرے کا مفید فرد بناتا ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ پاکستان کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں اسکاؤٹنگ کو مزید فروغ دیا جائے، کیوں کہ اگر ہرطالبِ علم کو اسکاؤٹنگ کی تربیت اور ایسے کیمپس میں شرکت کا موقع ملے، تو یقیناً ہماری نوجوان نسل نظم وضبط، اعلیٰ کردار، قیادت، حُبّ الوطنی اور خدمتِ خلق جیسی اعلیٰ صفات سے آراستہ ہو کر مُلک کی ترقّی میں بھرپور کردار ادا کرسکتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ عمومی اسکاؤٹس کے لیےمَری کےخُوب صُورت پہاڑوں کےبیچ گزارےیہ چند دن ایک ایسا تجربہ ثابت ہوتے ہیں کہ جس کے تحت سیکھے جانے والے خُوداعتمادی، ذمّےداری، دوستی، برداشت، خدمت اور قیادت کے اسباق عُمربَھر اُن کے ساتھ رہتے ہیں اور یہی اسکاؤٹنگ کا اصل مقصد اور کام یابی ہے کہ وہ اچّھے طلبہ کے ساتھ باکردار، ذمّے دار اور محبِّ وطن پاکستانی بھی تیار کرے۔