کوہ پیمائی جسے عموماً اسپورٹس میں شمار کیا جاتا ہے کوئی آسان گیم نہیں بلکہ یہ جاں ہتھیلی پر لئے پھرنےکے مترادف ہے۔ اسکے باوجود انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ کٹھنائیوں سے نبردآزما رہتا ہے ۔ 30جولائی 2026ءکو بلترو شگر میں براڈ پیک سے ایک اندوہناک خبر آئی اور وہ Nirmal Purja اور اس کے ساتھی کوہ پیماؤں سے متعلق تھی ۔ مختلف ملکوں کے کوہ پیماؤں کی دس رکنی ٹیم جسکی قیادت نرمل پرجا کررہے تھے وہ براڈ پیک کو سر کرنے جا رہی تھی ۔لیکن یہ ٹیم کیمپ ٹو سے اوپر پیش قدمی کے دوران اچانک سرک کر گرنے والے برفانی تودے کی نذر ہوگی۔ اس طرح لمحہ بھر میں دس مشہور کوہ پیما جن کا تعلق چین، عمان ، امریکہ، پاکستان اور نیپال سے تھا براڈ پیک کی اونچائی میں کہیں بکھر گئے جن میں دو خواتین ممبر بھی تھیں۔
براڈ پیک کے اس تازہ حادثے نے سب کی آنکھیں پرنم کر دی ہیں۔ اس ٹیم میں نیپال کے مشہور زمانہ Nirmal Purja تھے ، ابھی جوان تھے مگر کیا شاندار کیریئر تھا پڑھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ان کے بارے میں ماؤنٹین کلچر کی وائس پریزیڈنٹ Bernadette McDonald کی 2024 میں شائع شدہ کتاب Alpine Rising میں ایک باب The Nimsdai Effect کے عنوان سے موجود ہے جسے میں پہلے پڑھ چکا تھا۔ اس حادثے کے بعد نرمل پرجا کی آٹو بائیوگرافی Beyond Possible ڈائون لوڈ کی اور اس کے چند اہم ابواب پڑھے تو عزم وہمت کی ایک انوکھی داستان سے واسطہ پڑا۔
نرمل پرجا نیپال کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے، اس کے چار بھائی اور ایک بہن ہے۔ والد گورکھا فوج میں ملازم تھے اور گھریلو ضروریات کو مشکل سے پورا کرتے تھے ایسے میں ان کی والدہ بھی کام کاج کر کے نان و نفقہ کی فراہمی میں اپنی حصہ ڈالتی تھی۔ بعد ازاں اس کے بھائی گورکھا فوج میں بھرتی ہوئے تو گھر کی حالت کچھ بہتر ہوئی اور نرمل کو پڑھنے میںآسانی ہوئی۔ نرمل نے اٹھارہ سال کی عمر میں گورکھا سپاہی کیلئے ٹیسٹ د یا مگر وہ مسترد ہوگئے۔ اسکی دلی خواہش تھی کہ وہ گورکھا سپاہی بنے کیونکہ بقول اس کے اس میں عزت، وقار اور بڑی حیثیت تھی۔
اس نے ہمت نہیں ہاری، سخت ورزش کی، دوڑ لگائی اور پھر اگلے ٹیسٹ میں اسے منتخب کئے جانے کی نوید ملی۔ اسکی یہی جواں ہمتی تھی کہ زندگی کے اگلے برسوں میں اس نے وہ کر دکھایا کہ ایک دنیا انگشت بہ دنداں رہ گئی۔ 2012ءمیں جب نرمل پرجا گورکھا رجمنٹ سے ترقی پاکر برطانوی ملٹری Elite میں گیا تو اسے ایورسٹ کے بیس کیمپ تک جانے کا موقع ملا اس وقت اسکی عمر انتیس سال تھی۔ وہیں پر پھر ایک دوست کے توسط سے مشہور نیپالی کوہ پیما اور گائیڈ Dorje Khatri سے رابطہ ہوا جس سے نرمل نے التجا کی کہ مجھے ایسا کچھ سکھائیں کہ ایورسٹ کی چوٹی تک جا پہنچوں یا ایورسٹ نہ سہی تو قریبی پہاڑ Ama Dablam ہی سر کر لوںجسکی اونچائی چھ ہزار فٹ سے کچھ زیادہ تھی۔ خیر Dorje نے اسے ایک اور Lobuche East پہاڑ سر کرنے میں مدددی۔ یہیںسے نرمل کی زندگی میں یکدم بدلاؤ آگیا اور گورکھا سپاہی کے اندر ایک جوان کوہ پیما نے جنم لیا۔
نرمل پرجا کو 2016ءمیں ماؤنٹ ایورسٹ جانے کا موقع ملا جب اسکی یونٹ نے اسے ایک ماہ کی چھٹی دی۔ پھر اس کے ذہن میں ایک انوکھا خیال آیا کہ کیوں نہ تین بڑی چوٹیوں ایورسٹ، Lhotse اور Makalu کو دو ہفتے میں زیر کیا جائے۔ اسکے یونٹ کے ساتھی اس بات پر خوش نہیں تھے کہ وہ اس طرح کی خطرناک مہم جوئی کی طرف جائے مگر اسکا جنون منزل اور اسکےدرمیان آنے والی کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لایا اور پھر تینوں پہاڑ اس کے قدموں تلے تھے۔ اس کو ملکہ برطانیہ نے آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (MBE) سے نوازا۔ وہ گورکھا سولجر بنا، برطانیہ کی رائل فوج کا حصہ بنا تین اونچے پہاڑ بھی سر کئے ، شادی ہوئی اور برطانیہ کے بڑے اعزاز سے بھی سرفراز ہوا مگر ایک خواہش دل میں چپک سی گئی کہ 8000میٹر سے اونچے پانچ پہاڑ 80 دنوں میں سرجائیں، اسکے یونٹ کے افسروں نے پاگل پن والی اس مجوزہ مہم جوئی کی حمایت اور چھٹی دینے سے انکارکردیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اس کے ایک فیصلے نے اس کی زندگی کا رخ بالکل بدل کر رکھ دیا۔ اس نے ایک لمحہ نہ سوچا، سود و زیاں کے گوشواروں کا حساب نہ کیااور فوراً نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔اب اس نے کچھ اور فیصلہ کیا کہ صرف پانچ پہاڑوں پر اکتفا کیوں 14 اونچے پہاڑوں کو ریکارڈ مدت میں سر کرنا ہے۔ سب اس پر ہنس پڑے اور اس مہم جوئی کو ناممکن کہا۔ نرمل کے سامنے ایک مقصد تھا کہ ان چودہ پہاڑوں کو کم سے کم ریکارڈ مدت میں سر کرناہےچاہے موسم کیسا ہی ہو۔ اس نے اس جنوں خیزی کا نام Nims-style رکھا اور اپنے مشن کو Project Possible کا نام دیا۔ غرض اپریل 2019 میں اس نے Annapurna سے اس جان جوکھوں میں ڈالنے والی مہم کا آغاز کیا اور اکتوبر 2019 کو تبت کاپہاڑ Shishapangma سر کرکے چھ ماہ چھ دن میں چودہ بلند پہاڑ سر کرنے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا جو کہ اب تک ناقابل تسخیر ہے۔
یہ سب تاریخ ہے مگر 2026 میں بلتستان میں موجود براڈ پیک کیلئے ایک مشترکہ ٹیم کے ساتھ قراقرم کی وادی میں جب اس نے اس قدم رکھا تو دل کچھ اور کہہ رہا تھا۔ اس نے اس چوڑے پہاڑ کو کئی بار سر کیا تھا اور اس کے نشیب و فراز اس کیلئے نئے نہیں تھے۔ عمان، پاکستان، امریکہ ، چین اور نیپال کے جواں سال کوہ پیما اس کے دست وبازو تھے اور سب پرعزم تھے۔ مگر اس بار براڈ پیک کے تیور ٹھیک نہیں تھے گو کہ بالکل خاموشی تھی مگر اسی میں ایک بڑا طوفان چھپا ہوا تھا۔ ابھی وہ سب کیمپ 2 سے آگے قدم بڑھا ہی رہے تھے کہ منجمد برف نے زوردار انگڑائی لی اور لمحہ بھر میں زندگی خواب و خیال میں بدل گئی۔ نرمل پرجا ،جو دوستوں میں Nimsdai (برادر) کے نام سے مشہور تھا ،برف میں کہیں کھو گیا۔