• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے دنوں ملک کے مختلف تعلیمی بورڈز کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے نتائج سامنے آئے، جن میں بیشمار طلبہ نے تقریباً سو فیصد نمبر حاصل کیے۔ یہ نتائج دیکھ کر فوراً خیال آیا کہ موجودہ تعلیمی نظام میں او اور اے لیول کے طلبہ تو سراسر خسارے میں ہیں۔ ثانوی تعلیم میں اہم انتخاب سامنے آتا ہے: میٹرک اور ایف ایس سی کا روایتی بورڈ نظام یا کیمبرج کا او اور اے لیول۔ خاندان کیمبرج نظام اس امید پر چنتے ہیں کہ تصوراتی فہم، تجزیاتی سوچ اور عملی اطلاق پر مبنی تعلیم بچوں کو جدید دنیا کیلئے تیار کریگی۔ مگر یہی سند پاکستان کی جامعات، خصوصاً میڈیکل اور انجینئرنگ کے داخلوں میں کبھی عددی نقصان بن جاتی ہے۔یہ بحث نہیں کہ اے لیول کے طلبہ زیادہ ذہین یا ایف ایس سی کے طلبہ کم صلاحیت رکھتے ہیں، دونوں بہترین طلبہ پیدا کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ مختلف نصاب اور مارکنگ سسٹمز کو ایک ہی عددی پیمانے پر رکھنا ہے۔ او اور اے لیول کے طلبہ کو انٹر بورڈز کوآرڈی نیشن کمیشن، یعنیIBCC، سے ایکویویلنس لینا پڑتی ہے جہاں گریڈ پاکستانی SSCاور HSSC نمبروں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا دو مختلف نظاموں کے اعداد واقعی ایک ہی چیز کی پیمائش کرتے ہیں؟یہ فرق تب فیصلہ کن ہوتا ہے جب سرکاری میڈیکل یا انجینئرنگ اداروں میں داخلہ اعشاریہ پوائنٹس سے طے ہو۔ مقامی بورڈز میں 1098بلکہ 1100میں سے 1100جیسے نتائج سامنے آچکے ہیں، جبکہ کیمبرج امیدوار میرٹ میں اصل گریڈ نہیں بلکہ تبدیل شدہ ایکویویلنس کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔ یوں چند فیصد فرق بھی میرٹ لسٹ میں بڑا فاصلہ پیدا کرسکتا ہے۔اس تضاد کی مثال 2021ء کے کووڈ دور میں سامنے آئی۔ خصوصی امتحانی پالیسی سے مختلف تعلیمی بورڈز میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ نے 100فیصد تک نمبر حاصل کئے۔ اسی سال IBCCنے کیمبرج امیدواروں کیلئے خصوصی رعایت دیتے ہوئے A+کی قدر 93 سے بڑھا کر 94 فیصد کی۔ یعنی ایک نظام میں بڑی تعداد میں طلبہ 100فیصد حاصل کررہے تھے، جبکہ دوسرے نظام کی اعلیٰ ترین کارکردگی بھی نسبتاً کم عددی قدر میں تبدیل ہورہی تھی۔ بعدازاں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور نے آئینہ دکھایا۔ GCUنے اپنا انٹری ٹیسٹ اور انٹرویو متعارف کرایا تو اخباری رپورٹس کے مطابق مکمل نمبر لینے والے امیدوار مطلوبہ معیار حاصل نہ کرسکے۔ اس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے مختلف بورڈز کے مارکنگ معیار میں فرق پر سوال اٹھایا۔ اگر 100فیصد بورڈ نمبر ایک آزاد امتحان میں اسی سطح کی قابلیت کی ضمانت نہیں تو انہیں دوسرے نظام کے تبدیل شدہ نمبروں پر فیصلہ کن برتری کیوں حاصل ہو؟یہ مسئلہ میڈیکل داخلوں میں نمایاں ہے۔ موجودہ PMDCطریقۂ کار کے مطابق سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے میرٹ میں MDCATکے 50 فیصد، ایف ایس سی یا مساوی سند کے 40فیصد اور میٹرک یا مساوی سند کے 10 فیصد نمبر شامل ہوتے ہیں۔ گویا نصف میرٹ انہی تعلیمی نمبروں اور ایکویویلنس سے جڑا ہے۔ چنانچہ اے لیول طالبعلم انٹری ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کے باوجود پہلے سے موجود عددی فرق کا مکمل ازالہ نہ کرپائے تو سرکاری میڈیکل کالج کی نشست کھو سکتا ہے۔ یہ مخمصہ میڈیکل تک محدود نہیں۔ انجینئرنگ اور کمپیوٹنگ میں UETکا ECAT، NUST کا NETاور دیگر جامعات کے امتحانات بھی اس مسئلے سے جڑے ہیں۔ ہر ادارے میں نمبروں اور انٹری ٹیسٹ کا تناسب مختلف ہے۔ کیمبرج تصور، تجزیے اور اطلاق پر زیادہ زور دیتا ہے، جبکہ بیشتر پروفیشنل انٹری ٹیسٹ انٹرمیڈیٹ یا مساوی نصاب اور MCQطرز پر ہوتے ہیں۔ یوں اے لیول طالبعلم کو دو مختلف امتحانی زبانوں کی تیاری کرنا پڑتی ہے۔میرے لیے یہ تعلیمی بحث نہیں، ذاتی تجربہ بھی ہے۔ 2002 ء میں میری بیٹی نے او اور اے لیول کے تمام مضامین میں Aگریڈ حاصل کیے۔ اس کا ارادہ ڈاکٹر بننے کا تھا۔ اس نے اسکے باوجود میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ ہمیں توقع تھی کہ اسے کنگ ایڈورڈ، فاطمہ جناح یا علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ مل جائیگا، مگر اے لیول ایکویویلنس نے مجموعی میرٹ اتنا نیچے کردیا کہ وہ لاہور کے میرٹ سے رہ گئی اور اسے قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور میں نشست ملی۔ اس نے وہ نشست قبول نہیں کی۔اس نے راستہ بدل کر LUMSمیں داخلہ لیا، بعدازاں آسٹریلیا سے ڈیٹا سائنس میں ماسٹرز کیا اور آج ڈیٹا سائنس کی ایک کامیاب کنسلٹنٹ ہے۔ ایک باپ کی حیثیت سے مجھے اس کی کامیابی پر فخر ہے، لیکن مگر سوال باقی ہے۔ صلاحیت ضائع نہیں ہوئی مگر پاکستان کے سرکاری طبی نظام نے ایک ایسی طالبہ کھو دی جو ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ بہت سے طلبہ مہنگے نجی اداروں یا بیرونِ ملک جامعات کا رخ کرتے ہیں۔ یوں تعلیمی اخراجات کی صورت میں سرمایہ بھی باہر جاتا ہے اور مستقل قیام کی صورت میں ذہانت بھی۔ حل کسی ایک نظام کو فوقیت دینا نہیں بلکہ مقابلے کا میدان برابر کرنا ہے۔ IBCCکو سائنسی percentile-based normalization اپنانا چاہئے تاکہ ایک نظام کے اعلیٰ طالب علم کا تقابل دوسرے نظام کے اسیpercentileسے ہو۔ قومی انٹری ٹیسٹ curriculum-neutral ہوں اور رٹے یا مخصوص کتابی عبارت کے بجائے بنیادی تصورات، سائنسی استدلال، ڈیٹا کی تشریح اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت جانچیں۔ جہاں دو نظاموں کے نمبروں کا کامل تقابل ممکن نہ ہو وہاں ایک معیاری مشترکہ انٹری ٹیسٹ حقیقی equalizer بن سکتا ہے۔ پاکستان کو دونوں نظاموں کی ضرورت ہے۔ میٹرک اور ایف ایس سی قومی تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد ہیں اور او اور اے لیول نوجوانوں کو عالمی تعلیمی معیار سے جوڑتے ہیں۔ مسئلہ نظام میں نہیں، پیمائش کے طریقے میں ہے۔ اصول سادہ ہونا چاہئے:ایکویویلنس صرف کاغذ پر مساوات نہ ہو بلکہ عملی طور پر بھی مساوی موقع دے۔ جب تک ایک بہترین اے لیول اور ایک بہترین ایف ایس سی طالبعلم ایسے میدان میں مقابلہ نہیں کرسکتے جہاں کسی کو محض نظام کی ریاضی فائدہ یا نقصان نہ پہنچائے، ہمارے داخلہ نظام کی یہ ساختی خامی برقرار رہے گی۔

تازہ ترین