قومی حکومت اور ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے درمیان فرق الفاظ کا نہیں ہے۔ یہ اُس چیز کے درمیان فرق ہے جو زندہ رہ سکتی ہے اور اُس چیز کے درمیان جو زندہ نہیں رہ سکتی۔آئینی مسئلے سے آغاز کیجیے، کیونکہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا اس بحث میں تقریباً کبھی ذکر ہی نہیں ہوتا ۔ پاکستان صدارتی نظام نہیں چلاتا جس میں سربراہِ مملکت ماہرین کی کابینہ مقرر کرے اور اُنہیں حکومت کرنے بھیج دے۔ ہم جماعتی بنیادوں پر قائم پارلیمانی نظام چلاتے ہیں۔ آرٹیکل اکانوے کے تحت وزیراعظم کو قومی اسمبلی اپنے ہی اراکین میں سے منتخب کرتی ہے۔ اُسے چنا نہیں جاتا۔ اُسے کسی بیرونی اتھارٹی کی طرف سے نامزد کر کے توثیق نہیں دی جاتی۔ اُسے وہ لوگ منتخب کرتے ہیں جو خود منتخب ہو کر آئے تھے، اور وہ اپنے منصب پر صرف اُس وقت تک رہتا ہے جب تک وہی لوگ اُسے اپنا اعتماد دیتے رہیں۔ ٹیکنوکریٹ، بہ تعریف، اُس اسمبلی کا رکن نہیں ہوتا۔ اسلئے وہ وزیراعظم بن ہی نہیں سکتا جب تک پہلے رکن نہ بن جائے، جس کیلئے یا تو ضمنی انتخاب چاہیے یا کوئی نشست جو اُس کیلئے خالی کی جائے، اور اُس لمحے وہ ٹیکنوکریٹ نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا سیاستدان بن جاتا ہے جس پر قرض چڑھ چکا ہے۔آئین یہ اجازت ضرور دیتا ہے کہ غیر اراکین کو وفاقی وزیر مقرر کیا جائے، لیکن یہ اجازت صرف چھ ماہ کیلئے ہے۔ چھ ماہ کے بعد ایسا وزیر اپنے عہدے سے فارغ ہو جاتا ہے اگر وہ اُس وقت تک مجلسِ شوریٰ کا رکن نہ بن چکا ہو۔ چھ ماہ کوئی استحکامی پروگرام نہیں ہوتا۔ چھ ماہ میں تو مشکل سے فائلیں ہی پڑھی جا سکتی ہیں۔یہ قانونی اعتراض ہے۔ سیاسی اعتراض اس سے بڑا ہے۔ٹیکنوکریٹ کے پاس کوئی حلقہ نہیں ہوتا۔ اُسے ووٹ کے ذریعے سزا نہیں دی جا سکتی اور اسلئے وہ کسی سے صبر کا تقاضا نہیں کر سکتا۔ یہ بات اُس وقت تک خوبی معلوم ہوتی ہے جب تک آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ معاشی استحکام دراصل کیا مانگتا ہے۔ وہ یہ مانگتا ہے کہ کوئی رحیم یار خان کے کسان سے کہے کہ اُس کی بجلی اب مہنگی ہو گی، اور یہ بات اِس انداز میں کہے کہ اُس میں یہ خاموش وعدہ شامل ہو کہ وہ لوٹ کر اُسی کسان کا سامنا دوبارہ کرے گا۔ وہ یہ مانگتا ہے کہ کوئی کراچی کے تنخواہ دار طبقے کو سمجھائے کہ وہ ایک بار پھر وہ بوجھ کیوں اٹھا رہا ہے جس سے تجارت اور جائیداد کے شعبے مسلسل بچ نکلتے ہیں، اور یہ بات کسی موقف پر کھڑے ہو کر کہے۔ وزارتِ خزانہ حساب کتاب پیش کر سکتی ہے۔ اُس حساب کتاب سے پیدا ہونے والا غصہ صرف ایک سیاستدان جذب کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں قابل آدمیوں کی کبھی کمی نہیں ہوئی۔ ان تمام تجربات میں جو چیز ہمیشہ غائب رہی وہ جواز اور قبولیت تھی۔اور ہم یہ تجربے پہلے بھی کر چکے ہیں، ایک سے زیادہ بار، مختلف لباس پہن کر۔ معین قریشی انیس سو تراسی میں ایک بین الاقوامی شہرت کیساتھ تشریف لائے اور اصلاحات کا ایک ایسا مجموعہ پیش کیا جسے بیرونِ ملک بہت سراہا گیا اور جو اٹھارہ مہینوں کے اندر تقریباً مکمل طور پر واپس لے لیا گیا، کیونکہ جن لوگوں کو وہ ورثے میں ملیں اُن پر انکا کوئی احسان نہیں تھا۔ شوکت عزیز حقیقی بینکاری صلاحیت لے کر پہلے وزارتِ خزانہ اور پھر وزیراعظم ہاؤس پہنچے، اور اُن برسوں کی نمو، اُسکے بارے میں آپ جو بھی رائے رکھیں، پہلے سیاسی طوفان کا سامنا کرتے ہی ختم ہو گئی، کیونکہ وہ ایک بندوبست پر کھڑی تھی، کسی مینڈیٹ پر نہیں۔تو میرے مطالعے میں جو چیز دراصل راستے میں ہے وہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت نہیں ہے۔ وہ ایک قومی حکومت ہے۔یہ بالکل مختلف چیز ہے۔ قومی حکومت کا مطلب یہ ہے کہ جو جماعتیں پہلے ہی اسمبلی کے اندر موجود ہیں وہ اُس مفاہمت کو باقاعدہ شکل دیدیں جو اِس وقت لین دین پر مبنی اور قدرے شرمیلی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی باہر سے حمایت کرنا چھوڑ دے، جہاں اُسے خطرے کے بغیر اثر و رسوخ حاصل ہے، اور اندر آ جائے، جہاں وہ وزارتیں، ذمہ داری اور الزام ایک ہی پیکٹ میں قبول کرے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آئینی زنجیر ٹوٹے نہیں، اسمبلی چلتی رہے، وزیراعظم ایوان کے سامنے جوابدہ رہے، اور مشکل فیصلوں کی قیمت ایک ہی سیاسی خاندان پر مرتکز ہونے کے بجائے ایک سے زیادہ خاندانوں میں تقسیم ہو جائے۔ ٹیکنوکریٹ کابینہ ساری ناراضی جمع کر کے اُن آدمیوں کے حوالے کر دیتی ہے جن میں اُسے اٹھانے کی کوئی سکت نہیں۔ قومی حکومت وہی ناراضی اُن آدمیوں میں بانٹ دیتی ہے جنکے پاس اسے اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی اندر ہیں اور اب انکار نہیں کر سکتے۔موجودہ سیٹ اپ دو ہزار چوبیس کے آغاز میں تقریباً ہر پیش گوئی کے برخلاف اتنا عرصہ کیوں چلا؟ جواب نظریاتی نہیں ہے۔ یہ مزاجی ہے۔شہباز شریف تصادم پیدا نہیں کرتے۔ وہ سنتے ہیں۔ وہ جذب کرتے ہیں۔ وہ اُسی ماڈل کے اندر رہ کر کام کرتے ہیں جو ادارے چلانا چاہتے ہیں، بجائے اسکے کہ اُس کے کناروں کو مسلسل آزماتے رہیں۔اب آصف علی زرداری پر غور کیجیے، کیونکہ اُنکی پوزیشن ہی اسکے بعد کی ہر چیز طے کرتی ہے۔اُنکے پاس کوئی راستہ باقی نہیں، اور یہ قیاس نہیں بلکہ سادہ حساب کتاب ہے۔ اگر وہ حمایت واپس لیتے ہیں تو وہ عین اُس لمحے قومی اتفاقِ رائے کو توڑتے ہیں جب یہی اتفاق ملک کا سب سے بڑا بیرونی اثاثہ بن چکا ہے۔ اور وہ یہ کام اُس وقت کرینگے جب وہ فائلیں جو دراصل کبھی بند نہیں ہوئیں اُن الماریوں میں پڑی ہیں جنہیں لوگ دوبارہ کھول سکتے ہیں۔ وہ اتنے تجربہ کار کھلاڑی ہیں کہ ایسا تصادم شروع نہیں کرینگے جسکا واحد یقینی نتیجہ اُنکے اپنے اثاثوں کی نمائش ہو۔بلاول زیادہ دلچسپ مسئلہ ہیں۔ وہ خوش بیان ہیں۔ اچھا تاثر چھوڑتے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ماحول میں وہ بغیر نوٹس کے روانی سے بات کرتے ہیں، جو کوئی معمولی بات نہیں۔ لیکن روانی وزن نہیں ہوتی۔ کسی بڑے منصب کا جو تقاضا سنجیدگی کا ہے وہ ابھی اُن میں پیدا نہیں ہوا۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ اُنہیں نرمی کیساتھ انتظامی مرکز سے ہٹا دیا جائے گا جبکہ بھٹو کا نام وہی علامتی کام کرتا رہیگا جو وہ ہمیشہ سے اُس جماعت کیلئے کرتا آیا ہے۔ جماعت شامل ہو گی۔ خاندان قابلِ احترام، کارآمد اور کچھ کچھ آرائشی رہے گا۔ صورتِ حال کی شکل یہی ہے، اور میں یہ بات بغیر کسی بغض کے کہہ رہا ہوں۔یہ سارا داخلی بندوبست ایک ایسی حکمتِ عملی کی چھت کے نیچے ہو رہا ہے جو گزشتہ اٹھارہ مہینوں میں پچھلے تیس برسوں سے زیادہ بدل چکی ہے، اور یہی چھت اصل وجہ ہے کہ نظام کو تبدیل کرنے کے بجائے مضبوط کیا جا رہا ہے۔ جب کوئی ڈھانچہ وزن اٹھا رہا ہو تو اُسے کوئی نہیں گراتا۔ ایک وسیع تر، زیادہ مفاہمتی اور زیادہ شمولیتی حکومت اب محض مطلوب نہیں رہی۔ وہ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ہماری بیرونی پوزیشن ہماری داخلی پوزیشن سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے اور یہ خلا غیر معینہ مدت تک قائم نہیں رہ سکتا۔ کوئی ملک دوسروں کی سلامتی کی ضمانت اُس وقت نہیں دے سکتا جب اُس کی اپنی کابینہ گیارہ ووٹوں کی اکثریت پر حکومت کر رہی ہو۔