پاکستان کی سیاست میں جب بھی برف پگھلنے یا سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، تو کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ یا بیانیہ سامنے آ جاتا ہے جو معاملے کو دوبارہ پہلی جگہ پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ چند روز قبل جب سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کے طبی معائنے اور اسپتال منتقلی کی خبریں سامنے آئیں، تو سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین نے اسے ایک منفی فضا میں مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا تھا۔ یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ شاید ریاست اور اپوزیشن کے درمیان طویل عرصے سے جاری محاذ آرائی میں کمی آئے گی اور یہ طبی سہولت ایک ممکنہ سیاسی رابطے یا اعتماد سازی کا پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن بانیِ پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی پریس کانفرنس کے بعد یہ تاثر ایک بار پھر شدید خدشات کی زد میں آ گیا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے پریس کانفرنس میں جیل انتظامیہ، حکومت اور ریاستی اداروں کے رویے پر سخت تنقید کی اور ان کے بیانات سے مفاہمت کے بجائے ایک بار پھر شدید تلخی اور اشتعال کی بو آ رہی ہے۔ انہوں نے مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ بانیِ پی ٹی آئی کے ساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عدالت نے انسانی اور قانونی بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا تھا اور حکومتی و انتظامی سطح پر بھی ایک درمیانی راہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، اس قسم کے بیانات نے مفاہمت کی تمام امیدوں پر سائے افگن کر دیے ہیں۔یہاں یہ سوال اٹھانا انتہائی ضروری ہے کہ کیا اپوزیشن رہنماؤں، ان کے وکیلوں اور اہل خانہ کا یہ اندازِ گفتگو عمران خان کی مشکلات میں کمی لا رہا ہے یا ان میں مزید اضافہ کر رہا ہے؟ گزشتہ کئی ماہ سے یہ شکایت عام رہی ہے کہ جب بھی بانیِ پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں یا وکلا کی ملاقات کروائی جاتی ہے، تو وہ باہر آ کر ذرائع ابلاغ کے سامنے ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے خوف و ہراس، بے یقینی اور سیاسی انتشار پھیلتا ہے۔ ادارے اکثر اس اندیشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ ملاقاتوں کو سیاسی ایجنڈے اور ریاست مخالف بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی تازہ پریس کانفرنس نے اس اندیشے کو مزید تقویت دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ شاید حکومت اور ادارے جن خدشات کی بنیاد پر ملاقاتوں میں احتیاط برتتے تھے، وہ بالکل بے بنیاد نہیں تھے۔
اگر ہم عالمی تاریخ اور سیاسی تنازعات کی حل کی کوششوں کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جب بھی دو فریقین کے درمیان دہائیوں پر محیط کشمکش ختم ہوتی ہے، تو اس کے لیے دونوں طرف سے صبر، تحمل اور محتاط زبان کا استعمال بنیادی شرط ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے 27 سال جیل میں کاٹے، لیکن جب انہیں سہولیات دی گئیں اور مذاکرات کا باب کھلا، تو انہوں نے یا ان کے حامیوں نے سیاسی انتقام یا اشتعال انگیزی کے بجائے امن اور مفاہمت کا راستہ چنا۔ اسی طرح شمالی آئرلینڈ یا کولمبیا کے تنازعات میں بھی سیاسی قیادت اور ان کے نمائندوں نے اپنے رویوں میں لچک دکھائی اور الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتی تاکہ بات چیت کے بند دروازے کھل سکیں۔
پاکستان کے موجودہ سیاسی و معاشی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملک کو مسلسل تصادم کے ماحول سے نکالا جائے۔ ملک کو معاشی استحکام، آئی ایم ایف کے پروگرامز، بین الاقوامی سرمایہ کاری اور امن و امان جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں اگر سیاسی قیادت یا ان کے قریبی افراد محض سیاسی تحرک کی خاطر ایسے بیانات دیں گے جن سے ریاستی اداروں کے ساتھ رنجشیں مزید بڑھیں، تو اس کا نقصان نہ صرف ملک کو ہوگا بلکہ خود بانیِ پی ٹی آئی کے لیے بھی قانونی اور انتظامی سطح پر آسانیاں پیدا ہونے کا راستہ بند ہو جائے گا۔
عمران خان کے اہل خانہ، خصوصاً ان کی بہنوں اور تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جذباتی بیانیے اور میڈیا کے سامنے سخت باتوں سے وقتی طور پر خبریں تو بن سکتی ہیں اور کارکنوں کا جذبہ بھی ابھارا جا سکتا ہے، لیکن اس سے پائیدار اور قانونی حل ہرگز ممکن نہیں ہوتا۔ جب آپ ریاست کے اداروں پر براہِ راست سنگین الزامات عائد کرتے ہیں اور مقابلے کی فضا قائم کرتے ہیں، تو ادارے بھی دفاعی موقف اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کا نتیجہ بالآخر قانونی کارروائیوں میں سختی اور سیاسی تعطل کی صورت میں نکلتا ہے۔ڈاکٹر عظمیٰ خان اور تحریک انصاف کی قیادت کا فرض بنتا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے طبی ریلیف کو اعتماد سازی کا پہلا قدم بناتے اور میڈیا کے سامنے ذمہ دارانہ گفتگو کرتے۔ ان کا کام یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ عمران خان کی صحت کی بہتر دیکھ بھال، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور سیاسی ماحول کو خوشگوار بنانے پر زور دیتے۔ اس کے برعکس، ’’ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے‘‘اور تحریک کو تیز کرو جیسے جملے سیاسی فضا کو پرسکون کرنے کے بجائے اس میں مزید پیٹرول ڈالنے کا کام کرتے ہیں۔
موجودہ صورتِ حال میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا عمران خان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ان کے خاندان اور پارٹی کی ترجیح ہے یا سیاسی درجہ حرارت کو مسلسل نقطہِ عروج پر رکھنا؟ اگر مقصد بانیِ پی ٹی آئی کی رہائی، صحت کی دیکھ بھال اور معقول سیاسی حل ہے، تو پھر ایسی گفتگو اور طرزِ عمل سے فوری طور پر اجتناب کرنا ہوگا جو ریاستی اداروں اور حکومت کو مزید سخت اقدامات پر مجبور کرے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے جو ایک ممکنہ گنجائش اور راستہ بنتا نظر آ رہا تھا، وہ ایسی غیر محتاط اور سخت پریس کانفرنسز کی وجہ سے ضائع ہونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کے اہل خانہ اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کریں۔ اگر انہوں نے واقعی عمران خان کے لیے حالات کو بہتر بنانا ہے تو انہیں تصادم کے بجائے آئینی، قانونی اور معتدل اندازِ فکر اپنانا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، ایسے اقدامات سے نہ صرف ملاقاتوں اور سہولیات پر دوبارہ پابندیاں سخت ہو سکتی ہیں بلکہ پاکستان کی سیاست ایک بار پھر اسی بند گلی میں داخل ہو جائیگی جہاں سے واپسی کا راستہ کسی کے پاس نہیں ہوگا۔