تاریخ کی کتب میں بعض دن ایسے ہوتے ہیں جن کے حاشیے پر بظاہر ایک معمولی سا واقعہ درج ہوتا ہے مگر جب زمانہ آگے بڑھتا ہے اور مورخ پیچھے مڑ کر اس دن کو دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دن معمولی نہ تھا۔ کسی بڑے تغیر کی ابتدا تھا، کسی پرانی ترتیب کے اختتام اور کسی نئی ترتیب کے آغاز کا خاموش اعلان تھا۔
سات اگست 2026ء کا دن بھی شاید آنے والے مورخ کیلئے ایسا ہی ایک دن ہو۔جب مکہ مکرمہ کی مقدس فضا میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جبکہ اسی خطے کے دوسرے سرے پر جنگ کی آگ آبنائے ہرمز کے پانیوں پر اپنا عکس ڈال رہی تھی۔ ایک طرف بارود تھا۔ دوسری طرف میثاق مکہ ۔ایک طرف طاقت کا اظہار تھا۔دوسری طرف طاقت کو ایک نظم میں ڈھالنے کی کوشش ۔دونوں کے درمیان وہ مکہ تھا جس کی تاریخ محض پتھروں، گلیوں اور پہاڑوں کی تاریخ نہیں بلکہ انسانی حافظے کی سب سے روشن کتابوں میں سے ایک ہے۔
مکہ کو اگر ایک جدید شہر کے طور پر دیکھا جائے تو اس کی اصل معنویت آنکھ سے اوجھل رہ جائے گی کیونکہ مکہ وہ شہر ہے جہاں جغرافیہ تاریخ میں اور تاریخ عقیدے میں تبدیل ہوئی۔ کبھی یہاں ریت کے راستے تھے، سنگلاخ وادیاں تھیں، قافلے تھے، بازار تھے، قبیلے تھے اور وہ عرب معاشرہ تھا جس میں نسب، شجاعت، سخاوت، وفاداری اور قبائلی حمیت زندگی کے بنیادی پیمانے سمجھے جاتے تھے۔ کعبہ اس زمانے میں بھی موجود تھا اور عرب کے مختلف قبیلے اس کے گرد عبادت کیلئے آتے تھے۔ پھر اسی شہر کی ایک گلی سے ایک ایسی صدا بلند ہوئی جس نے عرب کے قبائلی دائرے کو توڑ کر اسے ایک عالمگیر تہذیبی تصور میں بدل دیا۔
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جب توحید کی دعوت دی تو مکہ کی گلیاں صرف ایک مذہبی پیغام کی گواہ نہ بنیں بلکہ انسانی تاریخ کے ایک ایسے انقلاب کی امین ہوئیں جس نے انسان کی شناخت کو قبیلے، رنگ، نسل اور جغرافیے سے بلند کرکے ایک اخلاقی اور روحانی وحدت سے وابستہ کر دیا۔
حرا کی خاموش پہاڑی، غار کی تنہائی، پہلی وحی کی ہیبت، شعبِ ابی طالب کی آزمائش، طائف کا سفر، ہجرت کی رات، مدینہ کی تعمیر اور پھر فتحِ مکہ کا وہ دن جب وہی شہر جو کبھی مخالفت اور اذیت کا مرکز تھا، رحمت اور عفو کے ایک غیر معمولی منظر کا گواہ بنا۔مکہ کی گلیوں میں آج جدید عمارتوں کے سائے ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے وسیع راستے ہیں اور جدید زمانے کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔
حرم کی طرف بڑھتے ہوئے انسان کے دل میں آج بھی وہی احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ کسی شہر میں داخل نہیں ہو رہا۔ تاریخ کے ایک ایسے مرکز میں قدم رکھ رہا ہے جہاں وقت اپنی رفتار کچھ دیر کے لیے دھیمی کر دیتا ہے۔اسی مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ ہونا اس لیے بھی معنی خیز ہے کہ ان تینوں ممالک کی اپنی اپنی تاریخ میں مکہ اور مسلم تہذیب سے نسبت کے الگ الگ ابواب موجود ہیں۔
سعودی عرب کیلئے یہ سرزمین ریاست کی سیاسی شناخت سے کہیں بڑھ کر اس کی روحانی اساس ہے۔ترکیہ کیلئے حجاز اور حرمین شریفین عثمانی عہد کی طویل تاریخ کی یاد دلاتے ہیں۔ جب صدیوں تک عثمانی سلطنت نے حجاز کے انتظام اور حرمین کی خدمت کو اپنے اقتدار کی ایک اہم ذمہ داری سمجھا۔وطن عزیز کیلئے مکہ وہ سمت ہے جس کی طرف اس کے قیام سے پہلے بھی اس خطے کے مسلمانوں کے دل متوجہ تھے اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی جس سے اس کی مذہبی اور تہذیبی وابستگی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
ترکیہ کی تاریخ بھی کسی ایک سلطنت یا ایک سلطان کی داستان نہیں بلکہ وسطی ایشیا کے میدانوں سے اناطولیہ کی وادیوں تک آنے والی اقوام، سلجوقی روایت، قسطنطنیہ کی فتح اور عثمانی عہد کی کئی صدیوں پر محیط ایک طویل تاریخی روداد ہے۔ 1453ء میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو ایک شہر کا نام تبدیل نہیں ہوا تھا۔ایک عہد کی سمت بدلی تھی۔ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک نیا سیاسی دروازہ کھلا تھا۔ آنیوالی صدیوں میں عثمانی سلطنت نے یورپ، ایشیا اور عرب دنیا کے درمیان ایک وسیع سیاسی و تہذیبی پل کی حیثیت اختیار کر لی۔ پھر پہلی جنگِ عظیم آئی۔
سلطنت کا چراغ بجھا، جدید ترکیہ وجود میں آیا اور مصطفیٰ کمال اتاترک کے عہد میں ریاست نے ایک بالکل نئی سمت اختیار کی۔آج کا ترکیہ اسی طویل تاریخ کا جدید ورق ہے۔ایک ایسا ملک جو یورپ کے دروازے پر بھی کھڑا ہے، ایشیا سے جڑا ہوا بھی ہے، نیٹو کا رکن بھی ہے اور مسلم دنیا میں اپنی تاریخی و تہذیبی نسبت کے باعث ایک نمایاں مقام بھی رکھتا ہے۔
جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی اور عسکری خود انحصاری نے اسے علاقائی طاقت کے نئے درجے تک پہنچا دیا ہے۔اس تاریخی منظرنامے میں پاکستان داخل ہوتا ہے۔ پاکستان کی داستان شاید اس پوری کہانی کا سب سے حیرت انگیز باب ہے۔ 1947ء میں جب یہ ملک وجود میں آیا تو اسکے پاس وسائل محدود تھے، صنعتی بنیاد کمزور تھی، ادارے نومولود تھے، معاشی مشکلات بہت تھیں اور دفاعی اعتبار سے اسے ایک ایسے خطے میں اپنا وجود برقرار رکھنا تھا جہاں طاقت کا توازن اسکے حق میں نہ تھا۔اسکےباوجود دفاعی خودمختاری کی طرف سفر جاری رکھا۔
یہاں تک کہ 28مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑوں سے اٹھنے والی آواز نے دنیا کو یہ بتا دیا کہ ایک نسبتاً کم وسائل رکھنے والی مسلم ریاست نے جوہری طاقت حاصل کر کے اپنی دفاعی بازدار صلاحیت کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ انکی گونج پاکستان کے قومی حافظے، جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن اور مسلم دنیا کے سیاسی شعور تک پہنچی تھی۔ پاکستان آج مسلم دنیا کی واحد باقاعدہ اعلان شدہ جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے۔ یہی حیثیت اسے اسلامی دنیا کے دفاعی توازن میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔