• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاپسی پنوں نے کنگنا رناوت کے تبصرے پر خاموشی توڑ دی، رپورٹر پر برہم

بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنوں نے متنازع بیانات کے حوالے سے مشہور  کنگنا رناوت کے تربیت والے تبصرے پر خاموشی توڑ دی۔ 

اس معاملے پر جب میڈیا نے تاپسی پنوں سے کنگنا کے بیان پر موقف پوچھا تو انھوں نے کہا آپ لوگ اسے ختم کیوں نہیں ہونے دیتے۔

کنگنا رناوت اور تاپسی پنوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری لفظی جنگ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ یہ تنازع 2019-20 میں اقربا پروری کی بحث کے دوران دونوں میں ہونے والے اختلاف سے شروع ہوا تھا۔ حال ہی میں یہ معاملہ اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب تاپسی نے کنگنا کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں کہا کہ میں کبھی حقیقت میں ان سے ملی ہی نہیں ہوں۔

تاپسی نے اپنے تبصرے میں کنگنا کی تربیت کا حوالہ بھی دیا تھا جس پر کنگنا نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور تاپسی کے لیے اپنے مشہور سستی کاپی والے طنز کو دہرایا اور تاپسی کے والدین پر بھی تنقید کی۔ 

اب تاپسی پنوں نے اس جاری تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے کنگنا کے تازہ ترین تبصروں کے بارے میں گفتگو کی۔

نیٹ فلیکس پر اپنی آئندہ آنیوالی فلم گاندھاری کی تشہیر کے دوران تاپسی پنوں سے ایک رپورٹر نے کنگنا کے ساتھ ان کے جاری اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے فلم کی کہانی سے متعلق سوال کیا۔ جس پر انھوں نے رپورٹر کو روک دیا اور کہا کہ اگر لوگ ان دونوں سے اس معاملے کے بارے میں سوال کرنا بند کر دیتے تو یہ مسئلہ بہت پہلے ختم ہو چکا ہوتا۔

انھوں نے کہا آپ لوگ یہ بات ختم کیوں نہیں ہونے دیتے؟ جب آپ ہم دونوں سے اس بارے میں سوال کرنا بند کر دیں گے تو یہ مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ آپ سب لوگوں کو یہ سب دیکھ کر مزہ آ رہا ہے، اسی لیے آپ بار بار یہی سوال پوچھ رہے ہیں۔

اس سے قبل کنگنانے تاپسی پنوں کے خاندانی پس منظر اور کرائے کے فلیٹ پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے والدین زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے تاپسی پنوں کے تنگ و خستہ حال کرائے کے فلیٹ کا مذاق اڑایا تھا۔

کنگنا کی اس طنز پر تاپسی نے کہا میں اس سے کبھی نہیں ملی، جب یہ نام نہاد مسائل شروع ہوئے تھے، تب بھی میں اس سے نہیں ملی تھی اور اب بھی میں اس سے نہیں ملی۔ 

انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس کے بارے میں میری رائے میری پرورش، میرے بات کرنے کے انداز، چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے میرے طریقے کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اس کی اپنی سوچ ہے اور وہ اپنی رائے پر قائم ہے۔ میرے خیال میں یہی کافی ہے، اب ہر کوئی خود دیکھ اور فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون کہاں سے آیا ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید