روشن چراغِ راہ کی صورت ہیں آنحضورؐ
ہم سب مسافروں کی ضرورت ہیں آنحضورؐ
وہ ایک آفتاب ہیں ماہ و نجوم میں
حدِّ نگاہ تک ہیں فروزاں ہجوم میں
ہے اُن کے دم قدم سے یہ زیبائی جہاں
اُن کے بغیر سبزہ و گل میں کشش کہاں
اُن کے طفیل اشرف و افضل ہے آدمی
اُن کی متابعت سے مکمّل ہے آدمی
اُن کے سِوا ہمارا مددگار کون ہے
ہم عاصیوں سے بھی ہو جسے پیار، کون ہے
اُن کی ثنا و مدح میں گزرے جو دن، جو رات
ہے ذی حیات کے لئے وہ حاصلِ حیات
انور شعورؔ! عرض کرو مقطعِ کلام
سرکارؐ پر درود ہو، سرکارؐ پر سلام