• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہران کے ساتھ مذاکرات کیلئے کسی قسم کی جلدی نہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے امریکا نے کوئی وقت مقرر نہیں کیا، ہمیں تہران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کسی قسم کی جلدی نہیں۔

عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو مذاکرات میں واپسی کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی، میں کسی جلدی میں نہیں ہوں، میرا کوئی وقت مقرر نہیں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا بہت بڑی کامیابی حاصل کر رہا ہے جبکہ ایران میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، معیشت مشکلات کا شکار ہے اور حکومت اپنے عوام کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر اقتصادی اقدامات اور فوجی حملے، دونوں ہی مؤثر ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے (جمعے کو) کل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کو 6 ماہ مکمل ہو جائیں گے۔

 ٹرمپ کے حالیہ بیان میں ان کے سابقہ مؤقف کے برعکس سختی نظر آئی ہے، کیونکہ جنگ شروع ہونے کے بعد وہ متعدد مرتبہ تنازع جلد ختم ہونے کی توقع ظاہر کر چکے تھے اور ایک موقع پر اسے 4 سے 6 ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان بتایا تھا۔

جون میں امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس میں آبنائے ہرمز سے آمدورفت، ایران پر پابندیوں میں نرمی اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات شروع کرنے جیسے معاملات شامل تھے، یہ معاہدہ رواں ماہ کے آغاز میں ختم ہو گیا۔

امریکا نے گزشتہ دنوں ایران اور مختلف ممالک کے اس کے ساتھ کاروبار کرنے والے 60 اداروں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔

 امریکی حکام نے اس اقدام کو اقتصادی ڈی ڈے قرار دیا جبکہ انتظامیہ نے اسے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کا نام دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے نئی امریکی پابندیوں کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ اب صرف ایران تک محدود نہیں رہا۔

جنگ اور پابندیوں کے باعث عام ایرانی شہریوں کو بھی شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی ہے جبکہ خوراک اور ادویات سمیت ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آزاد مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 20 لاکھ ریال فی ڈالر سے بھی نیچے جا چکی ہے۔

جنگ سے قبل 20 لاکھ ریال میں تقریباً 4 کلو ٹماٹر، آدھا کلو مرغی اور ایک لیٹر سے کچھ کم کوکنگ آئل خریدا جا سکتا تھا، جبکہ اب اسی رقم میں تقریباً نصف مقدار ہی خریدی جا سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید