ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دینے سے انکار کردیا۔
اسپتال انتظامیہ نے آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے پروفیسر ڈاکٹر عاطف انعام کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی بنا دی، کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی آگ لگنے کی اصل وجہ، فائر سیفٹی اقدامات، ریسکیو آپریشن کی افادیت اور رسپانس ٹائم کی جانچ کرے گی۔
پمز انتظامیہ کے مطابق پروفیسر قاسم محمود بٹر کی چھٹی کے باعث کمیٹی دوبارہ تشکیل کی گئی، ممبر کمیٹی نے خود ہی پمز کی تحقیقاتی کمیٹی کے نوٹیفکیشن پر دستخط کیے، ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے آج ہی وزیراعظم کی بنائی کمیٹی کو اپنا بیان قلمبند کروایا تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 14 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
دوسری جانب سانحہ پمز پر وزیراعظم شہباز شریف کی تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کر لیے۔
کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا، نرسری اسٹاف سے سوالات کیے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سی سی ٹی وی کا جائزہ لیا، آگ کی وجوہات سے متعلق انتظامیہ کے بیان اور سی سی ٹی وی ویڈیو کا موازنہ کیا، پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے پوچھ گچھ کی۔
کمیٹی پمز انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر جمع کروایا، جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ پیش کی۔
کمیٹی کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت 4افسران نے تحریری بیانات جمع کروائے، کمیٹی 48گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔