بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم پاکستانی سرکار!
میں جنت سے لکھ رہا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم زمین پر خط کیسے پہنچتے ہیں۔ ابو کہتے تھے ملک میں ایک سرکار ہوتی ہے، سرکار سب دیکھتی ہے۔ اسی لئے سوچا، شاید میرا خط بھی آپ تک پہنچ جائے۔
وہاں میری آواز نہیں پہنچ سکی تھی۔
میں پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں بہت رویا تھا۔ ہاتھ پاؤں مارے تھے۔میری ننھی سی سانس نے بھی مدد کے لگے کسی کو پکارا تھا۔ مگر دھواں بہت تھا، آگ بہت تھی، شور بہت تھا۔ میری آواز مہین تھی۔ اور میں جل گیا۔ اب میں جنت میں ہوں۔ فرشتے میرے جیسے بچوں کو اٹھائے پھرتے ہیں۔ یہاں کسی بچے کو یہ ڈر نہیں کہ اس کی ماں اسے دوبارہ نہیں دیکھ پائے گی۔ لیکن سرکار مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی۔ میرا قصور کیا تھا؟ میں نے تو ابھی دنیا دیکھی ہی نہیں تھی۔
میں اپنی ماں کا چہرہ بھی ٹھیک سے نہیں دیکھ سکا۔ شاید اس نے مجھے پہلی بار گود میں لیا ہوگا۔ شاید میرے ماتھے کو چوما ہوگا۔ شاید اس نے میرے کان میں کوئی نام بھی کہا ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم۔ میں تو اتنا چھوٹا تھا کہ مجھے کچھ یاد بھی نہیں۔مگر میری ماں کو سب یاد رہے گا۔ اسے میرے آنے سے پہلے کے نو مہینے یاد رہیں گے۔ وہ درد یاد رہے گا۔ وہ انتظار یاد رہے گا۔ وہ دعائیں یاد رہیں گی جو اس نے میرے لیے مانگی تھیں۔ اور میرے ابو؟ وہ شاید کئی سال سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے سوچا ہوگا بیٹا بڑا ہوگا تو میرا ہاتھ پکڑے گا۔ میرے ساتھ چلے گا۔ میرے بڑھاپے میں میرا دست و بازو بنے گا۔میں نے بھی سوچا ہوگا۔ نہیں، میں نے سوچا نہیں ہوگا۔ میں تو ابھی سوچنا بھی نہیں جانتا تھا۔مگر میرے ماں باپ نے میرے لئے پوری زندگی سوچ لی تھی۔
سرکار، مجھے بس اتنا سا وقت چاہئے تھا کہ میں بڑا ہو جاتا۔پھر شاید ڈاکٹر بنتا۔ شاید سائنس دان۔ شاید استاد۔ شاید کچھ بھی نہ بنتا۔بس اچھا آدمی بن جاتا۔ اپنی ماں کیلئے اچھا بیٹا تو بن ہی جاتا۔لیکن تم نے مجھے اتنا وقت بھی نہیں دیا۔سرکار، مجھے ایک بات پوچھنی ہے۔پاکستان میں پیدا ہونا میری سزا تھی یا جزا؟ میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟
کیا غریب کے گھر پیدا ہونا جرم ہے؟ کیا سرکاری اسپتال میں پیدا ہونے والے بچے کی زندگی اتنی ہی سستی ہوتی ہے؟ تمہارے لئے ہم چودہ بچے چودہ نمبر ہیں۔مگر میری ماں کیلئے میں صرف ایک نہیں تھا۔میں اس کی دنیا تھا۔اور اب اس دنیا میں اس کی گود خالی ہے۔ تم کہتے ہو تحقیقات ہوں گی۔سرکار، یہ جملہ مجھے بہت پرانا لگتا ہے۔ زمین پر جب کوئی مر جاتا ہے تو تحقیقات ہوتی ہیں۔ کمیٹی بنتی ہے۔ افسر معطل ہوتا ہے۔ بیان آتا ہے۔ ٹی وی پر چند دن شور ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ چلتا ہے۔ پھر کوئی نئی خبر آ جاتی ہے۔ اور ہم جیسےپرانی خبر بن جاتے ہیں۔ مگر میری ماں کے گھر میں میں کبھی پرانی خبر نہیں بنوں گا۔وہاں میرے کپڑے رہیں گے۔میری خالی جگہ رہے گی۔
اورہاں ایک اور سوال بھی۔میرا بچہ کیوں مر گیا؟سرکار، مجھے یہ نہیں بتانا کہ آگ کیسے لگی۔ مجھے یہ بتاؤ کہ جب آگ لگی تو مجھے بچانے والے کہاں تھے؟ فائر الارم کہاں تھا؟ وہ لوگ کہاں تھے جو مجھے گود میں اٹھا سکتے تھے؟ راستہ کہاں تھا؟ نظام کہاں تھا اور اگر نظام موجود تھا تو پھر میں جنت میں کیوں ہوں؟
یہ سوال صرف میرا نہیں ہے۔ میں جنت میں اپنے جیسے بچوں سے ملا ہوں۔ایک سوات کے دریا سے آیا ہے۔ ایک کسی سڑک سے۔ ایک سیلاب سے۔ ایک اسکول کی چھت کے نیچے سے۔ میں نے ان سے پوچھا، تم کہاں سے آئے ہو؟ سب نے ایک ہی جواب دیا:پاکستان سے۔ سرکار، ہم جنت میں بھی پاکستان سے آرہے ہیں۔ کبھی دریا ہمیں لے آتا ہے،کبھی سڑک، کبھی عمارت، کبھی آگ۔ کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ اتنے بچے جنت میں پاکستان سے کیوں آتے ہیں؟ شاید تمہیں سوچنا چاہیے۔ تمہارے بچے بھی بیمار ہوتے ہیں نا؟وہ بھی ہسپتال جاتے ہیں۔ اگر کبھی ان کے وارڈ میں آگ لگ جائے تو کیا تم بھی یہ سن کر گھر چلے جاؤ گے کہ تحقیقات جاری ہیں؟
کیا تم بھی اپنے بچے کی قبر پر کھڑے ہو کر کہو گے، حادثہ تھا؟ نہیں سرکار۔پھر ہماری ماؤں سے یہ توقع کیوں کی جاتی ہے کہ وہ چند دن روئیں اور پھر خاموش ہو جائیں؟ ہم غریب تھے۔ مگر انسان تھے۔ ہماری سانسیں چھوٹی تھیں، ہماری قیمت نہیں تھی۔ میں اپنی ماں سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔
ماں مجھے معاف کرنا۔ میں تمہیں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ بابا، آپ بھی خود کو قصوروار نہ سمجھنا۔آپ مجھے موت دینے نہیں، زندگی دلانے ہسپتال لائے تھے۔آپ نے مجھ پر اعتماد کیا تھا۔آپ نے مجھے ریاست کے حوالے کیا تھا۔ریاست نے آپ کو کیا واپس کیا؟ ایک ایسی جلی ہوئی لاش جسے شاید آپ آخری بار ٹھیک سے پہچان بھی نہ سکے۔سرکار! ہم تمہیں بددعا نہیں دیتے۔
ہم صرف چاہتے ہیں کہ تمہیں احساس ہو۔اتنا احساس کہ اگلی نرسری میں فائر الارم صرف دیوار پر لٹکا ہوا سامان نہ ہو۔ اتنا احساس کہ آکسیجن زندگی دے موت کا سبب نہ بنے۔ اتنا احساس کہ ہسپتال میں داخل ہونے والا مریض یہ دعا نہ کرے کہ یا اللہ مجھے یہاں سے زندہ نکالنا۔ ہمیں اپنی زندگی واپس نہیں چاہیے۔ وہ اب ممکن نہیں۔ بس ہمارے بعد آنے والے بچوں کو بچا لو۔ ان کی ماؤں کو بچا لو۔ ان کے باپوں کے خواب بچا لو۔ کیونکہ سرکار، اگر تم نے یہ بھی نہ کیا تو پھر شاید جنت میں ہم پاکستانی بچوں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔اور ایک دن ہم سب تم سے ایک ہی سوال پوچھیں گے ہمیں پاکستان میں پیدا ہونے کی سزا کیوں ملی؟
میں جنت میں ہوں۔ میرا جسم مٹی میں ہے۔ میری ماں زمین پر ہے۔
اور میرا سوال بھی زمین پر ہے۔ کیا تم ہمیں یاد رکھو گے؟یا ہم بھی تمہاری سیاست، تمہاری تقریروں، تمہاری کمیٹیوں اور تمہاری اگلی خبر کے نیچے دب جائیں گے؟
سرکار، میرا جنازہ بہت چھوٹا تھا۔ مگر میری قبر میں ایک بہت بڑا سوال دفن ہے۔ریاست کس کے لیے ہے؟
میں تمہارا مقتول نہیں، میں تمہارا آئینہ ہوں۔