• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی: نجی اسپتال میں حاملہ بیوی کا آپریشن کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ بچہ ہے ہی نہیں، شوہر کا الزام

کراچی کے علاقے ناظم آباد 3 نمبر گول مارکیٹ کے قریب نجی اسپتال سے مبینہ طور پر نومولود غائب ہوگیا۔

شہری کا کہنا ہے کہ اس کی حاملہ بیوی کا آپریشن کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کہا کہ بچہ ہے ہی نہیں، جبکہ وہ آپریشن کرنے والی ڈاکٹر کے پاس 9 ماہ تک بیوی کو چیک اپ کے کیلئے لاتا رہا، رات کو اسی ڈاکٹر نے ڈیلیوری کیلئے بلایا تھا۔

واقعے کے خلاف مشتعل افراد نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی۔ پولیس حکام کے مطابق معاملے پر اب تک اسپتال انتظامیہ کا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

خاتون ثوبیہ کو پولیس سروسز اسپتال لے کر پہنچ گئی، خاتون کا طبی معائنہ کروایا جا رہا ہے، مختلف ٹیسٹ بھی کیے جا رہے ہیں، ٹیسٹ کی رپورٹ ایک سے دو دن میں مل جائے گی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نجی اسپتال کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں، شبہ ہے چیک اپ کروانے والی خاتون اور ڈیلیوری کیلئے آئی خاتون الگ ہو سکتی ہیں، نجی اسپتال کی انتظامیہ نے بھی خاتون پر شک کا اظہار کیا ہے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ حمل کے شروع سے خاتون کا علاج جاری تھا، خاتون کا چیک اپ ہر تاریخ پر جاری رہا، شبہ ہے کہ ڈیلیوری کے وقت کوئی دوسری خاتون آگئی، ممکنہ طور پر خاندانی چپقلش کی وجہ سے یہ سارا معاملہ ہوا ہے، اسپتال حکام نے پولیس کو باضابطہ طور پر بیان ریکارڈ کروا دیا، سی سی ٹی وی فوٹیجز کا ریکارڈ بھی اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے اہلخانہ کی جانب سے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی گئی، اہلخانہ کے مطابق خاتون کو زچگی کیلئے اسپتال میں داخل کروایا گیا، اسپتال انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے دوران معلوم ہوا خاتون حاملہ نہیں تھی۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ڈی پی او گلبرگ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی، تحقیقاتی ٹیم سی سی ٹی وی فوٹیج، طبی رپورٹس اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے گی، خاتون کو ایم ایل او کے لیے عباسی شہید اسپتال بھجوایا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید