• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اِن سطروں کا پہلا احساس اپنے قد کا ہے: و جاہت مسعود صاحب اُس صف کے لکھنے والے ہیں جن کے کالم پڑھ کر ہماری نسل نے کالم پڑھنا سیکھا اُن سے نسبت نیاز کی ہے، مقابلے کی نہیں۔ سو آگے جو کچھ ہے، دعویٰ نہیں، ایک طالب علم کی عرضداشت ہے۔ یہ مکالمہ اُنہی کے قلم کی عنایت سے تیسرے موڑ تک آ پہنچا ہے، اور موڑ مڑتے ہی ایک صراحت قرض ہے: سینتالیس کے بعد کی کارکردگی کا جو تفصیلی دفتر اُنہوں نے مرتب فرمایا، وہاں اختلاف درجے کا ہے، نوع کا نہیں۔ کھاتۂ زیاں کے بیشتر اندراجات پر ہم صاد کر چکےاعداد کی بحث کو جدول چاہئے، کالم نہیں۔ اصل اختلاف استدلال کی جڑ پر ہے اور آج کی نشست اُسی جڑ کے نام ہے۔

اُن کے نظری مقدمے کے تین دعوے ہیں: شناختیں متعدد ہوتی ہیں اور کوئی ایک شناخت سیاست کی مستقل بنیاد نہیں بن سکتی،شناخت کی سیاست بذاتِ خود غیر جمہوری ہےاور شناخت کی سیاست دراڑیں پیدا کرتی ہے، یعنی سیاست پہلے، تفرقہ بعد۔ تینوں دعوے سنجیدہ ہیں۔جواب اُس علم کے ذمے جس نے رائے عامہ کے مبادیات کو ترازو کیا ہے۔

پہلا گواہ ووٹوں کے جوڑ کا علم ہے۔ کینتھ ایرو نے ”سماجی ترجیحات اور انفرادی اقدار“ (1951) میں وہ ثابت کیا جس پر بعد میں نوبیل ملا: ترجیحات کو اجتماعی فیصلے میں ڈھالنے کا کوئی بے عیب قاعدہ ممکن نہیں۔ جمہوریت اِس نقص کے باوجود ایک خاموش شرط پر چلتی ہے۔ کھیل جس میدان میں ہو، وہ ہر ہار اگلی جیت کا دروازہ کھلا چھوڑے، اور آج کا حریف کل کا حلیف بن سکے۔ ڈاؤنز (Downs 1957) کی سیاسی جماعتیں درمیانی ووٹر کی طرف کھنچتی ہیں اور سیاست معتدل ہوتی جاتی ہے مگر سارا حساب ایک مفروضے پر کھڑا ہے: ترجیح بدل سکتی ہے۔ جہاں ترجیح قائل کرنے سے نہیں، پیدائش یا عقیدے سے طے ہو، وہاں یہ پورا حساب زمیں بوس ہو جاتا ہے۔

لپسیٹ اور روکان ( Lipset Rokkan 1967) کے بعد سے یہ اصول نصاب کا حصہ ہے کہ جمہوریت وہاں پھلتی ہے جہاں سماجی دراڑیں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوں اورجہاں سماج میں ہر انتخاب پرانے بندھن کھولتا اور نئے بندھن باندھتا ہو۔ اور جہاں ساری دراڑیں ایک ہی لکیر پر تہ بہ تہ ہو جائیں، وہاں پرچی رائے نہیں رہتی، شناخت کا اعلان بن جاتی ہے۔انتخاب رائے شماری نہیں، مردم شماری بن جاتا ہے اور ہارنے والا اگلے انتخاب کا امیدوار نہیں، مستقل محکوم ٹھہرتا ہے۔ مل، ہورووٹز اور لائپہارٹ (; Mill 1861 Horowitz 1985;Lijphart 1977) کے دلائل پچھلے کالموں میں آ چکے۔ اضافہ اتنا کہ جمہوریت فقط ووٹ کی برابری نہیں، کسی کے بھی جیتنے کا امکان ہے اور جہاں اقلیت مستقل ہو، وہاں ووٹ برابر رہتا ہے مگر امکان مر جاتا ہے۔

اور اب قبلہ وجاہت صاحب کا یہ دعویٰ کہ دراڑ شناختی سیاست کی پیداوار ہے؟ فیصلہ ترتیبِ زمانی کرے گی، اور ترتیب کی گواہی الٹ ہے۔ 1937 میں مسلم لیگ بری طرح ہاری، شناخت کی سیاست بسترِ مرگ پر تھی،مسلمان ووٹ یونینسٹوں اور صوبائی جماعتوں کو ملے۔ پھر ستائیس مہینے کانگریسی وزارتیں آئیں: وردھا کی تعلیمی اسکیم، بندے ماترم کی گونج، اور وہ شکایات جو پیرپور رپورٹ (1938) اور شریف رپورٹ (1939) میں درج ہوئیں۔ تجربے نے وہ کیا جو بیس برس کی تقاریر نہ کر سکیں: 1940 ءکی قرارداد اور 1946ءکا نتیجہ۔ ترتیب صاف ہے: پہلے تجربہ، پھر تحریک۔ سعدی فرما گئے: ہر کہ ناموخت از گذشتِ روزگار، ہیچ ناموزد ز ہیچ آموزگار۔ جو زمانے کے تجربے سے نہ سیکھے، اُسے کوئی اتالیق کچھ نہیں سکھا سکتا؛ مگر قرارداد لاہور والوں نے زمانے سے سیکھ لیا تھا۔ دراڑ نے سیاست کو جنم دیا سیاست نے دراڑ کو نہیں تراشا۔ جو مؤرخ یہ ترتیب الٹی پڑھے گا، وہ علاج بھی الٹا لکھے گا۔

اب ہندوتوا کا عقیدہ پڑھیے تو بات اور کھل جاتی ہے۔ ساورکر نے ”ہندوتوا: ہندو کون ہے؟“ (1923) میں ہندو قوم کی جو تعریف لکھی، اُس کی دو شرطیں تھیں۔ اول : سرزمین پدری بھارت ہو ۔ دوئم :مقدس بھومی بھی بھارت ہو ۔ مسلمان پہلی شرط پوری کرتا ہےدوسری شرط پوری کر ہی نہیں کر سکتا کہ اُس کے قبلے اِس جغرافیے سے باہر ہیں۔ یعنی مسلمان کا جرم اُس کا عمل نہیں، اُس کا ایمان ہےاور جہاں فردِ جرم ایمان پر ہو، وہاں کوئی وکیلِ صفائی کام نہیں آتا۔ گولوالکر نے”ہم“ یعنی ”ہماری قومیت کی تعریف“ (1939) میں اقلیتوںکیلئےجو نسخہ لکھا وہ چھپا ہوا موجود ہے، اور دلی کے حکمران نے پارلیمان کے مرکزی ہال میں اپنے پہلے ہی خطاب (مئی 2014) میں ”بارہ سو برس کی غلامی“ کا جو نوحہ کہا، وہ اِسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ حافظ نے کہا تھا: چو قسمتِ ازلی بے حضورِ ما کردند ۔ فیصلہ جب حاضری سے پہلے لکھا جا چکا ہو تو صفائی کس عدالت میں پیش ہو؟ سو یہ کہنا کہ مسلمان شناخت کی سیاست نہ کرتا تو ہزار برس کا حساب معاف ہو جاتا، ہندوتوا کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے ۔ تاوان کردار پر نہیں، سلسلۂ ایمان پر لگایا گیا ہے، اور ایمان بدلنا کسی سیکولرزم کے بس کی بات نہیں۔

کثیر مذہبی، کثیر لسانی جمہوری تکثیریت ایک سچا آدرش ہے۔ اِس پر وجاہت صاحب سے کوئی جھگڑا نہیں۔ جھگڑا صرف اِس پر ہے کہ آدرش اور امکان میں تمیز کون کرے گا۔ عربی حکمت ہے: ما لا یُدرَکُ کُلُّہ لا یُترَکُ کُلُّہ ۔ کُل ہاتھ نہ بھی آئے تو جُز نہیں چھوڑا جاتا۔ آدرش سچا سہی، پل اُسی دریا پر بندھتا ہے جو سامنے بہتا ہو۔ سیاست ممکن کا فن ہے اور ممکن و ناممکن کی تمیز ہی سیاسی بصیرت کی معراج ہے۔ جس نسل نے 1940ءمیں فیصلہ کیا، اُس کے سامنے شواہد تھے: سینتیس کی وزارتیں، اکثریتی مزاج کے تیور، اور افق پار وہی منظر جو آج سچر (2006) اور کنڈو (2014) کمیٹیوں کی رپورٹوں میں درج ہے۔ اُس نسل نے آدرش سے انکار نہیں، امکان کا حساب کیا۔ اناسی برس کی شہادت ہے کہ حساب درست تھا۔

یہ حساب صرف برصغیر کا نہیں۔ جہاں جہاں بھی دراڑیں مستقل و تہ بہ تہ ہیں اور نظام اکثریتی جمہوریت ، وہاں آدرش کے مزار بکھرے پڑے ہیں: لبنان کا توازن 1975 میں خانہ جنگی نگل گئی۔سری لنکا کا ”صرف سنہالا“ (1956) کا سفر 1983 کے جولائی تک پہنچا اور کوئی چوتھائی صدی سے لہو پی رہا ہے۔ قبرص 1974 سے بٹا ہےاور یوگوسلاویہ تکثیریت کا درسی نمونہ، نوے کی دہائی میں اُن ٹکڑوں میں بٹا جنکے نام اب عدالتیں پڑھتی ہیں۔ شمالی آئرلینڈ نے بھی سادہ اکثریت چھوڑ کر شراکتِ اقتدار کی راہ اپنائی۔برصغیر میں اِس نسخے کا آخری مسودہ کیبنٹ مشن پلان تھا، جس کا انجام ابوالکلام آزاد خود بیان کر چکے۔

حاصلِ نشست ایک قرض کا اقرار ہے۔ شناخت کی سیاست محض مرض کی علامت ہے، مرض نہیں۔ اور علامت کو گالی دینے سے مرض نہیں جاتا: دراڑ سیاست سے پیدا نہیں ہوئی تھی، سیاست دراڑ سے پیدا ہوئی تھی۔ مگر جس دلیل نے ہمیں الگ گھر دیا، وہی اب ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ جو امکان اکثریتی بھارت ہمیں نہ دے سکا، وہ ہمارے گھر میں ہر شناخت کو ملےورنہ ہم مقدمہ جیت کر دلیل ہار بیٹھیں گے۔ دفتر کھلا ہے، مکالمہ سلامت رہے۔

تازہ ترین