وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کم عمر بچیوں کو خودکش حملے میں استعمال کرنے کا کالعدم بی ایل اے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے کہا ہے کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پریس کانفرنس کا مقصد فتنہ الہندوستان کے ناپاک عزائم کو عوام کے سامنے لانا ہے، اگر کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو تو ہمیشہ سوال کیا جاتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کیا کر رہی تھیں۔
ضیاء لانگو کا کہنا ہے کہ جنوبی بلوچستان میں فتنہ الہندوستان نے کم عمر بچیوں کو ورغلا کر خودکش حملہ کرانے کی کوشش کی، دہشت گرد چادر اور چار دیواری کی پامالی کرنا چاہتے ہیں اور بلوچ روایات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے زینب کے شوہر سمیت خاندان کے 8 سے 10 افراد کو قتل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ تنظیم کے ساتھ کام کرنے سے انکار پر فتنہ الہندوستان کی جانب سے سیف کو قتل کر دیا گیا، سیف کے قتل کے بعد مقامی کمانڈر کا رابطہ مقتول کی بیوی زینب سے ہوا۔
ضیاء لانگو نے بتایا ہے کہ بلوچوں کی روایت نہیں کہ وہ پہاڑوں میں نامحرموں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کو جھوٹے بیانِیے کو پھیلانے کے لیے ورغلایا جا رہا ہے، جو قابلِ مذمت ہے، ان بچیوں کے والدین اور رشتے داروں پر حیرانی ہے کہ کیسے انہیں جانے دیا۔
وزیرِ داخلہ بلوچستان نے بتایا کہ یہ 16 سالہ زینب اور 12 سالہ فاطمہ ہیں جنہیں ورغلایا گیا، 40 دن تک ان کو کال کوٹھری میں رکھا گیا کہ آپ نے خود کش دھماکا کرنا ہے، ان بچیوں کو مکران سے اپنے ساتھ ملایا گیا اور خود کش حملے کے لیے ورغلایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت بچیوں کو صحت، تعلیم اور پڑھائی کے لیے بہترین مواقع فراہم کر رہی ہے، ان بچیوں کے والدین ندامت محسوس کر رہے ہیں، بچیوں کے والدین حیران ہیں کہ کیسے ان کی بچیاں غیر مردوں کے ساتھ پہاڑوں میں تھیں۔
ضیاء لانگو کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ہماری فورسز نبرد آزما اور مسلسل جنگ میں مصروف ہیں، زینب کے شوہر کو قتل کرنے کے بعد اس کا الزام سیکیورٹی فورسز پر لگایا گیا، اگر ایک واقعہ ہوتا ہے تو سیکیورٹی فورسز 10 واقعات روکتی بھی ہیں۔