آج پاکستان دنیا کے سامنے ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جس نے سفارتی محاذ پر غیر معمولی واپسی کی ہے۔ مئی 2025ءکے علاقائی بحران کے بعد نئی جغرافیائی صف بندی میں پاکستان نے حکمتِ عملی اور سفارتی توازن کا مظاہرہ کیا۔ اس نے بڑی طاقتوں سے روابط بہتر کیے اور عالمی سیاست میں اپنی اہمیت منوائی۔ عالمی اسٹیج پر پاکستان پُراعتماد دکھائی دیتا ہے، مگر اس کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک تشویش ناک داخلی حقیقت بھی ہے۔بیرونِ ملک سفارتی پذیرائی کے باوجود ریاست کے اندرونی ستون آئینی حکمرانی، عدلیہ، جمہوری ادارے، پارلیمان، انتظامیہ، آزادیٔ اظہار اور انسانی ترقی بتدریج کمزور ہو رہے ہیں۔ سفارتی کامیابیاں داخلی ادارہ جاتی زوال کی تلافی ہمیشہ نہیں کر سکتیں۔ ریاست کی اصل قوت اسکے اداروں کی ساکھ، استحکام اور کارکردگی ہوتی ہے۔عالمی اشاریے مرض کی سنگینی واضح کرتےہیں۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025کے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر اور اس کا اسکور محض0. 37 ہے۔ یہ درجہ ظاہر کرتا ہے کہ عام شہری قانون کے یکساں اطلاق اور بروقت انصاف پر مکمل اعتماد نہیں کر سکتا۔ جب انصاف تاخیر کا شکار، انتخابی یا ناقابلِ رسائی ہو جائے تو ریاست اور شہری کے درمیان سماجی معاہدہ ٹوٹنے لگتا ہے۔جمہوری تنزل اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے پاکستان کو ’ہائبرڈ رجیم‘ سے گرا کر ’آمرانہ نظام‘ کی صف میں رکھا، جہاں اس کا اسکور دس میں سے 2 . 84 اور درجہ 167 ممالک میں 124واں ہے۔ متنازع انتخابات، غیر آئینی مداخلتوں اور سیاسی انجینئرنگ نے عوام کا بیلٹ پر اعتماد مجروح کیا۔ جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں،اصل شرط ایسا معتبر عمل ہے جسکے نتائج فاتح اور شکست خوردہ دونوں تسلیم کریں۔قومی ناکامی کا سب سے دردناک ثبوت انسانی ترقی میں ملتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق پاکستان 193ممالک میں 168ویں نمبر پر اور0. 544 کے اسکور کیساتھ کم انسانی ترقی والے ممالک میں شامل ہے۔ وسیع وسائل رکھنے والے ایٹمی ملک کیلئے یہ پورے نظام کیخلاف فردِ جرم ہے۔مالی ترجیحات بھی اسی بگاڑ کی عکاس ہیں۔ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2025ءمیں تعلیم پر خرچ مجموعی قومی پیداوار کا صرف 0. 8فیصد رہا، جبکہ صحت کے وسائل بھی ناکافی ہیں۔ لاکھوں بچے اسکول سے باہر، بنیادی علاج بڑی آبادی کی دسترس سے دور اور نئی نسل غذائی قلت کا شکارہے۔ جو ملک اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتا، وہ بچت نہیں بلکہ اپنے زوال کی قیمت ادا کرتا ہے۔غربت سے نمٹنے کی حکمتِ عملی میں بھی یہی تضاد نمایاں ہے۔ مالی سال 2026-27کے وفاقی بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے تقریباً 838ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ بھوک، معذوری یا اچانک بحران میں گرفتار خاندانوں کی نقد مدد ناگزیر ہے، لیکن جب امداد تعلیم، ہنر اور روزگار کا مستقل متبادل بن جائے تو اسکے نتیجے میں ہم ہنرمند اور خودکفیل شہری پیدا کرنے کے بجائے لوگوں کو مستقل امداد کا محتاج بنا رہے ہیں۔اس رقم کا ایک متعین حصہ اگر جدید فنی و پیشہ ورانہ اداروں سے منسلک کر دیا جائے تو ہم ہنرمند، فنی ماہرین اور ڈیجیٹل ٹیکنیشن تیار کر سکتے ہیں۔ تربیت یافتہ افرادی قوت ملکی صنعت اور بیرونِ ملک روزگار، دونوں کی ضرورت پوری کرکے زرمبادلہ لا سکتی ہے۔ افسوس کہ حکومتیں انسانی سرمایہ بنانے کے خاموش مگر انقلابی کام پر نمائشی منصوبوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ ترقی کا معیار افتتاحی تختیاں نہیں بلکہ عام آدمی کو ہنر، روزگار اور سستی بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہے۔اسی طرح ملک میں سیاسی تقسیم بہت بڑھ چکی ہے۔ سیاسی اختلاف اب پالیسیوں کا آئینی مقابلہ نہیں بلکہ ذاتی نفرت بن چکا ہے۔ رہنما یا نجات دہندہ سمجھے جاتے ہیں یا ناقابلِ معافی دشمن، اور مفاہمت کو غداری کہا جاتا ہے۔ مئی 2025 ءکے قومی سلامتی کے لمحے کو بھی فریقین نے جماعتی کشمکش میں بدل دیا۔ جو قوم اجتماعی سلامتی کے موقع پر بھی ایک نہ ہو سکے، اس کا داخلی شیرازہ واقعی خطرے میں ہوتاہے۔بیماری کی تشخیص بارہا ہو چکی،اصل المیہ علاج سے مسلسل انکار ہے۔ میں نے اپنے سابقہ کالم ’قومی مفاہمت‘ میں عرض کیا تھا کہ شکستہ ریاست کو تذلیل، جبر اور سیاسی انتقام سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ حکومت اور مقتدر حلقوں کو ناراض سیاسی قوتوں کی طرف تکبر کے بغیر ہاتھ بڑھانا ہوگا۔ مفاہمت کا مطلب بدعنوانی، تشدد یا ریاست پر حملوں کی غیر مشروط معافی نہیں، مگر اجتماعی سزا، انتخابی احتساب اور مخالفین کے مستقل اخراج کی روش بھی ترک کرنا ہوگی۔ قومی مفاہمت کسی جماعت کو رعایت نہیں بلکہ ریاست کی بقا کی شرط ہے۔پاکستان کو اب معمولی مرہم نہیں بلکہ بڑی ادارہ جاتی جراحی درکار ہے۔ عدلیہ کو سیاسی اور انتظامی اثر سے محفوظ بنا کر اس کی آزادی بحال کرنا ہوگی۔ انتخابات اتنے شفاف ہوں کہ فاتح کو ادارہ جاتی سند کی ضرورت نہ پڑے اور شکست خوردہ پورے عمل کو چیلنج نہ کر سکے۔ تعلیم اور صحت کیلئے رسمی اعلانات کے بجائے مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جبکہ پارلیمان کو قومی فیصلوں کے اصل مرکز کی حیثیت واپس دینا ہوگی۔سب سے بڑھ کر حکومت، حزبِ اختلاف، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور صوبوں کو ایک کم از کم آئینی و معاشی میثاق پر اتفاق کرنا ہوگا۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، مگر آئین، معیشت، دہشت گردی، خارجہ تعلقات اور انسانی ترقی کی بنیادی پالیسیاں ہر سیاسی تبدیلی کے ساتھ ازسرِنو نہیں لکھی جا سکتیں۔ پاکستان کی سفارتی واپسی قابلِ تحسین ہے، مگر بیرونی چمک داخلی تاریکی کو ہمیشہ نہیں چھپا سکتی۔ خطرے کو سنجیدگی سے سمجھنے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر بروقت اور دلیرانہ ادارہ جاتی جراحی نہ کی گئی تو بہت نقصان ہوسکتا ہے۔