• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا قتل کیس: جے آئی ٹی بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سندھ ہائی کورٹ نے میر رضا قتل کیس پر جے آئی ٹی بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست پر سماعت میں میر رضا کے اہلِ خانہ اپنے وکیل جبران ناصر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ، تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا ہے کہ نوٹس کے بعد جوڈیشل کمیشن بنا دیا گیا ہے، کمیشن نے کام شروع کر دیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا ہے کہ ہم نے جوڈیشل کمیشن کا گزٹ نوٹیفکیشن جمع کرا دیا ہے، کمیشن کی پہلی سماعت میں انہوں نے واضح کر دیا ہے، ان کا کام انویسٹی گیشن نہیں صرف فیکٹ فائنڈنگ ہے۔

وکیل نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ ایک آزادنہ جے آئی ٹی تشکیل دی جائے، وہ خط جو میں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ  کو لکھا تھا اس ہی کی بنیاد پر کمیشن بنایا گیا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا ہے کہ پھر انہیں نئی درخواست دائر کرنی چاہیے۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے سوال کیا کہ کمیشن اور جے آئی ٹی میں کیا فرق ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کا کام الگ ہوتا ہے، کمیشن کا کام فیکٹ فائنڈنگ ہے، انوسٹی گیشن الگ سے چل رہی ہے، کمیشن انویسٹی گیشن کی معاونت کرے گا۔

قومی خبریں سے مزید