کراچی میں احسن آباد اپارٹمنٹ سے میاں بیوی اور تین بچوں کی لاشیں ملنے کے واقعے سے متعلق پولیس کو اطلاع دینے والے نے چونکا دینے والا انکشاف کردیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران نامی اس شخص کا کہنا تھا کہ فلیٹ سے بہت تعفن اٹھ رہا تھا جو ناقابل برداشت تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اور ان کے بچے کچھ دن سے نظر نہیں آرہے تھے۔ ڈاکٹر عمر نجی اسپتال میں ملازمت کرتے تھے۔
اس نے انکشاف کیا کہ کچھ دن قبل ڈاکٹر کے ساتھ واردات ہوئی تھی۔ واردات میں ڈاکٹر عمر کی تنخواہ اور دیگر چیزیں ڈاکو لوٹ کر لے گئے تھے۔
خیال رہے کہ احسن آباد کے ایک فلیٹ کی ساتویں منزل کے ایک کمرے سے میاں بیوی اور تین بچوں کی لاشیں ملی ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ لاشیں کئی روز پرانی ہیں۔
پولیس نے واقعے کی ابتدائی تفتیش مکمل کرلی، اور بتایا کہ 13 ستمبر کو ڈاکٹر عمر نے نجی اسپتال سے استعفیٰ دیا تھا۔ ڈاکٹر عمر نے کینسر کی تشخیص کے باعث اسپتال سے استعفیٰ دیا تھا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے واقعہ پر ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیلات طلب کی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی ایسٹ ابتدائی پولیس کارروائی اور ایکشن سے فوری آگاہ کریں، واقعے کی تفتیش و تحقیق سے حتمی نتائج سامنے لائے جائیں۔