سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن صوبائی اسمبلی امداد پتافی کی تقریر پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابا کیا۔
سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں پر پی پی کی تحریک التوا پر بحث ہوئی، امداد پتافی نے تقریر میں کہا کہ جس کو گھر میں روٹی نہیں ملتی اس کو سندھ الگ چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی وفاقی وزیر ہو یا کوئی بھی ہو، پیپلز پارٹی سندھ کے ٹکڑے نہیں ہونے دے گی، زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا ہمیں مار دیں گے تو عزت سے مر جائیں گے۔
اپوزیشن ارکان نے امداد پتافی کی تقریر پر شور مچایا تو اسپیکر سندھ اسمبلی نے نامناسب الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ اراکین شور نہ کریں، رکن کو اپنی بات کرنے دیں۔
امداد پتافی نے مزید کہا کہ ہم ساتھ تھے اور ساتھ رہیں، اردو بولنے والے ہمارے بھائی اور دوست ہیں، ہم نے ہمیشہ پاکستان کو مقدم رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ وفاق میں کرپشن ہے نہ کوئی مسئلہ وہاں تو دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، اچھی چیزیں ہمیشہ پی ٹی آئی کو بری لگتی ہیں، میں تو تعریف کررہا تھا۔
پی پی پی کے ایم پی اے نے یہ بھی کہا کہ کوئی وفاقی وزیر ہو یا کوئی بھی ہو ہم سندھ کے ٹکڑے نہیں ہونے دیں گے، ہمارے پاس بندوقیں نہیں، عزت سے مر جائیں گے مگر سندھ تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کے نام نہ لیے جائیں تو اس ایوان کا وقار بڑھے گا، اسپتال تو آپ سے سنبھالا نہیں جاتا، کرکٹ، ہاکی نہیں سنبھالی جاتی۔
امداد پتافی نے کہا کہ قومی ایئر لائن کیا قائم علی شاہ اور مراد علی شاہ نے خراب کی؟ بتایا جائے کہ کس نے قومی ایئر لائن کو تباہ کیا ریلوے کس کے پاس ہے؟
اُن کا کہنا تھا کہ لیاری والے لوگ سمجھ جاتے تو پی ٹی آئی کو لیاری میں آنے ہی نہ دیتے، وزیراعلیٰ سندھ نے جو بات کی، اس پر کابینہ، ایوان پورا سندھ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔