مشرق وسطیٰ ، جنوبی ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع سعودی عرب ، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ طور پر ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کی رو سے تینوں ممالک اس بات کے پابند ہوں گے کہ اگر ان میں سے کسی ایک پر بھی حملہ ہوتا ہے ، تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 6 سے بہت مشابہت رکھتی ہے۔ یہ معاہدہ اس وقت ہوا ہے جب یہ خطہ ایک ایسی نہ ختم ہونے والی جنگ کی لپیٹ میں ہے ، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر دور رس اثرات مرتب کر رہی ہے۔ماہرین اس معاہدے کو ایک ابھرتا ہوا علاقائی سلامتی کا ڈھانچہ قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد امریکہ پر دفاعی انحصار کم کرنا ، اسرائیل کی توسیع پسند پالیسی کے مقابلے میں ایک توازن قائم کرنا اور پورے خطے میں نیا علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دینا ہے۔ اس معاہدے کی ایک اور اہم وجہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی ہے جس نے خطے کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے اس کو مزید خطرات میں دھکیل دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کا سعودی عرب کے بارے میں رویہ بھی اس معاہدے کا موجب بنا ہے۔امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سول نیوکلیر پروگرام معاہدہ مکمل ہونے کے بعد ٹرمپ نے دو نئی شرائط رکھ دی ہیں جس کے مطابق سعودی عرب اپنے ملک میں نہ صرف یورینیم کی افزودگی نہیں کر سکے گا بلکہ اسے ابراہم معاہدے میں بھی شامل ہونا ہوگا۔
اگرچہ سعودی عرب نے ہمیشہ یہ واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اس وقت تک معمول پر نہیں لا سکتا جب تک اسرائیل ، فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے واضح اور ناقابل واپسی اقدامات کا اعلان نہیں کر تا۔یاد رہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ دو ایسے ممالک ہیں جو گزشتہ ایک دہائی میں ایک دوسرے کے کھلے مخالف رہے ہیں ، جس میںسب سے بڑھ کر استنبول میں جمال خاشقجی کے قتل جیسے معاملات پردونوں میں شدید اختلافات رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 2019ء میں جب ترکیہ ، ملیشیا ، ایران اور قطر پر مشتمل کولالمپور کے سربراہی اجلاس میں پاکستان نے شرکت نہیں کی اور اس پر صدر اردوان نے برادر ملک پر یہ الزام لگایا تھا کہ اس نے پاکستان پر اس اجلا س میں شرکت نہ کرنے کیلئے دبائو ڈالا جبکہ پاکستان کا موقف یہ تھا کہ وہ مسلم دنیا میں کسی نئی تقسیم کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ لیکن آج یہ منظر نامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے اور اب یہ تینوں ممالک مکہ مکرمہ میں ایک ساتھ بیٹھ کر دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کے بعد اس خطے میں کس قدر تیزی سے تبدیلیاں رو نما ہو رہی ہیں۔اس معاہدے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ سعودی عرب ، امریکہ کو چھوڑ رہا ہے بلکہ دراصل وہ اپنے دفاعی شرکت داروں اور اپنی دفاعی صنعت کی منڈیوں کو وسعت دے رہا ہے۔اس معاہدے سے ترکیہ کیلئے نیٹو سے علیحدگی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کیونکہ ترکیہ نے حالیہ برسوں میں ایسی مربوط خارجہ پالیسی اختیار کی ہے جس کی وجہ سے وہ مغربی اتحادیوں اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت اتحاد کر سکتا ہے۔
پاکستان کیلئے اس معاہدے کے اثرات شاید سب سے اہم ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔جبکہ ترکیہ کے ساتھ تعلقات حالیہ دور میں ہی نمایاںطو رپر مضبوط ہوئے ہیں۔اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو سعودی سرمایہ کاری تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل ہوگی ، ترکیہ کے ساتھ دفاعی صنعت میں گہرا تعاون بڑھے گا اور یوں خلیجی ممالک کی سلامتی کے متعلق پاکستان زیادہ موثر کردار ادا کر سکے گا۔
یہ معاہدہ امریکی سیکورٹی کا متبادل نہیں ہے بلکہ اس میں علاقائی ممالک اپنی سلامتی کیلئے مزید متبادل راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ لیکن آج ماہرین یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ معاہدہ تینوں ممالک تک محدود رہے گا او ر اگر مستقبل میں دیگر مسلم اکثریتی ممالک اس معاہدے میں شامل ہونا چاہیں تواس معاہدے کا ڈھانچہ کیا صورتحال اختیار کرے گا؟ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ معاہدہ اسلامی نیٹو نہیں بن سکتا لیکن یہ ایک ایسا عملی دفاعی معاہدہ اور نیٹ ورک ضرور بن سکتا ہے جو دفاعی ٹیکنالوجی ، انٹلیجنس کے تبادلے، مشترکہ فوجی مشقیں اور باہمی عسکری ہم آہنگی کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کر سکتا ہے ۔اس معاہدے کا اصل امتحان مشترکہ منصوبہ بندی ، موثر عسکری تعاون او رقابل اعتماد دفاعی رد عمل سے ہی اخذ کیا جاسکتا ہے۔سعود ی عرب کے ایک وزیر نے اس معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی فوجی اتحاد یا فرقہ وارانہ بلاک کے قیام کی کوشش نہیں ہے۔
دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایک علاقائی سلامتی کے نظام کی تشکیل کیلئے تیار ہے اور وہ اس نظام میں اقتصادی تعاون کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ دراصل مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے استعمال ہوگا نہ کہ اسے کسی مسلم ملک کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ترک قیادت کی طرف سے بھی واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ دوسرے ممالک بھی اس نظام کا حصہ بن سکتے ہیں ۔
آج اکیسویں صدی میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تمام خلیجی ممالک، ایران، پاکستان اور ترکیہ مل کر ایک نیا علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دیں جو ان تمام ریاستوں کو ایک مشترکہ فریم ورک میں جوڑ دے ۔ یوں خلیج سے امریکی فوجی اڈے بھی کم ہوتے جائیں گے اوراس علاقے میں امریکی تسلط بھی کم سے کم ہو جائے گا۔اس علاقے میں ایک دیر پا امن کیلئے ضروری ہے کہ دیگر خلیجی اور سارک ممالک کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جائے تاکہ اس خطے کے تمام ممالک اپنی عوام کیلئے دیر پا امن اور خوشحالی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کو اس خطے میں مداخلتوں سے روک سکیں۔اس معاہدے کے بعد ایران پر بھی یہ لازم ہوگا کہ وہ خلیجی ممالک پر حملے بند کر دے اور خلیجی ممالک بھی اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تمام خلیجی ممالک اور ایران کو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے کیونکہ ان کی جغرافیائی حیثیت کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتی۔اس لیے بہتر ہوگا کہ وہ باہمی سلامتی کیلئے پر امن بقا باہمی کا کوئی قابل عمل طریقہ اپناتے ہوئے دفاع کے ساتھ ساتھ معیشت ، مشترکہ کرنسی ،، ٹیکنالوجی، تعلیم ، باہمی تجارت اور سفارت کاری میں بھی ایک دوسرے کے قریب آجائیں۔