• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جلال الدین رومی ان نابغہ روز گار ہستیوں میں سے تھے جو اپنی تہذیب کے استعارہ کا درجہ پا جاتی ہیں۔ یہی دیکھئے کہ قلم اٹھایا تو کس دلگداز واردات سے کلام آغاز کیا۔ اپنی حکایت کے بیان کے لیے کس چوب خشک کا انتخاب کیا۔ تیری کوک میں پریم لگن ہے، کوئلیا تو برہن ہے۔پانچ سو برس بعد آگرہ میں ایک اور وارفتہ روح کا ظہور ہوا جس نے کہا تھا، دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے۔ پچھتائو گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر۔ میرؔ نے کیا دور بیں نگاہ پائی تھی، ہم آج ایسے ہی زمانے میں زندہ ہیں جہاں ایک ہم عصر شاعر نے کہا، ’تاحد نظر شہر خموشاں کے نشاں ہیں‘۔ اب یہاں نہ کوئی اقبال ہے کہ جس کی نوائے شوق سے حریم ذات کے خاموش پانیوں میں شور برپا ہو، نہ کوئی سید ابو الاعلیٰ مودودی ہیں کہ خوش بیانی سے زوال عصر کی گرہیں وا کریں، نہ چراغ حسن حسرت کا قلم ہے کہ اخباری کالم میں علم کے جوہر دکھاتا گزر جائے۔

علم بیان میں لے دے کے ایک حضرت جاوید غامدی ہیں اور ان پر یہ زمین تنگ ہے۔ بلاد کراچی میں ایک صاحب رضا علی عابدی ہیں کہ مائل بہ کلام ہوں تو پھولوں کی پتیاں فضا سے نرت کرتی زمیں پر اترتی ہیں۔ لاہور کی بستی داروغہ والا کے ایک کوچے میں محمد سلیم الرحمن فروکش ہیں کہ شاما چڑیا جتنے جثے میں علم و فہم کے خزانے سمیٹے بیٹھے ہیں، سرحد پار لکھنؤ میں انیس اشفاق نام کے ایک جوہر تراش ہیں کہ کلک گہر بار سے انسانوں کی نقش گری کرتے ہیں۔ ہم پر کوئی صبح ایسی نہیں گزرتی کہ کسی چراغ کے بجھنے کی خبر نہ ملتی ہو۔ لو اور سنو، اندو مٹھا گزر گئیں۔ بانوے برس قبل لاہور کی گلزار گلیوں سے اٹھنے والی برق سیماب صفت کو ڈبلن کے دیار غیر میں مٹی نصیب ہوئی ہے۔ گویا رقص کا پارہ خروش بھی تھم گیا۔ ہمارے چمن کے بلند و بالا شجر وقت کی آندھیوں کی زد میں ہیں، اب ہم ہیں اور ماتم یک شہر آرزو۔ ایسے میں برادر راشد لنگڑیال کو کیوں نہ مغتنم جانیں۔ پیچیدہ زمینوں میں سنگ خارا سے مکالمے کی دھارا نکالتے ہیں مگر ایسا انکسار، ایسی نمرتا کہ مخاطب عرق انفعال میں غرق ہو جائے۔ صاحب اس عجز سے بات کہنے کا ڈھب وہی جان سکتا ہے جس کے کیسے میں فراست کی دولت ہو، جس کے ناخنوں میں علم بھرا ہو۔ ایسے کافر کا کیا کرے کوئی۔ خیال تھا کہ ماہ اگست کی مناسبت سے بات شروع ہوئی ہے۔ موعودہ چار قطعہ بند مرقعوں میں بات سمٹ جائے گی مگر صاحب راشد بھائی تو گہرے پانیوں میں ایسی ڈور ڈالتے ہیں کہ ماہی دریاب خیال و معنی کے جال کی اسیر ہو جاتی ہے۔ ’لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم‘ کا نقشہ کھنچ جاتا ہے ۔ تو پھر ٹھیک ہے، مکالمہ آگے بڑھنا چاہیے۔

حضرت نے بیان شیریں کے تیسرے حصے میں بہت سے نکات اٹھا دیے۔ کلام میں گریز کا زیادہ رخ تو ہمسایہ ملک کی طرف رہا اور ایسا کیوں نہ ہوتا، ہم ایک ہزار برس اکٹھے رہے۔ یہاں کے دریائوں ، ندی نالوں اور چشموں سے پیاس بجھائی۔ یہاں کی مٹی سے دانہ رزق اگاتے رہے ۔ پھر یہاں اجنبی زمینوں سے آنے والے حکمرانوں کا حکم اور سکہ چلا ۔ پچھلی صدی کے وسط میں کچھ ایسے قضیے اٹھے کہ تاریخ، جغرافیے اورمعیشت کے دھاگے منقطع ہو گئے ۔ ایک ہی دیس پر نئی لکیریں نمودار ہو گئیں۔ سرحد کہلانے والے یہ نقوش سیاست کی تیرہ و تاریک گھاٹیوں سے گزرتے ہوئے بلند دیواروں میں بدل گئے۔ راشد بھائی کا مقدمہ یہ ہے کہ یہ تقسیم درست تھی اور تاریخ نے اس کی اصابت پر گواہی دی ہے۔ اسی استدلال میں برادر عزیز نے 2006 ء کی سچر رپورٹ کا حوالہ دیا۔ پھر 2013 ء میں قائم ہونے والی کنڈوکمیٹی کا جائزہ لیا ۔ کسی وجہ سے برادر عزیز نے 1979 ء کے منڈل کمیشن کا ذکر نہیں کیا۔ تان یہاں پر توڑی کہ مسلمان اب وہ واحد بڑا طبقہ ہے جس کے بیٹے اپنے باپ سے آگے نکلنے کی امید کھوتے جا رہے ہیں۔ راشد صاحب کی رائے سے کسی بنیادی اختلاف کی گنجائش نہیں ۔ دو نکات عرض ہیں۔ 19 جون 2014 ء کو پاکستان کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے گوجرہ کے ایک اندوہ ناک واقعے کے تناظر میں مذہبی اقلیتوں کے بارے میں پہلے سے موجود آئینی تحفظات اور ضمانتوں کی روشنی میں ایک اہم فیصلہ دیا تھا۔ بارہ برس گزر گئے ۔ جیلانی صاحب کے فیصلے کے بنیادی نکات ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے ۔ گزشتہ بارہ برس سے اس ملک کے اقلیتی شہری عدالت عظمیٰ کے دروازے پر پہنچتے ہیں جہاں فرانز کافکا کی ایک معروف حکایت کے اتباع میں ایک بے چہرہ کمیشن حائل ہے جو انصاف مانگنے والوں کو عدل تک رسائی نہیں دیتا۔ اس بیچ 16اگست 2023 ء کو جڑانوالہ میں گوجرہ سے کہیں زیادہ خوفناک سانحہ وقوع پذیر ہوا۔ ہمارے مقامی سنگھ پریوارکے پرجوش مکھیا جڑانوالہ میں کھلے عام وہ سب کرتے رہے جس کا ذکر کر کے ہم ہمسایہ ملک پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ 9 مارچ 2013 ء کو لاہور کے علاقے جوزف کالونی میں لوٹ مار اور آتش زنی کے پس پردہ محرکات تو اور بھی شرمناک حد تک مجرمانہ تھے۔ برادر عزیز نے ہندوستانی مسلمان نوجوانوں کی امید ختم ہونے کا ذکر کیا ہے ۔ ہمارے ملک میں اکثریت یا اقلیت سے قطع نظر ہر برس لاکھوں نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں۔اس سے بڑا سانحہ کیا ہو گا کہ نصف صدی قبل ہمارے ملک کی 56 فیصد آبادی ہمیں چھوڑ گئی تھی ہم اس سانحے کو Republic of Amnesia کی گرد آلود تاریخ میں دفن کر چکے ہیں۔

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر سنگ زنی کرنا آداب شرافت سے بعید ہے۔ برادر محترم نے اس کے بعد ہمسایہ ملک کے انتخابی عمل اور قانون سازی میں اقلیتوں کی شرکت کے ضمن میں بہت سے ناقابل تردید حقائق پیش کیے ہیں انصاف کا بنیادی اصول مگر یہ ہے کہ فریقین کا مؤقف سنا جائے۔یک طرفہ بیان کی روشنی میں فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہوتے جس کی ضمانت ہمارے دستور کی شق 10 الف میں دی گئی ہے۔

تازہ ترین