ہمارے ہاں ایک جملہ ہر محفل کی زینت ہے: یہ قوم ایٹم بم بنا سکتی ہے مگر اسکول نہیں چلا سکتی۔ کہنے والا آہ بھرتا ہے اور سننے والا سر ہلا کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ ناچیز کی گزارش یہ ہے کہ یہ تضاد نہیں، ترتیب ہے جو ترتیب سمجھ لے، اسے اصلاح کا راستہ خود سوجھنے لگتا ہے۔
اس ریاست نے 1998ء میں ایٹمی دھماکا کیا، موٹروے اور اسکی رشوت نہ لینے والی پولیس بنائی، نادرا کھڑا کیا اور اسی ریاست کے ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اندر ہیں ان میں تین چوتھائی پڑھ نہیں سکتے، تھانے میں رپورٹ لکھوانا جوئے شیر لانا ہے، عدالتوں میں بیس لاکھ سے زائد مقدمے سانس روکے کھڑے ہیں اور محصولات کے محکمے کے ہزاروں سالانہ آڈٹ اور تشخیصی احکام میں سے عدالت کی کسوٹی پر کھرے اترنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ تضاد؟ جواب نفی میں ہے، بشرطیکہ ریاست کے کاموں کو ایک لکیر پر رکھنے کے بجائے ایک نقشے پر رکھ لیا جائے۔ یہ نقشہ پرچٹ اور وول کاک (Pritchett & Woolcock ) نے کھینچا تھا۔اس کے دو محور ہیں۔ پہلا محور تعداد کا ہے: کام سال میں ایک بار ہوتا ہے یا دس لاکھ بار؟ دوسرا صوابدید کا: ہر بار عقل کا استعمال درکار ہے یا ضابطہ کافی ہے؟ ان دو محوروں سے سرکاری کاموں کی چار قسمیں بنتی ہیں۔ پہلی وہ جہاں تعداد بھی کم ہے اور صوابدید بھی۔ دوسری قسم وہ جہاں صوابدید بہت مگر واقعات کم: بم بنانا، بجلی گھر لگانا، ڈیم اٹھانا۔ یہاں چند سو ذہین لوگوں کی ایک الگ ٹیم اور دس برس درکار ہوتے ہیں۔ سعدی نے بنی آدم کو ایک پیکر کے اعضا کہا تھا ۔یہاں ریاست کو پورے پیکر کو نہیں، ایک انگلی کو قابل بنانا پڑتا ہے۔ تیسری قسم وہ جہاں واقعات کروڑوں ہیں مگر صوابدید ختم کی جا سکتی ہے: شناختی کارڈ کا اجرا، کیمرے کا چالان۔ یہاں ٹیکنالوجی اہلکار کی صوابدید باندھ دیتی ہے۔
چوتھی قسم وہ جہاں واقعات بھی کروڑوں ہیں اور صوابدید بھی ختم نہیں کی جا سکتی: استاد، طبیب، تھانے دار، منصف اور تخمینہ لگانے والے ٹیکس افسر کا کام، جہاں ہر ایک ہر بار ایک الگ فیصلہ کرتا ہے۔ پرچٹ ان کاموں کو wicked hard کہتے ہیں: لاکھوں اہلکار، روزانہ لاکھوں فیصلے، اور کوئی کیمرا انہیں ایک ایک کر کے دیکھ نہیں سکتا۔ ایسا کام صرف دیانت اور اہلیت کی وہ ادارہ جاتی ثقافت چلا سکتی ہے جس میں اہلکار صحیح فیصلہ اسلئے کرتا ہے کہ اسکے ساتھی یہی کرتے ہیں۔ چوتھی قسم کا کام اتقان، یعنی کام کو کمال تک پہنچانا، کے سوا کسی چیز سے نہیں چلتا، اور اتقان فرد کی خوبی نہیں، برادری کی خو ہے۔
ہماری ساری کامیابیاں دوسری اور تیسری قسم کے کاموں میں ہیں۔ہماری ساری ناکامیاں چوتھی قسم میں۔ بم اور مکتب میں تضاد نہیں، دو الگ قسم کے کاموں کا فرق ہے۔ تضاد اس لیے دکھائی دیتا ہے کہ ہم ریاستی صلاحیت کو ایک عدد سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ نقشہ ہے جس کے ایک کونے پر ہم بلند ہو سکتے ہیں اور دوسرے پر زمین بوس۔ اور یہی سیدھی لکیر والی سوچ ہماری اصلاحات کی غلطی ہے: ہم چوتھی قسم کے کام کو دوسری قسم کے اوزار سے حل کرتے آئے ہیں:کمیشن، قانون، منصوبہ، سافٹ ویئر، تین برس۔ گویا تعلیم کوئی ڈیم ہو جو ایک بار بن جائے تو بن گیا۔
اس تضاد کی ایک اور تشریح بھی رائج ہے اور وہ نیت کی ہے: جہاں ہم نے سچ مچ چاہا، بم بن گیا۔ باقی ادارے اس لیے نہیں چلتے کہ ہم چاہتے ہی نہیں۔ یہ آدھا سچ ہے۔ پہلی تین قسم کے کام نیت سے چل جاتے ہیں: ایک حکومت جو خود دست درازی سے پاک ہو، اسٹیٹ بینک کی شرحِ سود درست رکھ سکتی ہے، بم اور موٹروے کی ٹیم چن سکتی ہےاور نادرا کی طرح لاکھوں لین دین ٹیکنالوجی کے سپرد کر سکتی ہے۔ مگر چوتھی قسم کا کام صرف نیت سے نہیں، ادارہ جاتی صلاحیت سے چلتا ہے۔ فرض کیجیے آج سب سے نیک نیت حکومت آ جائے، خزانہ بے حساب ہو، اور وہ ٹھان لے کہ ہر بچہ پڑھے گا اور ہر مقدمہ سال بھر میں نمٹے گا۔ کیا وہ کر پائیگی؟ اسکے پاس وہ ادارے ہی نہیں، لاکھوں اہلکاروں کے وہ ادارے جن میں کام اور دیانت داری کی ثقافت ہو۔ بم کی نیت کو ایک ٹیم درکار تھی۔ مکتب کی نیت کو ایک ادارہ، جو راتوں رات نہیں بنتا۔ اس لیے انصاف یہ ہے کہ جن حکومتوں نے نیک نیتی سے کوشش کی، انہیں پہلی تین قسموں پر پرکھا جائے، چوتھی پر نہیں۔چوتھی کے لیے جو سرمایہ ایک نسل پہلے لگنا چاہیے تھا، وہ کسی نے نہیں لگایا۔ اور اسی میں امید ہے: آج لگائیں تو کل کام آئے گا۔
فرق کی جڑ وقت میں ہے، اور یہ بات ہمارے حکما صدیوں پہلے کہہ گئے۔ ابنِ خلدون نے مقدمے میں لکھا ہے کہ صنعت اور ہنر ایک نسل میں نہیں پکتے۔وہ استاد سے شاگرد تک پشت در پشت رچ کر کمال کو پہنچتے ہیں۔ ڈیم کی صلاحیت خریدی جا سکتی ہے ادارہ جاتی ثقافت خریدی نہیں جا سکتی، اگائی جاتی ہے، اور اگنے میں دہائیاں لگتی ہیں۔ ہم نے پرائے ادارے کا قانون اور سافٹ ویئر اوڑھا، ثقافت نہیں۔ حافظ نے کہا تھا: وآنچہ خود داشت ز بیگانہ تمنا می کرد۔
پھر چوتھی قسم کے کام کی صلاحیت کیسے بنتی ہے؟ چار اصول ہیں۔ پہلا: جو صوابدید ٹیکنالوجی سے ختم ہو سکے، ختم کر دیجیے۔کام کو چوتھی قسم سے تیسری قسم میں دھکیل دیجیے۔ مگر پڑھانے اور فیصلہ سنانے سے صوابدید ختم نہیں کی جا سکتی۔ دوسرا: جو صوابدید باقی رہے، اسے ناپیے اور ناپ کو نتیجے سے باندھیے۔ اسی ملک کے تجربوں کا سبق یہی ہے: جہاں معاوضہ کارکردگی سے جڑا، وصولی بڑھی۔ جہاں معائنہ درج ہونے لگا، حاضری بڑھی۔ جہاں والدین کو نتیجہ دکھایا گیا، تعلیم بڑھی۔ تیسرا: مسئلے سے چلیے، حل کی نقل سے نہیں۔ چھوٹے قدم لیجیے، نتیجہ پرکھیے، اور دہراتے رہیے یہاں تک کہ درست حل سامنے آ جائے۔ فارسی کی کہاوت ہے: کارِ نیکو کردن از پُر کردن است۔ چوتھا، اور سب سے مشکل اصول: وقت دیجیے، صبر کیجیے۔ ادارہ جاتی ثقافت ایک تبادلے کی مدت میں نہیں بنتی، ایک حکومت کے دور میں بھی نہیں۔اسے وہ سائبان درکار ہے جو ایٹمی پروگرام کو ملا، مگر چند سو کیلئے نہیں، چند لاکھ کیلئے۔
نتیجہ یہ کہ اصلاح کی اکائی محکمہ نہیں، پیشہ ہےاور پیشہ چار ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے۔ بھرتی: میرٹ پر تو اب بڑی حد تک ہے مگر جن مضامین پر ہے وہ انیسویں صدی کے ہیں۔ معاشیات، عوامی مالیات اور انتظام کو اس کی بنیاد بننا ہے۔ تربیت: ایسی جس میں ناکام ہونا ممکن ہو، ورنہ وہ تربیت نہیں، تفریح ہے۔ ترقی: ہرم کی شکل میں، ہر ایک کیلئے نہیں۔ جہاں سب اوپر جائیں وہاں کوئی اوپر نہیں جاتا۔ اور معاوضہ: اتنا باوقار کہ ہاتھ نہ پھیلانا پڑےاور اس کا ایک حصہ کارکردگی سے بندھا ہو تاکہ جو دیانت اور محنت سے کام کرے وہ باقیوں سے آگے نکل سکے۔ ریاست نے سائنسدان کا پیشہ اسی طرح بنایا تھا، تو بم بنا۔ اقبال نے کہا تھا: موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں۔ دیانت دار اور قابل اہلکار بھی موج ہے، دریا نہ ہو تو ریت پر سوکھ جاتا ہے۔