• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قوموں کی زندگی میں کبھی ایسے غیرمعمولی لمحات آتے ہیں جب عالمی حالات ان کیلئے ان کے معاشی حجم اور سیاسی وزن سے کہیں زیادہ وسیع امکانات پیدا کر دیتے ہیں۔ دانش مند قومیں ایسے مواقع کو وقتی کامیابی سمجھ کر جشن منانے کے بجائے مستقل قومی طاقت میں تبدیل کرتی ہیں۔ پاکستان آج شاید اسی تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک عالمی سطح پر اس کا ذکر دہشت گردی، معاشی کمزوری، سیاسی انتشار اور سفارتی تنہائی کے حوالے سے ہوتا تھا، مگر حالیہ مہینوں میں وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک مؤثر سفارتی قوت، قابلِ اعتماد ثالث اور اہم تزویراتی شراکت دار (Strategic Partner) کے طور پر ابھرا ہے۔پاکستان کی اس سفارتی واپسی کا اصل مظہر کوئی ایک دفاعی معاہدہ، سربراہی ملاقات یا رسمی اعلامیہ نہیں، بلکہ باہم متحارب ممالک کے ساتھ بیک وقت اعتماد کا رشتہ برقرار رکھنا ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ خلیجی ریاستوں کی سلامتی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، عالمی تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت شدید خطرات سے دوچار ہوگئی تھیں۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، ایران، امریکہ اور چین کیساتھ اپنے تعلقات کو کسی ایک فریق کی حمایت کے بجائے جنگ روکنے اور مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کیلئے استعمال کیا۔پاکستان سعودی عرب کا دفاعی و اقتصادی شراکت دار، قطر کا قابلِ اعتماد دوست، ترکیہ کا دیرینہ ساتھی، ایران کا اہم ہمسایہ اور چین کا تزویراتی رفیق ہے، جبکہ واشنگٹن کے ساتھ بھی اس نے مؤثر رابطے بحال رکھے۔ متصادم مفادات رکھنے والی ان طاقتوں کا اعتماد بیک وقت حاصل کرنا معمولی کامیابی نہیں۔ اس نے ثابت کیا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت دانش مندانہ خارجہ پالیسی کے ذریعے سفارتی قوت بن سکتی ہے۔اس کامیابی کا پہلا بڑا مظاہرہ اس وقت ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایرانی نمائندوں سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد پہنچا۔ حالتِ جنگ میں موجود دو ممالک پاکستان کو مذاکرات کیلئے قابلِ قبول مقام سمجھنے پر آمادہ ہوئے۔ مذاکرات طویل رہے اور جوہری پروگرام، پابندیوں اور آبنائے ہرمز سمیت اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔ سفارت کاری کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ پہلی نشست میں تمام تنازعات حل ہوجائیں۔ اصل کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے جنگ کے درمیان مذاکرات کا دروازہ کھولا اور فریقین کا رابطہ ٹوٹنے نہیں دیا۔پاکستان اور قطر کی مسلسل ثالثی بالآخر 18جون 2026ء کو ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی صورت میں سامنے آئی، جسے امریکہ اور ایران نے قبول کیا۔ یہ دستاویز محض جنگ بندی کا اعلان نہیں تھی بلکہ مزید مذاکرات اور دیرپا تصفیےکیلئے ایک باقاعدہ سفارتی ڈھانچے کی بنیاد بنی۔ اس پیش رفت نے پاکستانی ثالثی کو علامتی ملاقاتوں اور تصویری سفارتکاری سے نکال کر ایک قابلِ عمل امن عمل میں تبدیل کر دیا۔اگلا مرحلہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں منعقد ہونے والا لیک لوسرن سربراہی اجلاس تھا، جہاں امریکہ اور ایران کے نمائندوں نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کیے۔ فریقین نےساٹھ دن کے اندر حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت کیلئے روڈمیپ، اعلیٰ سطحی کمیٹی اور فنی مذاکرات کے طریقۂ کار پر اتفاق کیا۔ جوہری پروگرام، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل جیسے پیچیدہ موضوعات کو مرحلہ وار طے کرنے کی کوشش کی گئی۔پاکستان نے چین کو اس عمل میں شریک کرکے بھی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ بیجنگ کو تہران میں نمایاں اثرورسوخ حاصل ہے، وہ پاکستان کا تزویراتی ساتھی ہے اور خلیج کے امن اور توانائی کی فراہمی میں اس کے گہرے مفادات ہیں۔ چین کی معاونت سے امریکہ اور ایران کو مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش نے پاکستانی سفارت کاری کو مزید وزن دیا۔ یوں اسلام آباد نے واشنگٹن اور بیجنگ کیساتھ روابط کو علاقائی امن کیلئے استعمال کیا۔اسی تناظر میں 7اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو دیکھنا چاہیے۔ اس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ اہم تزویراتی پیش رفت ہے، مگر سفارتی کامیابی کی پوری کہانی نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ سے دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے باوجود پاکستان نے ایران کا اعتماد برقرار رکھا۔ ایران کا اسے علاقائی خودانحصاری کی کوشش قرار دینا پاکستان کی متوازن سفارت کاری کا اعتراف ہے۔اس کامیابی کا قومی سطح پر فراخ دلی سے اعتراف ہونا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سیاسی اور تزویراتی سطح پر فعال کردار ادا کیا، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور دفتر خارجہ نے سفارتی رابطوں، مذاکرات اور پالیسی کے تسلسل کو عملی صورت دی۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ کسی ایک اتحاد کا تابع ملک بننے کے بجائے متحارب طاقتوں کے درمیان رابطے کا پُل بھی بن سکتا ہے۔تاہم سفارتی کامیابی کا حتمی پیمانہ ملاقاتیں، تصاویر اور اعلامیے نہیں ہوتے۔ اسے نئی سرمایہ کاری، بڑھتی ہوئی برآمدات، توانائی کے تحفظ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، نئی منڈیوں اور روزگار کے مواقع میں تبدیل ہونا چاہئے۔ اگر سفارتی اثرورسوخ عام پاکستانی کی معاشی زندگی میں بہتری پیدا نہ کرسکے تو یہ کامیابی ادھوری رہے گی۔موجودہ قیادت نے ایک غیرمعمولی سفارتی موقع پیدا کیا ہے، مگر شخصیات بدلتی، حکومتیں تبدیل ہوتی اور عالمی بحران گزر جاتے ہیں۔ اصل امتحان اس کامیابی کو مستقل قومی پالیسی میں ڈھالنا ہے۔ اسے ایک بار استعمال ہونے والے OTP کی طرح ضائع کرنے کے بجائے پائیدار ادارہ جاتی قوت بنایا جائے۔اگلی نشست میں پاکستان کی فارن سروس اور بیرونِ ملک سفارتی مشنز کی تشکیل، کارکردگی اور کمزوریوں کا جائزہ لیا جائیگا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حالیہ کامیابیوں سے پہلے پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار کیوں ہوا اور ہمارے مشنز کو مستقل بنیادوں پر زیادہ پیشہ ور، فعال اور نتیجہ خیز بنانےکیلئےکن اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سفارتی واپسی کا سفر اسی وقت مکمل ہوگا جب اسے شخصیات کے بجائے مضبوط اداروں، پیشہ ورانہ صلاحیت اور پالیسی کے تسلسل کی بنیاد فراہم کردی جائے۔

تازہ ترین