• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز دراصل پاکستان کی وزیرِ اعظم بننے کی تیاری میں ہیں۔ اُن کی یہ تیاری اکثر ان کے بیانات اور تقریروں میں بھی جھلکتی ہے۔ اُن کے ایک تازہ بیان نے پورے بھارت کو خوشگوار حیرت اور اہل کشمیر کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ مریم نواز نے فرمایا ہے کہ اُنہیں اپنے پڑوسی ملک سے نہیں بلکہ اپنے پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزیرِاعلیٰ کا یہ بیان ہمارے اُن تمام صاحبانِ اختیار کے دعووں کی تردید کرتا ہے جن کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں موجود دہشت گردوں کے پیچھے بھارت ہے۔ اب مریم نواز اور انکے ترجمان اس بیان کی کوئی نہ کوئی وضاحت تو جاری کر دیں گے لیکن مجھے یہ بیان پڑھ کر ایک محترم کشمیری صحافی شیخ محمد امین کی کتاب” کشمیر فریب زدہ“ یاد آگئی ہے جو چند ماہ قبل شائع ہوئی۔ کچھ دن پہلے میں نے یہ کتاب پڑھی تو محسوس ہوا کہ نواز شریف اور اُن کے خاندان کے متعلق شیخ محمد امین کا لب و لہجہ بہت سخت ہے۔ شیخ صاحب نے جنرل پرویز مشرف، نواز شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک ہی لائن میں کھڑا کر کے انہیں کشمیریوں کا مجرم قرار دیا۔ شیخ محمد امین کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہند واڑہ سے ہے۔ سرینگر کی کشمیر یونیورسٹی سے ایم ایس سی کرنے کے بعد وہ اُستاد بن گئے ۔ پھر ہفت روزہ چٹان سرینگر سےصحافت شروع کر دی۔ آزادی کی تڑپ اُنہیں جیل بھی لے گئی۔دو سال جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہوئے تو وہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ 2010 میں وہ مظفرآباد سے شائع ہونے والے جریدے” کشمیر الیوم “کے مدیرِ اعلیٰ بن گئے۔ کئی کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔ نئی کتاب” کشمیر فریب زدہ “میں انہوں نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا ماضی اور حال بیان کرنے کے بعد مستقبل کا تجزیہ کیا ہے۔ نواز شریف کے بارے میں وہ اپنی اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ اُنہوں نے بطور وزیرِ اعظم مسئلہ کشمیر پر توجہ دینے کی بجائے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط کو ترجیح دی۔ شیخ محمد امین نےبھارتی صنعتکار سجن جندال کے ساتھ نواز شریف کی دوستی اور مبینہ کاروباری تعلقات پر بہت کچھ لکھا ہے۔ کتاب میں سابق بھارتی وزیرِ اعظم آئی کے گجرال کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ 1997ءمیں نیویارک سے واپس آتے ہوئے اُنہوں نے اپنے طیارے میں صحافیوں کو نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے بارے میں دلچسپ تفصیلات بتائیں۔ گجرال کے بقول نواز شریف نے اُن سے کشمیر پر زیادہ بات چیت نہیں کی۔ شیخ محمد امین لکھتے ہیں کہ 2014 ء میں نواز شریف نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی۔ 2015ء میں روس کے شہرِ اُوفا میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے سے کشمیر کا لفظ غائب تھا اور کچھ ہی عرصہ بعد مودی اچانک مریم نواز کی صاحبزادی کی شادی میں شرکت کیلئے لاہور پہنچ گئے۔ آگے چل کر شیخ محمد امین نے ’’باجوہ ڈاکٹرائن‘‘ کا تجزیہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ باجوہ ڈاکٹرائن دراصل نواز شریف کی تاجرانہ ڈاکٹرائن کا تسلسل تھا جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کو منجمد کرکے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانا تھا لیکن دوسری طرف بھارت نے کلبھوشن یادیو جیسے کرداروں کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی پالیسی بھی جاری رکھی۔ پاناما پیپرز کیس میں ایک اقامہ کی وجہ سے نواز شریف کو سپریم کورٹ نے 2017 میں نااہل کر دیا تو عمران خان وزیر اعظم بن گئے۔ شیخ صاحب کہتے ہیں کہ جب جنرل باجوہ کو احساس ہوا کہ عمران خان ان کی ڈاکٹرائن کا بوجھ اُٹھانے کے قابل نہیں تو ’’گھوڑا‘‘ بدلنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ شیخ محمد امین کی رائے سے اختلاف کرنیوالے بہت لوگ ہیں لیکن ان کی کتاب دراصل پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے بارے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی اُس مایوسی کو بیان کرتی ہے جس کا نکتہ آغاز 21فروری 1999ء کو نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان طے پانے والا اعلان لاہور تھا اور اسکی انتہا 5 اگست 2019ء کو بھارت کی طرف سے اپنے آئین میں ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا تھا۔ شیخ محمد امین کی کتاب کے ایک باب کا نام”تاجرانہ ڈاکٹرائن “ اور اگلے باب کا نام”باجوہ ڈاکٹرائن “ ہے۔ یہ کتاب مئی 2025ء کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں کشمیر کی تحریک آزادی سے وابستہ ایسے افراد کا بھی ذکر ہے جن کو بھارتی خفیہ اداروں نےپاکستان اور آزاد کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ شیخ صاحب نے خبردار کیا ہے کہ 2008ء کے بعداسرائیلی فوج کی طرف سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کی تحریک آزادی کے خاتمے کیلئے مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ بھارت کشمیر کو ایک نیا غزہ بنانے کی تیاری میں ہے۔ شیخ محمد امین لکھتے ہیں کہ کشمیریوں کی قربانیاں کبھی ضائع نہیں ہوں گی۔ اس کتاب کا منفرد پہلو یہ ہے کہ شیخ محمد امین نے کئی جگہ اپنے تلخ لہجے کے باوجود ایک مورخ کی حیثیت سے فکری بد دیانتی کا مظاہرہ نہیں کیا۔وہ ایک طرف سید علی گیلانی کو اپنا فکری و نظریاتی رہبر قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف شہید مقبول بٹ کی قربانی کو اپنا حوصلہ اور طاقت بھی سمجھتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ 1987ء کے ریاستی انتخابات میں دھاندلی نے مسلح مزاحمت کو جنم دیا۔ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین نے 1987ء میں محمد یوسف شاہ کے نام سے سرینگر کے ایک حلقے سے الیکشن لڑا۔جے کے ایل ایف کے اسیر رہنما یاسین ملک اُن کے چیف پولنگ ایجنٹ تھے۔ جب بھارتی حکومت کی طرف سے بیلٹ کا تقدس پامال کیا گیا تو ان دونوں نے بُلٹ کا راستہ اختیار کیا۔ 1987ء کی دھاندلی کے بعد کچھ عرصہ خاموشی رہی لیکن 1988ء میں مسلح مزاحمت شروع ہو گئی۔ شیخ محمد امین لکھتے ہیں کہ مزاحمت کا آغاز کرنے والوں کا تعلق جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سے تھا لیکن ان میں کئی افراد نظریاتی طور پر پیپلز لیگ، جماعتِ اسلامی اور دیگر جماعتوں سے وابستہ تھے۔ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں ایک خوابیدہ آتشِ فشاں کی سی خاموشی ہے کیونکہ کشمیر ایک صدمے سے دوچار ہے۔ شیخ صاحب لکھتے ہیں کہ بھارتی آئین سے آرٹیکل 370ختم ہو گیا لیکن قدرت کا قانون توختم نہیں ہوا۔ کشمیریوں کی بے بسی پر مسکراؤ مت تم اپنی خیر مناؤ۔ ’’کشمیر فریب زدہ‘‘ کے اختتام پر وارننگ دیتے ہوئے لکھتے ہیں :”کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل نہ کیا گیا تو کسی بھی وقت ایک معمولی چنگاری بہت بڑی آگ میں بدل سکتی ہے جس سے ناصرف اس خطے کی تاریخ بلکہ اسکا جغرافیہ بھی بدل جائے گا اور اکھنڈ بھارت کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔“

تازہ ترین