اسرائیلی اخبار ’ہاریتز‘ کی ایک تحقیقات رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حماس کے سابق سربراہ یحییٰ سنوار نے 7 اکتوبر 2023ء کے حملے سے چند روز قبل غزہ سے ایک بڑے حملے کی تیاری کا پیغام بھیجا تھا جو اسرائیلی خفیہ ادارے کو موصول ہوا تھا۔
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی دوران ایک عرب شخصیت نے بھی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو براہِ راست فون کر کے خبردار کیا تھا کہ یحییٰ سنوار کسی بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نامور عرب شخصیت اور نیتن یاہو کے درمیان تقریباً 45 منٹ تک بات ہوئی تھی، عرب شخصیت نے خبردار کیا تھا کہ ممکنہ حملہ بڑے پیمانے پر خونریزی کا سبب بننے کے ساتھ پورے خطے کو غیر مستحکم اور ابراہیم معاہدوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، تاہم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور کہا کہ میرے خیال میں حماس مغربی کنارے میں کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اس مبینہ فون کال کے بارے میں شن بیت، موساد اور اسرائیلی فوج کے سربراہ سمیت اپنے اعلیٰ ترین سیکیورٹی حکام کو آگاہ نہیں کیا تھا، عرب شخصیت نے بعد میں امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ ولیم برنز کو بھی اس گفتگو سے آگاہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 2023ء کے آغاز میں شن بیت اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے خفیہ براہِ راست مذاکرات جاری تھے اور ایک معاہدہ تقریباً طے پا گیا تھا لیکن نیتن یاہو نے متعلقہ وزارتی کمیٹی کا اجلاس بار بار مؤخر کیا۔
رپورٹ کے مطابق خدشہ تھا کہ معاہدہ منظرِ عام پر آنے یا حکومتی اتحادیوں کے ردِعمل سے سیاسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ستمبر 2023ء میں یحییٰ سنوار نے ثالث کے ذریعے خبردار کیا کہ ہم ایک ’زلزال‘ یعنی بڑے زلزلے جیسی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں، بعد میں حماس کے سربراہ نے اس کارروائی کو ’سب سے بڑی حیرت انگیز‘ اور ’خوفناک کارروائی‘ قرار دیا، یہ پیغام 15 ستمبر کو شن بیت تک پہنچا اور اس وقت کے سربراہ رونن بار نے نیتن یاہو کو آگاہ کیا۔
17 ستمبر کو ہونے والے ایک اہم سیکیورٹی اجلاس میں رونن بار نے خبردار کیا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ ’ٹکراؤ کی جانب بڑھ رہا ہے‘ اور غزہ و مغربی کنارے میں دفاعی اقدامات مضبوط کرنے یا طاقتور فوجی کارروائی کی سفارش کی تاہم کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصر کے انٹیلی جنس سربراہ عباس کامل نے بھی نیتن یاہو کو فون کر کے حماس کی جانب سے ’غیر معمولی اور خوفناک کارروائی‘ کی منصوبہ بندی سے خبردار کیا تھا، نیتن یاہو نے مبینہ طور پر جواب دیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی صورتِ حال پر قابو رکھتا ہے اور اس کی توجہ مغربی کنارے پر ہے۔
یکم اکتوبر کے سیکیورٹی اجلاس میں بھی نیتن یاہو نے دونوں مبینہ انتباہات کا ذکر نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کو صبح 6 بج کر 29 منٹ پر حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کر دیا، حملے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں اور حماس تقریباً 251 اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئی تھی۔
اسرائیلی اخبار کی جانب سے شائع کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کو نیتن یاہو کے دفتر نے ’مکمل جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِاعظم نے متعلقہ عرصے میں کسی نامور عرب شخصیت سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی نیتن یاہو کو کسی ایسے حملے کی وارننگ موصول ہوئی تھی۔
دوسری جانب اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو نامور عربی شخصیت اور مصری انٹیلی جنس سربراہ عباس کامل، دونوں کی جانب سے ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع ملی تھی۔
بینیٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیل کو ’آنکھیں بند کر کے اس تباہی کی طرف دھکیلا‘ اور حماس کو کئی برس تک ایک اثاثہ سمجھنے کی اپنی پالیسی کے باعث خطرے کو نظر انداز کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کی تباہی کی براہِ راست ذمے داری نیتن یاہو پر عائد ہوتی ہے۔