• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دریا نہ بارش، سعودی عرب 37 ملین افراد کو پانی کیسے فراہم کرتا ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

سعودی عرب دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کے قدرتی وسائل انتہائی محدود ہیں، ملک کے 95 فیصد سے زائد رقبے پر صحرائی علاقہ ہے، سالانہ بارش عموماً 100 ملی میٹر سے بھی کم ہوتی ہے جبکہ گرمیوں میں درجۂ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 37 ملین سے زائد آبادی والے اس ملک میں زیادہ تر آبادی بحیرۂ احمر اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں رہتی ہے جبکہ اندرونی علاقے وسیع اور خشک صحراؤں پر مشتمل ہیں۔

مضبوط پائپ لائنز کا وسیع نظام

پانی کی اس شدید قلت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے ساحلی علاقوں سے صحراؤں کے اندرونی حصوں تک پھیلا ہوا ایک وسیع آبی نظام قائم کیا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر پائپ لائنز شامل ہیں جو سمندری پانی کو صاف کر کے سیکڑوں کلو میٹر دور واقع شہروں تک پہنچاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صحرائی گرمی، ریت اور زیرِ زمین دباؤ برداشت کرنے کے لیے پائپ لائنز انتہائی مضبوط فولاد سے تیار کی جاتی ہیں، بڑے پائپ تقریباً 1.8 میٹر قطر کے ہوتے ہیں جبکہ بعض حصوں کی لمبائی 12 سے 18 میٹر تک ہوتی ہے، تنصیب سے قبل پائپس کو الٹراسونک جانچ اور زنگ سے بچاؤ کے لیے خصوصی تہہ سے گزارا جاتا ہے۔

پائپ لائنز کا راستہ جدید پیمائشی آلات کے ذریعے طے کیا جاتا ہے، جہاں چٹانیں یا پہاڑی علاقے راستے میں حائل ہوں وہاں محدود دھماکوں کے ذریعے گہری خندقیں بنا کر پائپ بچھائے جاتے ہیں۔

سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کا عمل

سعودی عرب کے پانی کے نظام کا اہم ترین حصہ ساحلی علاقوں میں قائم سمندری پانی صاف کرنے کے مراکز ہیں۔

سمندر سے بڑے پائپس کے ذریعے پانی حاصل کیا جاتا ہے جس کے بعد اسے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے۔

پہلے پانی کو ریت کے فلٹرز اور کیمیائی عمل کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے، پھر انتہائی باریک فلٹرز سے گزارا جاتا ہے، اس کے بعد تقریباً 60 بار دباؤ کے ساتھ پانی کو مخصوص جھلیوں (reverse-osmosis membranes) سے گزارا جاتا ہے جس سے نمک اور دیگر آلودگی الگ ہو جاتی ہے۔

صفائی کے بعد پانی میں کیلشیئم اور میگنیشیم جیسی ضروری معدنیات دوبارہ شامل کی جاتی ہیں اور تیزابیت کی سطح متوازن کی جاتی ہے تاکہ پانی پینے کے لیے موزوں ہو جائے۔

مہنگا مگر ناگزیر حل

اتنے بڑے پیمانے پر پانی کی فراہمی کا نظام انتہائی مہنگا ہے۔ 

پائپ لائن کی تعمیر پر فی کلو میٹر لاکھوں ڈالرز خرچ ہوتے ہیں جبکہ بڑے سمندری پانی صاف کرنے کے مراکز پر کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔

سعودی عرب کے لیے یہ اخراجات صرف مالی معاملہ نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے، قدرتی میٹھے پانی کی شدید قلت کے باعث سمندری پانی کو صاف کر کے استعمال کرنا ملک کی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید