مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی سے مستعفی ہونے والے 27 سالہ محقق جیکب کاکسن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے ایسا خطرہ ہے جو اس دہائی کے اختتام تک تمام انسانوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔
جیکب کاکسن نے 3 سال تک اوپن اے آئی اور اینتھروپک میں مصنوعی ذہانت کی تربیت سے متعلق تحقیق کی، استعفے کے بعد انہوں نے کہا کہ دونوں کمپنیاں انتہائی طاقتور اور خود کو بہتر بنانے والی مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں اور اس عمل میں انسانی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
جیکب کاکسن کے مطابق مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے بہت سے اعلیٰ عہدیدار اور محققین نجی طور پر اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے تاہم کمپنیاں ایک دوسرے سے پیچھے رہ جانے کے خوف سے اس دوڑ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے انتہائی طاقت ور مصنوعی ذہانت کے نظام سائبر حملوں سمیت مختلف شعبوں میں انسانوں سے کہیں زیادہ صلاحیت اور تیزی سے حقیقی دنیا کے وسائل اور طاقت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
کاکسن نے مصنوعی ذہانت کے محققین پر زور دیا کہ وہ ایسے نظام تیار کرنے سے پہلے اس کے ذہن اور رویے کو سمجھنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں اضافے پر عارضی پابندی جیسے مشکل اقدامات پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ عالمی سطح پر خطرناک دوڑ کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب اینتھروپک کے صف بندی تحقیق کے سربراہ ایوان ہوبنگر نے کاکسن کے خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی واقعی یہ سمجھتی ہے کہ مصنوعی ذہانت تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مجھے ذاتی طور پر اگلی دہائی میں اس خطرے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
ایوان ہوبنگر نے اعتراف کیا ہے کہ اینتھروپک مصنوعی ذہانت کو محفوظ بنانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے تاہم سپر انٹیلیجنس کی صف بندی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کمپنی کے پاس ابھی مکمل منصوبہ موجود نہیں اور کمپنی واضح طور پر مطلوبہ راستے پر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ مصنوعی ذہانت کے نظام سے خطرہ کم ہے، اصل تشویش ایسی سپر انٹیلیجنس کے وجود میں آنے سے ہے جو خود کو بار بار بہتر بنا سکے جبکہ اس حوالے سے پیش رفت توقع سے زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایلون مسک نے حال ہی میں اینتھروپک کمپنی کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں موجودہ رہنما قرار دیا تھا حالانکہ ایلون مسک ماضی میں کمپنی اور اس کی مصنوعی ذہانت پر سخت تنقید کر چکے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق جیکب کاکسن کا استعفیٰ مصنوعی ذہانت کی دوڑ کو روکنے کے لیے کافی نہیں۔
ماہرین کے مطابق جیکب کاکسن کا بیان اس بڑھتی تشویش کو نمایاں کر رہا ہے کہ ٹیکنالوجی تیار کرنے والے ادارے اس کے ممکنہ خطرات سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود ترقی کی دوڑ جاری رکھے ہوئے ہیں۔