امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ نہیں رہا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملوں کے بعد ایران بکھر رہا ہے، وہ 51 سال سے مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ بنا ہوا تھا لیکن اب وہ غنڈہ نہیں رہا۔
ڈیووس میں خطاب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم نے ایران کو تباہ نہ کیا ہوتا تو وہ 2 ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جون میں کیے گئے امریکی حملوں نے ستمبر میں غزہ میں امن معاہدے کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں علاقے میں اسرائیل کی 2 سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔
انہوں نے حماس پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے ہتھیار ڈال دے، بصورتِ دیگر اسے مکمل طور پر تباہ کیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی قبضہ ہے، میرے خیال میں ہمیں اسے آبنائے ٹرمپ کہنا چاہیے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کی فتح کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، جبکہ ایران جنگ مڈٹرم انتخابات بعد ہی ختم ہو گی۔