ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونےکیلئے کسی بھی ملک کا معاشی، اقتصادی اور معاشرتی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے شفاف انتظامیہ اور غیر جانبدار عدلیہ ایسے بنیادی ستون ہیں جن کے بغیر ترقی کا سفر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔
شفاف انتظامیہ سے مراد ایسی دیانتدار اور جواب دہ انتظامیہ ہے جہاں پولیس، ترقیاتی و تعمیراتی ادارے اور مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندے عوامی مفاد کے حقیقی محافظ ہوں۔ تمام ادارے اپنے قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں اور اختیارات کو آئینی و قانونی حدود کے اندر استعمال کریں۔
بدقسمتی سے وطن عزیز کے موجودہ نظام کو کمزور کرنے میں سب سے بڑا کردار کرپشن اور رشوت ستانی نے ادا کیا ہے۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ رشوت کا ناسور اب صرف نچلی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض اوقات اعلیٰ سطح پر بھی اسکے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ نچلے درجے کے ملازمین اب سہولت کاری تک محدود رہ گئےہیں جبکہ انسدادِ رشوت ستانی کی کارروائیوں کا نشانہ بھی زیادہ تر یہی لوگ بنتے ہیں اور قانون کی گرفت میں آتے ہیں۔اگر گریڈ سترہ کا افسر اثرروخ سے مقرر عہدے کی میعاد کے برعکس سات سال سے ایک ہی ضلع میں تعینات ہو تو کیا یہ بدعنوانی نہیں۔ اس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ سرعام دس بارہ واقعات جن میں نقشہ منظور نہ ہونے اور دیگرکئی الزامات میں کاروباری سنٹروں ، دکانوں اور چائے خانوں کوسیل کر دینا،کیا بھاری رشوت کے ساتھ اشٹام پر تحریری بیاں حلفی حاصل کرنا کہ غلط فہمی سے کاروبار سیل کیا گیا ،بغیر لین دین کے ڈی سیل ہو گیا۔ ایک نہیں درجنوں واقعات ہیںجن کا روزانہ عوامی محفلوں میںچرچہ ضرور ہوتا ہے اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھی کرپشن، جعلسازی اور قبضہ مافیا کے ہاتھوں متاثر ہوئی ہے۔ کئی افراد کی قیمتی جائیدادیں جعلی دستاویزات، فرضی عدالتی فیصلوں اور نوسربازی کے ذریعے ہتھیائی گئی ہیں۔ لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بہت سے متاثرین انصاف کے حصول کیلئے دربدر ہیں۔
تاہم حالیہ دنوں میں پنجاب اینٹی کرپشن ادارے کی بعض کارروائیاں امید کی کرن ضرور ہیں۔ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ اور گوجرانوالہ اینٹی کرپشن کے افسران کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے ایک سابق جیل سپرنٹنڈنٹ سے کروڑوں روپے برآمد کیے گئے اور اسے اسی جیل میں بند کیا گیا جس کا وہ کبھی سربراہ تھا۔
ماضی میں سابق ڈی جی اینٹی کرپشن نفیس گوہر کے دور میں بھی پنجاب میں کرپشن کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے تھے، جسکے نتیجے میں کرپشن میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔بلکہ عالمی ادارے ایف اےٹی ایف میں بھی گوہر نفیس کے نام کی گونج سنی گئی تاہم بعد ازاں صورتحال دوبارہ خراب ہونا شروع ہوگئی اور کرپشن کا ناسور کئی شعبوں میں پھیلتا چلا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے انتظامیہ پر عوامی اعتماد کو مزید بہتر بنانے کیلئے ضلع وار منتخب نمائندوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان ملاقاتوں میں کئی عوامی نمائندوں نے شکایت کی کہ انتظامیہ تک ہماری رسائی محدود ہونےکے باعث بعض محکموں میں رشوت کے مسائل بھی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔اور بتایا کہ ایک سابقہ افسرکی رشوت کے قصے زبان زد عام ہیں، منتخب نمائندوں کی شکایات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں اینٹی کرپشن افسران کو متحرک کیا جائے اور کھلی کچہریوں کے ذریعے عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا جائے۔لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صرف کھلی کچہریاں منعقد کرنا کافی نہیں، بلکہ ان میں عوام کے ساتھ رویہ اور سلوک بھی انتہائی اہمیت رکھتاہے۔ اگر کوئی بزرگ شہری اپنی دستاویزی شکایت لے کر انصاف کیلئے حاضر ہو اور اسے عزت و احترام کے بجائے سخت رویے کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
چکوال میں منعقدہ ایک کھلی کچہری کے دوران بھی ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا جہاں ایک بزرگ شہری حاجی بابر سلیم نے دستگیری انتقالات اور دستاویزی معاملات سے متعلق اپنی شکایت پیش کی اورعوام الناس کے مفاد میں عوامی مسئلے کی نشاندہی کی، مگر متعلقہ افسر کا رویہ مناسب نہ تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی شکایات سننے والے افسران کو صرف کارروائی ہی نہیں بلکہ شہریوں سے بہتر رویے اور اخلاقی تربیت کی بھی ہدایت دی جائے۔
کرپشن کا خاتمہ ایک مشکل امر ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس کیلئے سیاسی عزم، ادارہ جاتی اصلاحات، احتساب کا مؤثر نظام اور عوام دوست انتظامیہ ضروری ہے۔
اطلاعات کے مطابق ملک میں گورننس کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کیلئے مختلف اہم شعبوں کی نگرانی کیلئے خصوصی اقدامات زیر غور ہیں، جنکے ذریعے ٹیکس چوری، رشوت ستانی، قبضہ مافیا، مہنگائی، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور کاغذی منصوبوں کی نشاندہی جیسے مسائل کا جائزہ لیا جائے گا۔