• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا میں انسانوں پر خدا کی سب سے بڑی رحمت اور نعمت کیا ہے ؟ اس کا سب سے بڑا انعام کیا ہے۔؟ جو صرف ان انسانوں اور معاشروں کو ملتا ہے جن سے خدا راضی ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کے عتاب اور غضب کا نشانہ بننے والے افراد اور اقوام کی نشانی کیا ہے؟ اس کا جواب قرآنِ پاک میں سورہ القریش میں یوں دیا گیا ہے ترجمہ" اور اس گھر( خانہ کعبہ) کے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھوک میں کھانا اور خوف میں امن دیا۔" گویا معاشی خوشحالی اور پرامن معاشرہ خدا کی انسانوں پر سب سے بڑی رحمت ہے .جس کیلئے اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے جبکہ معاشی بدحالی یا بھوک اور بد امنی کا حامل معاشرہ یقیناً عذابِ الہٰی سے کم نہیں جو خدا کے نزدیک ناپسندیدہ افراد اور اقوام پر عتاب کے طور پر نازل کیا جاتا ہے۔ اگر ہم قرآنی احکامات کی روشنی میں دیکھیں تو انسانوں کا فلاحی معاشرہ وہی ہے جس کیلئے بلا امتیازِ مذہب و ملت دنیا کے تمام اچھے انسان آج تک جدوجہد کرتے اور قربانیاں دیتے رہے ہیں۔ ان کا مقصد ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جو غربت اور بھوک کے ساتھ ساتھ تشدد، قتل و غارت اور بد امنی سے بھی پاک ہو۔ ایسے ہی فلاحی معاشروں کیلئے تمام انبیائے کرام، ولیوں اور صوفیوں نے بھی کوشش کی اور یہی وہ معاشرہ ہے جسکی خاطر سائنس دانوں، معاشی ماہروں، شاعروں اور ادیبوں نے قربانیاں دیں۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، کسی بھی مکتب فکر اور کسی بھی خطے سے تھا۔ لیکن انسانی معاشرے کا المیہ یہ بھی کچھ کم نہیں کہ عقائد و نظریات پر اجارہ دار طبقوں نے ان تمام افراد کا راستہ روکنے کی کوشش کی جو انسانی معاشرے کو بھوک اور خوف سے نجات دلانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اور اکثر کو تو انہوں نے عبرت ناک مثال بنا دیا۔ تاریخ ابھی گلیلیو کے ماتم سے فارغ نہیں ہو سکی جسے اس کے سائنسی نظریات کی سچائی بیان کرنے پر عیسائی پیشوائوں نے موت کی سزا دے دی اور سقراط کو محض اس لیے زہر کا پیالہ پینا پڑا کہ اس کا سچ سوسائٹی کے نام نہاد اعلیٰ طبقوں کیلئے موت کا پیغام تھا۔ آج ہمارا معاشرہ مکمل طور پر بھوک اور خوف کا معاشرہ بن چکا ہے۔ غربت، اخلاقی بے راہ روی، قتل و غارت اور نا انصافی گویا کوئی ایسی برائی نہیں جو ہمارے معاشرے میں بد ترین شکل میں نہ پائی جاتی ہو۔ صرف یہی نہیں 1947 میں قیام پاکستان کے بعد زندگی کے کسی شعبے میں بھی ہم نے دنیا کی ترقی یافتہ اورمہذب اقوام کے مقابلے میں حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

یہاں تک کہ ہم ایک بدتر ورلڈ ریکارڈ کے حامل ہیں کہ ہم نے صرف 23 برس کے قلیل عرصے میں اپنا ملک ہی توڑ ڈالا۔ اس عظیم سانحے کے بعد بھی ہم اپنے خود ساختہ نظریاتی وہموںمیں اس بری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ بقیہ ملک بھی لہو لہان ہے۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہ سیکھنے کی قسم کھا رکھی ہے ہم نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ اقوامِ عالم نے تاریخ میں جتنی غلطیاں کی تھیں وہ ہم اس امید کے ساتھ دہرائیں گے کہ انہیں شر نہیں خیر ثابت کر دیں لیکن ہر مرتبہ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو پہلے انسانوں کی غلطیوں سے نکلا تھا ۔


مثلاً پاکستان کے قیام کے فورا ًبعد جاگیرداروں اور استحصالی طبقوں نے مذہبی اور فوجی اشرافیہ کے ساتھ مل کر عوامی رائے عامہ کا مذاق اڑانے ،جمہوریت کو خلافِ مذہب اور آمریت کو اس ملک کا مقدر قرار دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تاکہ وہ اپنی جاگیریں اور لوٹ کھسوٹ کی کمائی کو تحفظ دے سکیں۔ انہیں خطرہ تھا کہ جس طرح انڈیا نے تقسیم ہندکے فوراً بعد بیک جنبشِ قلم ریاستی اور جاگیرداری نظام ختم کر دیا تھا کہیں جمہوری نظام کے استحکام کی شکل میں پاکستان میں بھی ایسا نہ ہو جائے۔ وہ اپنی سازشوں کے ذریعے اپنی جاگیریں بچانے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن اس ملک پر وہ ظلم کر گئے جس کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔آج پاکستان کو بیسویں صدی کا ایک ایسا عجوبہ بنا دیا گیاہے جس میں قرونِ وسطی کے متروک نظام اور نسخے آزمائے جا رہے ہیں۔ جب آپ حقیقی مسائل کی بجائےنان ایشوز پر اپنی ساری توانائیاں صرف کریں گے ،آپ قوم کو نظریاتی مغالطوں، نظریاتی سرحدوں اور نظریاتی دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم در تقسیم کرتے چلے جائیں گے اور جیتے جاگتے انسانوں کے خوفناک مسائل سے پہلو تہی کرتے رہیں گے تو مسائل کا انبار اور بوجھ اتنا بڑھ جائے گا کہ بالآخر آپ اس میں دب کر رہ جاتے ہیں ۔ بھوک اور خوف کا ہمارا یہ قابلِ رحم معاشرہ نظریاتی ٹوٹکوں، تعویذ دھاگوں اور طلسماتی کرامات سے ٹھیک نہیں ہوگا اس کیلئے اسی مروجہ معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کو رائج کرنا ہوگا جس نے باقی دنیا کے معاشروں کو امن اور خوشحالی کے معاشروں میں تبدیل کر دیا ہے۔

تازہ ترین