استقلال پاکستان کے تناظر میں برادرم راشد لنگڑیال کے یاتاریخی اظہاریوں اور بندہ بے مایہ کی گزارشات سے یہ تو واضح ہو گیا کہ فریقین باہم احترام سے مملو ہیں اور مخالف دلائل کو مخاصمانہ تبر اندازی کی بجائے تاریخ و سیاست کی معروضی تفہیم چاہتےہیں۔چنانچہ زیر نظر تحریر میں ابتدائی تشریفات پر قیمتی سطور کے زیاں کی بجائے براہ راست نفس مضمون پر توجہ دینی چاہیے۔برادر مکرم نے مطالبہ پاکستان کے بارے میں تین مقدمات بیان کیے۔ ابتدا میںبابائے قوم کی11اگست 1947ءکی تقریر سے گواہی لی۔ اس پر کسی اختلاف کی گنجائش نہیں۔ صاحب مکرم کا استدلال درست ہے۔
یہ الگ بحث ہے کہ 11اگست کے اس اساسی بیان کی قرارداد مقاصد کے ذریعے تغلیط کرکے اس تقریر کو گویا دشنام کا درجہ دیدیا گیا۔ شہریوں میں اقلیت اور اکثریت کی آئینی اصطلاحات متعارف کروا کے اس دن کی بنیاد رکھ دی گئی جب جسٹس منیر کے بقول فسادات 1953ء کی انکوائری کمیٹی کے سامنے ایک صاحب نے اس تقریر کو شیطانی ترغیب کا شاخسانہ قرار دیا (صفحہ 73)۔ جہاں تک مولانا آزاد کے استدلال کا تعلق ہے ’انتخابی حساب کتاب‘ پر مبنی ان کا مؤقف 23اکتوبر 1947ء کو جامع مسجد دہلی میں ان کے خطاب کی روشنی میں پرکھنا چاہئے۔
برادرم لنگڑیال نے ممکنہ طور پر ’حسابی‘ کا لفظ کسی قدر طنزیہ پیرائے میں استعمال کیا ہے لیکن یہ حساب کچھ ایسا بعید از حقیقت بھی نہیں تھا۔ 1941ء کی مردم شماری کے مطابق آج کے ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی چار کروڑ بیس لاکھ تھی جو 1951ء کی مردم شماری میں تین کروڑ پچاس لاکھ رہ گئی۔ گویا پنجاب، دہلی اور شمال مشرقی ہندوستان میں تمام تر اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود ہندوستان میں مسلم آبادی مغربی پاکستان کی آبادی سے کچھ مختلف نہیں تھی جو 1951ء کی مردم شماری کے مطابق تین کروڑ 37لاکھ پائی گئی۔
بھائی راشد لکھتے ہیں کہ اعداد و شمار کی جگہ جدول ہوتا ہے، کالم نہیں۔ تسلیم! ورنہ درویش پنجاب کے مغربی اور مشرقی اضلاع میں تقسیم کے بعد مذہبی تبدیلی کے اعداد و شمار پیش کر کے ثابت کرتا کہ Ethnic Cleansing کن اضلاع میں مؤثر طور پر ہوئی ۔ برادر من نے دراڑ اور شناختی سیاست کے تعلق کی تقویمی ترتیب بیان کی ہے۔ بصداحترام ان کی اس رائے سے اختلاف ہے کہ ’ترتیب زمانی کی گواہی الٹ ہے۔ دراڑ نے سیاست کو جنم دیا۔
سیاست نے دراڑ کو نہیں تراشا۔ جو مورخ یہ ترتیب الٹی پڑھے گا، وہ علاج بھی الٹا لکھے گا‘آئیے 1937ء میں چلیں۔ برادر عزیز نے کانگریسی وزارتوں کی کارکردگی پر جو نکات اٹھائے ہیں تاریخ ان کی گواہی نہیں دیتی۔ کانگریس کی وزارتوں نے اکتوبر اور نومبر میں استعفے دیے۔ جناح صاحب نے 22؍دسمبر 1939ء کو یوم نجات قرار دیا۔
کانگریسی وزارتوں کے مستعفی ہوتے ہی وائسرائے لارڈ لنلتھگوکو پیر پور رپورٹ اور شریف رپورٹ پیش کی نیز مسلمانوں کیخلاف ہونیوالی زیادتیوں کی تحقیق کے لیے ایک رائل انکوائری کمیشن کے تقرر کا مطالبہ بھی کیا ۔ وائسرائے نے 23دسمبر 1939کو ایک رسمی مکتوب کے ذریعے ان رپورٹوں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ وائسرائے کا مؤقف تھا کہ تمام کانگریسی وزارتوں پر مقرر برطانوی گورنر صوبائی وزارتوں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھتے تھے۔
معمول کے فرقہ وارانہ چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے ضرور ہوئے لیکن ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں سے کسی منظم انتظامی ناانصافی کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ وائسرائے نے رائل کمیشن کا مطالبہ ترنت مسترد کر دیا۔ لنلتھگو کا مؤقف تھا کہ ان واقعات کی تفصیل میں جانے سے فرقہ وارانہ تنائو مزید بڑھے گا اور سیاسی منافرت میں اضافہ ہو گا جبکہ عالمی جنگ کے دوران برطانوی حکومت کو ہندوستان میں استحکام کی ضرورت تھی۔ سیاسی وجوہ کی بنا پر وائسرائے لنلتھگو نے کانگریسی وزارتوں کا عوامی سطح پر دفاع نہیں کیا کیونکہ کانگریس عالمی جنگ میں برطانیہ کی مخالفت کر رہی تھی۔
لنلتھگو کو کانگریس کے مقابلے میں سیاسی ہتھیار کے طور پر مسلم لیگ کی ضرورت تھی۔ اسے معلوم تھا کہ جناح کے مسلمانوں سے زیادتیوں کے دعوے بڑی حد تک بے بنیاد ہیں لیکن اس نے مسلم لیگ کے مؤقف سے چشم پوشی کی کیونکہ مسلم لیگ کانگریس کے اس دعوے کی مفید مطلب مخالفت کر رہی تھی کہ کانگریس پورے ہندوستان کی نمائندگی کرتی ہے۔ 1940ء میں محمد علی جناح کے مسلم قیادت پر اثرونفوذ کا ثبوت وائسرائے کی وار کونسل کے قیام سے مل گیا۔
وائسرائے نے جولائی 1941میں جنگ کے دوران ہندوستان کے معاملات چلانے کیلئے وار کونسل قائم کی تھی۔ مسلم لیگ نے ایک دو ٹوک قرارداد کے ذریعے اپنے تمام ارکان کو وار کونسل سے لاتعلق رہنے کا دوٹوک حکم دیا۔ مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح کے اس حکم کا انجام یہ ہوا کہ سرسکندر حیات خان (وزیراعظم پنجاب)، اے کے فضل الحق(وزیراعظم بنگال)، محمد سعد اللہ (وزیراعظم آسام)، اللہ بخش سومرو (وزیراعظم سندھ ) قائداعظم کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وار کونسل میں شریک ہو گئے۔ نواب چھتاری بھی وار کونسل میں جا بیٹھے۔ بیگم جہاں آرا شاہ نواز نے قائد کی حکم عدولی کرکے وار کونسل کی رکن بنتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی کٹھ پتلی رکن کے طور پر نہیں بلکہ پنجاب کی نمائندہ رہنما اور بلاامتیاز مذہب تمام ہندوستانی عورتوں کی آواز بن کر وار کونسل میں شریک ہوئی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ قائداعظم نے عورتوں کے حقوق کیلئے کیا کیا ہے؟ ٹھیک دس برس بعد پنڈی سازش کیس میں بیگم شاہ نواز کی بیٹی نسیم اکبر خان گرفتار ہوئی تو بیگم شاہ نواز کو ٹھیک ٹھیک معلوم ہو گیا کہ مسلم ریاست میں عورتوں کے حقوق کی پاسداری کس طور ہوتی ہے۔ 1940ء میں ہندوستان کی مسلمان قیادت پر جناح کے اثر و نفوذ کا یہ عالم تھا۔ بھائی راشد کہتے ہیںکہ’ دراڑ نے سیاست کو جنم دیا، سیاست نے دراڑ کو نہیں تراشا۔ جو مؤرخ یہ ترتیب الٹی پڑھے گا، وہ علاج بھی الٹا لکھے گا‘۔
بصد احترام عرض ہے کہ محمد علی جناح 1906ء سے کانگریس، 1917ء سے ہوم رول لیگ اور 1924ء سے مرکزی مقننہ میں انڈیپنڈنٹ پارٹی کی مدد سے یہ دراڑ پاٹنے کی کوشش ہی کر رہے تھے۔ 1939ء میں انہیں دراڑ پاٹنے کی کوشش کے بے ثمر ہونے کا احساس ہوا نیز یہ معلوم ہوا کہ کانگریس اور برطانوی حکومت میں فاصلے سے نئی سیاست کا چشمہ برآمد ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دراڑ پاٹنے کی سعی ترک کر کے نئی سیاست کا راستہ دریافت کر لیا۔ گویا سیاسی ضرورت نے دراڑ کو خلیج میں بدل دیا۔