• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے محلے کے سرکاری اسکول میں کتنے استاد ہیں؟ محکمہ جانتا ہے۔ کمرے، بنچیں، فی بچہ خرچ، سب رجسٹر میں ہے۔ اُسی اسکول کی پانچویں جماعت کا بچہ کتاب کا ایک صفحہ پڑھ کر بتا سکتا ہے کہ اس میں لکھا کیا ہے؟ یہ نہ آپ جانتے ہیں نہ محکمہ۔ چراغ تلے اندھیرا ہے، اور چراغ پوچھتا پھرتا ہے کہ اندھیرا کہاں ہے۔

یہ اندھیراایک بنیادی فکری بھول کا نتیجہ ہے اور بھول آدھی صدی پرانی ہے۔ولایت کے معاشیات دانوں نے مدرسے کو کارخانہ سمجھ لیا۔ شلٹز اور بیکر (Theodore Schultz, Gary Becker) نے 1960 ءکی دہائی میں کہا کہ تعلیم خرچ نہیں، سرمایہ کاری ہے۔ اسکول کا ہر برس آمدنی دس فیصد بڑھاتا ہے۔ سودا بن گیا: ریاست مفت تعلیم دےگی، بچے زیادہ کمائیں گے، خزانہ بھرےگا۔ ریاست نے یہ سودا فائدے کیلئے کیا تھا، احسان کی نیت سے نہیں۔ تعلیمی پیداواری تفاعل (Education Production Function) کی رو سے مکتب بھی گویا ایک کارخانہ ہی تھا: اس میں ایک طرف سے عمارت، کتاب اور استاد ڈالو، دوسری طرف سے پڑھا لکھا بچہ نکل آئے گا۔ اب حساب لگاؤ کہ ایک استاد سے کتنی تحصیلِ علم ہوتی ہے، اور خزانہ اسی حساب سے بانٹ دو۔ بس ایک شرط ان لکھی رہ گئی کہ اسکول کا برس تحصیلِ علم کا بھی برس ہوگا۔

1966 ءمیں امریکہ کی کانگریس نے کولمین (James Coleman)سے کہا کہ ذرا حساب تو لگا کر دو۔ چھ لاکھ شاگرد ناپے گئے اور کانگریس کا منہ لٹک گیا: عمارت، کتاب اور تنخواہ کا نتائج سے تعلق بس واجبی سا تھا۔ خرابی حساب میں نہیں، تعلیمی پیداواری تفاعل کے ماڈل میں تھی۔ بن دیکھے مان لیا گیا تھا کہ استاد ویسے ہی استاد ہے جیسے لوہا لوہا ہے، کہ ہر جزوِ تعلیم الگ خریدا جا سکتا ہے، اور یہ کہ اسکول مشین کی طرح مال کو پیداوار میں بدل دے گا۔ تینوں باتیں غلط تھیں۔

تحصیلِ علم کے بنیادی اجزائے ترکیبی پر پچھلے پچاس برس میں بہت علمی کام ہواہے۔ آج دو بنیادی باتیں آپ کی نذر:پہلی بات ماسٹر صاحب کی ہے۔ تعلیمی پیداواری تفاعل استاد کو مشین سمجھتا ہے۔ مشین سے کوئی نہیں پوچھتا کہ بی بی، آج چلنے کو جی چاہتا ہے یا نہیں۔ استاد آدمی ہے، اور آدمی وہی کرتا ہے جس کا صلہ ملے، اور وہ چھوڑ دیتا ہے جسکی پوچھ نہ ہو۔

اب ماسٹر صاحب کی نوکری دیکھیے۔ نوکری پکی ہے، ترقی سنیارٹی سے ہے، تنخواہ پہلی تاریخ کو آتی ہے خواہ مہینے میں دس دن اسکول آئے ہوں۔ غالب پنشن کیلئے کلکتہ تک گئے تھے،ماسٹر صاحب کو گھر بیٹھے ملتی ہے۔ اور پڑھاتے ہوئے انہیں کبھی کسی نے دیکھا نہیں۔ اس نوکری میں عقل مند آدمی کیا کرے گا؟ وہی جو وہ کرتا ہے۔یہ الزام نہیں، حساب ہے۔ 2006ءمیں محققین نے بغیر اطلاع آدمی بھیجے۔ پاکستان میں ہر پانچواں ماسٹر غائب تھا، اور جو حاضر تھے ان میںسے بھی بہتیرے کرسی پر تھے، بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے۔ اب اس اسکول میں نئی کتابیں بھیجیے، الماری میں گنجینۂ معنی کا طلسم بنی رہیں گی۔

دوسری بات شاگرد کی ہے، اور مجھے پہلی سے زیادہ کھٹکتی ہے۔ فرض کیجیے ماسٹر صاحب آ گئے، جی لگا کر پڑھانے لگے۔ اب دیکھیے تحصیلِ علم ہوتی کہاں ہے: عمارت میں نہیں، ایک لمحے میں۔ استاد ایک بچے کی تختی ہاتھ میں لیتا ہے، دیکھتا ہے کہ اسے کیا آتا ہے اور کیا نہیں، کہاں اٹکا ہے، اور اُسی بچے کیلئے وہ راستہ چنتا ہے جس سے وہ اگلا قدم اٹھا سکے۔ یہ لمحہ ہر بچے کیلئے الگ ہے، کسی رجسٹر میں نہیں آتا، اور یہی پڑھائی کی اصل ہے۔ کارخانے میں اس لمحے کی جگہ نہیں، کہ کارخانہ سب کو ایک سانچے میں ڈھالتا ہے۔ اور یہیں وہ بلا ہے جو اسکول کو کارخانہ سمجھنے والوں کو دکھائی نہیں دیتی: نصاب۔

نصاب ایک ریل گاڑی ہے جو سب سے تیز بچے کی رفتار سے چلتی ہے اور ہر برس فرض کر لیتی ہے کہ پچھلا اسٹیشن سب شاگردوں نے دیکھ لیا۔ جہاں نصاب کا رخ سب سے ہوشیار بچے کی طرف ہو، وہاں جو دو تین جماعتیں پیچھے رہ گیا وہ ہمیشہ کیلئے رہ گیا۔پکڑنے کا لمحہ ماڈل میں تھا ہی نہیں۔

اب ایک بچہ ہے، کہیے رمضان، دوسری جماعت میں حرف جوڑنا نہ سیکھ سکا۔ ماسٹر صاحب اُس برس تبلیغ پر چلے گئے تھے۔ تیسری میں جملے پڑھائے گئے،جو حرف نہ جوڑ سکے وہ جملہ کیا پڑھے گا۔ چوتھی میں پیراگراف، پانچویں میں مضمون۔ رمضان ہر برس بنچ پر بیٹھا رہا، رجسٹر بھرتا رہا، مگر تحصیلِ علم ندارد۔ پڑھانے والا رمضان سے مخاطب ہی نہ تھا۔ غالب کا تیرِ نیم کش تو جگر تک پہنچتا تھا۔ سبق کا بادل رمضان کے کھیت کے اوپر سے گزر کر اُس کھیت پر برستا ہے جو پہلے ہی ہرا ہے۔ جس دن کوئی رمضان کو وہاں بٹھائے گا جہاں وہ کھڑا ہے، حرفوں پر، اور وہیں سے پڑھائے گا، اُس دن سے اس کی تحصیلِ علم شروع ہو جائے گی۔اب ہماری خبر سنیے۔ ہم نے کارخانہ خوب چلایا۔ بیس برس میں خرچ دگنا ہوا، اسکول بنے، بھرتیاں ہوئیں۔ پنجاب نے نگرانی کا ایسا طلسمِ ہوشربا کھڑا کیا کہ ہر مہینے کوئی آ کر دیکھتا ہے، ماسٹر صاحب ہیں یا نہیں، بیت الخلا ہے یا نہیں۔ فرق پڑا، دونوں آ گئے۔ پر رمضان کو کسی نے نہیں پوچھا، سو رمضان وہیں ہے۔

اسیر (ASER) والے ہر برس گاؤں گاؤں بچوں کو دوسری جماعت کی کہانی پڑھنے کو دیتے ہیں۔ پانچویں کے آدھے شاگرد نہیں پڑھ پاتے، اور پندرہ برس سے آدھے ہی ہیں۔ اور اسی گاؤں میں ایک نجی اسکول ہے، ٹین کی چھت، میٹرک پاس ماسٹرنی، تنخواہ سرکاری کا پانچواں حصہ، اور بچہ سرکاری سے سال بھر آگے۔ اندرابی، داس اور خواجہ (Andrabi, Das, Khwaja) نے ناپ کر بتایا کہ فرق عمارت کا ہے نہ کتاب کا۔فرق یہ ہے کہ ماسٹرنی جانتی ہے کہ رمضان کی ماں اگلے مہینے اسے کہیں اور بھیج سکتی ہے۔ یہی ڈر ماسٹرنی کو ماسٹر بناتا ہے، اور اسی کا نہ ہونا سرکاری ماسٹر صاحب کو سرکارِ دولت مدار کا وظیفہ خوار۔

سعدی نے کہا تھا، علم جتنا پڑھو، عمل نہ ہو تو نادانی ہے۔ ہمارا معاملہ ایک سیڑھی اور نیچے ہے: اسکولنگ ہو گئی، پڑھائی سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ اقبال کو خداوندانِ مکتب سے شکایت تھی، ہماری مکتب کے منشی سے۔ اور یہاں وہ سودا یاد آتا ہے جو ریاست نے کیا تھا: مفت تعلیم خیرات نہیں، سرمایہ کاری تھی۔ اب جو کارخانہ لوہا کھا کر کباڑ دے رہا ہے تو جس کی جیب سے لوہا آتا ہے وہ پوچھنے میں حق بجانب ہے: سودا ٹوٹا کیوں، اور ٹوٹا ہے تو میں قسطیں کیوں بھروں؟

جواب یہ نہیں کہ سودا جھوٹا تھا۔ ہانوشیک اور ووسمین (Hanushek, Woessmann) نے پچاس ملکوں کے حساب سے دکھایا کہ معاشی نمو اسکول کے برسوں سے نہیں، تحصیلِ علم سے بندھی ہے۔ سودا سچا تھا، ہم نے قسط غلط مد میں ڈالی۔ چار فیصد خرچ کیجیے، پر ذرا ٹھہر کر۔روپیہ اسی پرنالے سے گزرے گا تو کباڑ ہی بنے گا، اور سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا۔ پہلے رمضان کو ناپیے، ہر ضلع، ہر برس، سب کے سامنے۔ پھر ماسٹر صاحب کو آدمی سمجھ کر معاملہ کیجیے، کہ جس کا رمضان پڑھ لے اسے صلہ ملے۔ اور رمضان کو وہاں سے پڑھائیے جہاں وہ کھڑا ہے، نہ کہ وہاں سے جہاں نصاب کی ریل گاڑی پہنچ چکی ہے۔

تازہ ترین