• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر، سب سے بڑے صنعتی تجارتی مرکز میں ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے سامنے پروفیسر کی چھوٹی سی گاڑی پر بڑے ڈالے نے اپنے طبقاتی تضاد کا سارا بوجھ ساری برہمی ڈال دی اور جب اس علم و فضل کے پیکر نے اپنا تعارف کروایا تو اس کالے ڈالے کے مالک کو اور طیش آ گیا کہ اتنا پڑھا لکھا ہماری شان میں گستاخی کر رہا ہے۔

مسلح گارڈز اپنے مالک کے ایک اشارے کے منتظر ہوتے ہیں انہوں نے بھی علم اور فضیلت کو کچلنے میں اپنا حصہ بھرپور انداز میں لیا ۔پھر خیال آیا کہ کھلے عام تشدد میں لطف نہیں آ رہا ہے اپنے رقبے تو نزدیک نہیں ہیں اپنا ایک ڈھابہ نزدیک تھا ۔دن دہاڑے کراچی یونیورسٹی کے شعبے اسلامک لرننگ کے سربراہ پروفیسر محمد عارف خان ساقی ان کے بھتیجے کو ٹوٹی پھوٹی گاڑی کے ڈرائیور کو اٹھا کر اس ڈھابےکے احاطے میں لے جایا گیا۔ پھرہوٹل کے خانساماںاور ویٹرز نے بھی اس کار خیر میں حصہ لیا کہ نوکری کا تقاضا یہی ہے۔ نوکری آج کل عزت ،ادب ،تمدن ،تہذیب سب پر مقدم ہے۔ ایک چپراسی سے لے کرگریڈ 22تک نوکری کے تقاضے ہی پورے کیے جا رہے ہیں ۔وفاقی محکمے ہوں یا صوبائی یا کہیں کہیں بلدیاتی یا پرائیویٹ ملازمتیں مسلح گارڈز پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسیوں کے جانباز سب اسی خمار میں ہیں۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہووں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر اظہار خیال کا دن اور نماز عصر کے بعد محلے داری اپنے پڑوسیوں سے ملیں۔ حال احوال کا تبادلہ کریں ۔

دنیا بھر کے معزز ملکوں میں شہروں کو زیادہ متمدن ،آداب شناس سمجھا جاتا ہے، شہری کلچرکو دیہی علاقے اپناتے ہیں ۔دیہات کے نوجوان شہروں میں بھیجے جاتے ہیں کہ وہ تہذیب اور ثقافت سیکھ کر آئیں ۔خاندان زیادہ پیسے والے ہوں تواپنے بیٹوں بیٹیوں کو امریکہ یورپ بھیجتے ہیں یا کم از کم دبئی۔ مگر پاکستان میں اس کے برعکس ہو رہا ہے کہ یہاں شہروں پر دیہات کا کلچر ،وڈیرا شاہی ، سردار نوازی، چوہدری پن یا خان انداز غالب آرہے ہیں۔ 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات کے بعد یہ جاگیردارانہ کلچر ہی سب کا محبوب تمدن بن گیا ہے۔ ہم 60کی دہائی سے سیاسی جلسوں کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں ۔بڑے بڑے جلسوں میں بھی اسٹیج پر مسلح گارڈ نہیں ہوتے تھے۔ ہتھیاروں کی نمائش کوئی بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ مگر ان غیر جماعتی انتخابات کے دوران ہر جلسے میں اسٹیج پر پانچ چھ مسلح نوجوانوں کو بہت مستعد اور خونخوار نظروں سے سامعین کو تاڑتے دیکھا ۔اسی دورانیہ میں ہر جماعت میں مسلح ونگ بھی قائم ہونے لگے ۔

یہ ہتھیار بردار عام سیاسی کارکنوں پر حاوی بھی ہو جاتے تھے۔جماعتی سربراہ اور دوسرے کلیدی عہدہ دار مسلح گارڈز کی گاڑی ساتھ لیکر چلنے لگے پھر یہ ڈالا یا ڈبل کیبن گاڑیاں آ گئیں جو بہت ہیبت مچاتی ہیں۔ اس میں سوار سیاستدان بزنس مین بھی اپنے آپ کو کسی جاگیردار سردار سے کم نہیں سمجھتے۔ کراچی میں سب سے پہلے ایسے ہتھیار بند سیاست دان یا سردار بلوچستان سے آنے لگے تھے اس وقت کہا جاتا تھا ان قبائلی سرداروں کی آپس میں بہت دشمنی ہوتی ہے اس لیے ان کے ساتھ مسلح گارڈز ضروری بھی اور مجبوری بھی ہیں۔ مگر یہ گارڈز کبھی سڑک پر لوگوں کو گھورتے تھے نہ رعب ڈالتے تھے مگر سندھ کے بڑے جاگیردار وڈیرے بزنس مین بلکہ بزنس ٹائیکون بلڈرز تو اپنی حیثیت کا دبدبہ بھی دکھاتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ ڈبل کیبن میں یا ہمراہ چلنے والے ٹرک میں جو گارڈز ہوتے ہیں۔

پرائیویٹ یا پولیس والے وہ تو راستے میں اشاروں سے موٹر سائیکل والوں گاڑی والوں کو خوفناک اشاروں سے دھتکارتے راستے سے ہٹاتے چلتے ہیں اور صاحب موصوف اس پر بہت خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔ جب یہ ہتھیار بند مظاہرے شاہراہ فیصل اور کراچی کی دوسری شاہراہوں پر ہمیں روز نظر آنے لگے تو مجھ سے ایک نظم سرزد ہوئی تھی سوچتا ہوں کہ آپ کی نذر کروں ۔

عنوان ہے’’ پروٹوکول ‘‘

پہلے آتی ہے سائرن کی چیخ

پھر مسلسل ہٹو بچو کا شور

بعد ازآن شیر دل ڈالا

آہنی ٹوپ گھورتی آنکھیں

اپنی بندوق سب پہ تانے ہوئے

اک حقارت سے دیکھتے سب کو

درمیاں میں ہے کوئی شاہ زماں

پھڑپھڑاتے لباس پہنے ہوئے

یوں گزرتے ہیں اپنے شہروں سے

بعدفتح مبین کوئی فاتح

شہر مفتوحہ سے گزرتا ہے ۔ٹریفک پولیس ہو یا دوسری پولیس ایسے گارڈز بردار معززین سے قانونی باز پرس نہیں کی جاتی۔ ان کے بیٹے، رشتہ دار یار دوست بھی قانون سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ سارے قوانین موٹر سائیکلوں یا پرانی چھوٹی گاڑیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔کیا ہم سب ایک قبائلی معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 21ویں صدی صرف پانچ ستارہ ہوٹلوں یا بڑے شاپنگ مالز میں اتری ہے۔ باقی سب مقامات پر ابھی اٹھارویں صدی کا ہی راج ہےاور یہی پجیرو ڈالوں والے جب سمندر پار کسی مہذب ملک میں جاتے ہیں۔ تو یہ سارا کروفر ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہاں قانون سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ وہاں پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں۔

اب جب کراچی جیسے بڑے شہر میں 21ویں صدی کی تیسری دہائی میں صدیوں پرانا طبقاتی تضاد سر چڑھ کر بول رہا ہے تو سندھ بلوچستان پنجاب خیبر پختون خوا کے اندرونی قصبوں اور گوٹھوں میں ان رعونت مابوں کی کیا شان ہوتی ہوگی ۔ایسے تمدن میں ۔ایک فرد ایک ووٹ کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے۔ پارلیمانی نظام کیوں ناکام ہو رہا ہے۔ کیونکہ قومی صوبائی اسمبلیوں میں بھی اکثریت ان ڈالا برداروں کی ہی ہے۔ ملک کی بدحال معیشت کا تقاضا تو یہ ہے کہ سماج سادگی کفایت شعاری اختیار کرے مگر ہمارے ہاں اپنے عہدے حیثیت اور خاندان کی نمائش ضروری ہے اپنی سرکاری عمارتیں دیکھ لیں مغل بادشاہوں کی یاد دلاتی ہیں۔

صدر، وزیراعظم، وفاقی وزراء، صوبائی وزراء کے قافلے کس شان سے گزرتے ہیں اور یہ نمائش اربوں کھربوں کے قرضے لیکر ہی کی جاتی ہے۔ اس کلچر اور اس طبقاتی تضاد کے ہوتے ہوئے جمہوریت سسکتی ہی رہتی ہے۔ عدالتیں انصاف نہیں دے پاتی ہیں۔ موٹر سائیکل رکشے چھوٹی گاڑیاں ٹریفک قوانین کی پابندی کرتی ہیں۔ بڑی گاڑیاں ڈالے گرد اڑاتے ٹریفک سارجنٹ کو منہ چڑاتے فراٹے بھرتے گزر جاتے ہیں۔

یہ کلچر جس کا ہدف ہمارے معزز محترم ڈاکٹر عارف ساقی بنے ہیں اسی کی وجہ سے میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے ۔شہر شہر انارکی ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے 45 فیصد ہیں وہ مڈل کلاس میں آنے کی تمنا کھو چکے ہیں البتہ ہماری مڈل کلاس مراعات یافتہ طبقے کی قانون شکنی میں مدد کر کے معزز ہونا چاہتی ہے۔ حکمرانی ابتر ہوتی جا رہی ہے ۔قرضے بڑھ رہے ہیں۔ قانون بیچارہ وہیل چیئر پر ہے۔ آئین ترامیم کے بوجھ تلے دب کر ہانپ رہا ہے ۔ڈالے واہگہ سے گوادر تک دندناتے پھر رہے ہیں۔

تازہ ترین