• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نہ اِس شہر کی کوئی کَل سیدھی ہے اور نہ یہاں کوئی پُر فضا مقام ہے۔ ٹریفک بد ترین ہے اور موسم اُس سے بھی زیادہ۔ شدید گرمی اور حبس۔ دو منٹ میں بندہ پسینے میں نہا جاتا ہے۔ ڈاؤن ٹاؤن میں عمارتیں بغیر کسی ترتیب کے بنائی گئی ہیں، ایسے جیسے کسی بچے نے جا بجا lego کے بلاکس کھڑے کر دیے ہوں اور بجلی کے تاروں کے ایسے گُنجل ہیں کہ لاہور کا شاہ عالمی بازار بھی دیکھ کر شرما جائے۔ فٹ پاتھ پر ٹھیلے والوں نے قبضہ جما رکھا ہے اور سیون الیون کے باہر بھکاریوں نے۔ شہر کی گنجان گلیوں میں بدبو کے بھبکے اُڑتے ہیں۔ ایک ٹرین شہر کے اندر چلتی ہے مگر ایسے بے ڈھنگے انداز میں کہ لگتا ہے جیسے کسی اژدھے نے شہر کو جکڑ رکھا ہو۔ لیکن اِس کے باوجود پوری دنیا سے سیاح یہاں آتے ہیں، زمین کے ہر کونے تک پروازیں جاتی ہیں، دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک اِس شہر میں ہے، سارا سال یہاں میلے کا سا سماں رہتا ہے، ایسے لگتا ہے جیسے چوبیس گھنٹے کوئی تہوار منایا جا رہا ہو، صبح کے سات بجے ہوں یا رات کے اڑھائی، رونق اتنی ہوتی ہے جیسے کوئی جشن کا سماں ہو۔ یہ دنیا کے چند عجیب و غریب شہروں میں سے ایک ہے، نام ہے بنکاک۔

اگر اِس شہر کا نام سن کر آپ معنی خیز انداز میں مسکرا دیے ہیں تو قصور آپ کا نہیں، اِس شہر کی شہرت ہی کچھ ایسی ہے مگر یہ محض اِس کا ایک روپ ہے۔ میں تین چار دفعہ بنکاک آ چکا ہوں اور ہر مرتبہ اِس شہر کا ایک نیا انداز سامنے آتا ہے۔ بنکاک وہ شہر نہیں جہاں آپ ایک فہرست بنا کر جائیں اور چار دن میں ’ٹِک مارک‘ کرکے واپس آ جائیں۔ یہ شہر آپ کو تھکا دے گا۔ یہاں لوگ عیاشی کرنے بھی آتے ہیں اور ہنی مون منانے بھی، بچوں کو لے کر بھی آتے ہیں اور دوستوں کو بھی۔ کم بجٹ میں سیر کرنی ہے تو یہ شہر آئیڈیل ہے، یورپ کے مقابلے میں تین سے چار گنا سستا۔ اور اگر آپ فائیو اسٹار قسم کا قیام کرنا چاہتے ہیں تو اُس کی بھی یہاں کوئی انتہا نہیں۔ بیجنگ سے واپسی پر میں یہاں تین دن کیلئے رکا۔ حبس ایسا شدید تھا کہ چلنا محال ہو گیا۔ بنکاک کی بارش البتہ مشہور ہے، اچانک ہوتی ہے اور موسلادھار۔ اُس رات بھی یہی ہوا۔ کشتی میں سوار ہو کر سیام آئیکن پہنچا جو بنکاک کا مشہور تفریحی مقام ہے۔ دریا کے کنارے شاپنگ سینٹر آباد کیا گیا ہے، شنگھائی کا بند یاد آ گیا۔ تا حد نگا روشنیاں اور بلند و بالا عمارتیں جن کا عکس پانی میں جھلملا رہا تھا۔ سیام آئیکن کے اندر انواع و اقسام کے کھانے، دنیا کے بڑے بڑے برینڈز اور تھائی لینڈ کی اپنی بنی ہوئی مصنوعات مہنگے داموں بِک رہی تھیں۔ ایک جگہ مگرمچھ کی کھال اتار کر ایسے رکھی ہوئی تھی جیسے اُس کی سجّی بنانی ہو۔ کشتی کے علاوہ یہاں چونکہ ٹرین بھی آتی ہے تو سوچا واپسی پر ٹرین لے لوں۔ باہر نکلا تو ایسی بارش شروع ہو گئی کہ لگتا تھا اب قیامت کے دن ہی تھمے گی۔ لیکن لوگ یوں مطمئن تھے جیسے معمول کی بات ہو۔ اگلے اسٹیشن پر اترا تو بارش رک چکی تھی اور زندگی ویسے ہی رواں دواں تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

بنکاک وہ شہر ہے جسکے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہاں مندِر زیادہ ہیں یا قحبہ خانے۔ مندر نہ بھی ہو تو پوجا کیلئے جگہ جگہ مورتیاں رکھی ہوتی ہیں جس پر لوگ چڑھاوے بھی چڑھاتے ہیں۔ یورپی سیاحوں کیلئے یہ جگہ کسی جنت سے کم نہیں، اُنکے زیادہ تر ممالک میں جسم فروشی اور نشہ آور اشیا (ما سوائے شراب) پر پابندی ہے اور جہاں قانوناً اجازت بھی ہے وہاں وہ آزادی میسر نہیں جو تھائی لینڈ میں ہے۔ جس شہر میںدکانوں کے باہرعلانیہ لکھا ہو کہ ہم یہاں گانجا فروخت کرتے ہیں وہاں ایمسٹرڈیم کی چار پردوں میں لپٹی ہوئی weed بیچاری کیا کرے گی۔ یوروز کو جب یہ یورپئین تھائی بھات میں تبدیل کرتے ہیں تو اُن کے ہاتھ میں نوٹوں کی گڈیاں آجاتی ہیں جن سے وہ بنکاک کے کلبوں میں ویسے ہی ’چھَٹّے‘ مارتے ہیں جیسے بھلے وقتوں میں اپنے ہاں ہیرا منڈی میں جاگیر داروں کے لونڈے چھَٹّے مارا کرتے تھے۔ جین زی کو اِس پریکٹس کا علم نہیں اور انہیں بتانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن جیسا میں نے کہا کہ یہ بنکاک کا محض ایک چہرہ ہے۔ اگر آپ ثقافت، تاریخ یا کھیل کے دلدادہ ہیں تو یہ شہر آپ کا دل موہ لے گا۔ سونے کے پانی سے بنے ہوئے مندروں سے لیکر مہاتما بدھ کی مورتیوں تک اور میلے ٹھیلوں سے لیکر کِک باکسنگ کے عالمی مقابلوں تک، بنکاک وہ سب کچھ پیش کرتا ہے جو کسی اور شہر میں نہیں۔ ساٹھ بھات (تقریباً ساڑھے پانچ سو روپوں) میں آپ کسی شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھ کر اچھا کھانا کھا سکتے ہیں اور اگر اِس بھی کم پیسوں میں کھانا ہو تو سڑک کے کنارے ریڑھی سے بار بی کیو کھا لیں۔ اِس سے سستی صرف خاموشی۔ لاس ویگاس، ویانا یا ایمسٹرڈیم تو نہیں تاہم بنکاک جیسے شہروں میں جا کر یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ آخر ہم اپنے ملک میں سیاحوں کو کیوں نہیں لا سکتے۔ ظاہر ہے کہ اِس سوال کے درجنوں جوابات ہیں اور کم و بیش سب ہی درست ہیں۔ دنیا کے اُن ممالک میں بھی سیاحت ہم سے زیادہ ہے جہاں امن و امان کی صورتحال لگ بھگ ہمارے جیسی ہے، گورے وہاں بھی چلے جاتے ہیں مگر یہاں نہیں آتے، کیوں؟ اِس سوال کو اگر ہم یوں پوچھ لیں کہ گورے یہاں کیوں آئیں تو زیادہ آسان ہو جائیگا۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ اگر یہاں بھی بنکاک جیسی آزادی مل جائے تو سیاحت کو فروغ مل جائیگا لیکن میں اِس سے اتفاق نہیں کرتا۔ ہر شہر اور ملک کی اپنی ’نیش‘ ہوتی ہے، بنکاک نے اپنی ایک انفرادیت قائم کی ہے جسکی نقل کرنا ممکن نہیں۔ ہماری انفرادیت دریا، جھیلیں یا بلند و بالا عمارتیں نہیں ہیں، دنیا میں یہ چیزیں ہم سے کہیں بہتر موجود ہیں، ہماری انفرادیت اندرون شہر لاہور ہے، ٹیکسلا ہے، تخت بائی ہے، موہنجودڑو، ہڑپہ، مہر گڑھ، سوات، روہتاس، بھنبھور اور وادی کیلاش ہے۔ ہم جھیل سیف المکوک کو بیچنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ناروے میں ایسی جھیلیں چپے چپے پر رُل رہی ہیں۔ ناروے میں البتہ اندرون شہر کی گلیاں نہیں ہیں، رانی کوٹ کا قلعہ نہیں ہے اور بابا گرونانک کی جنم بھومی نہیں ہے۔ خیر، اِن باتوں کو رگیدنے کا کوئی فائدہ نہیں، صبح شام کا یہی رونا ہے۔ بنکاک سے واپسی ہو چکی ہے۔ جو لوگ پوچھیں گے کہ بنکاک یاترا کیسی رہی تو اُن کیلئے یہی جواب ہے کہ جو کچھ دیکھا اور کیا، یہاں لکھ دیا، اگر تسلی نہیں ہوئی تو خود تشریف لیجا کر دیکھ لیں۔آپ ایک مرتبہ دیکھیں گے، دوسری مرتبہ دیکھنے کی ہوس ہو جائیگی۔

تازہ ترین