• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

گوروں نے جب اس بر صغیر سے کوچ کیا تو وہ پاکستان ،بھارت میں بہترین ہیلتھ اور ایجوکیشن سسٹم ،ریلوے، نہری نظام، ہوائی سفر، ڈاک، ٹیلی فون اور ٹیلی گراف دے گئے ۔ہم نے بڑے تحمل سے اور مستقل مزاجی سے ان تمام شعبہ جات کی تباہی کا بیڑا اٹھایا اور الحمدللہ ہم اس میں کامیاب ہوتے جا رہے ہیں۔ ریلوے خسارے میں ، ڈاک کا محکمہ بند ہونے کو ،پی آئی اے فروخت ہو چکی ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے کوئی ایچی سن کالج جیسا معیاری اور شاندارتعلیمی ادارہ نہیں۔ اس سال کے نویں جماعت کے نتائج آپ سب کے سامنے ہیں۔ کوئی دن نہیں گزرتا کہ کوئی نہ کوئی ریل گاڑی پٹڑی سے نہ اتر جاتی ہو۔ ویسے تو پورے ملک کا نظام ہی پٹڑی سے اترا ہوا ہے جس کا اظہار اب تو حکومتی اراکین بھی کرتے رہتے ہیں ۔بات کرتے ہیں پمز کے واقعے پر۔

1947 ءکے بعد پاکستان میں کئی نئے سرکاری اسپتال، کئی بنیادی صحت کے مراکز اور دیگر کئی علاج و معالجے کے مراکز بنے ۔لاہور میں پچھلے 74 برسوں میں صرف ایک سروسز اسپتال، ایک جنا ح اسپتال بنا ۔پی آئی سی اور جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی صرف دل کے امراض کے لیے اور پی کے ایل آئی صرف گردوں اور جگر کیلئےہے ۔اس کے علاوہ گورنمنٹ سید مٹھا بازار،گورنمنٹ مزنگ اسپتال اور گورنمنٹ ٹیچنگ اسپتال بنے ۔1947 میں لاہور کی آبادی 3لاکھ 42ہزار تھی آج یہ شہر 3کروڑ کی آبادی کا شہرہے اور اسپتالوں کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔

گورنمنٹ میاں منشی اسپتال ایک خدا ترس شخص میاں منشی بنا کر دے گیا۔ ان نئے اور پرانے اسپتالوں جن میں میو اسپتال، سرگنگا رام اسپتال اور لاہور جنرل اسپتال شامل ہیں ۔ کئی وزرائے صحت، کسی بیوروکریٹ اور صحت کے ماہرین کو یہ خیال نہ آیا کہ ان اسپتالوں میں آگ بجھانے کے لیے سسٹم اور ایمرجنسی سیڑھیاں ہونی چاہئیں۔ ہمارے حکمران کوئی بھی اہم قدم اٹھانے کے لیے کسی بڑے واقعے کا انتظار کرتے ہیں۔ پمز میں آگ لگنے کا واقعہ جس قدر تکلیف دہ ہے اس کا اندازہ صرف ان 14 بچوں کے گھر والے ہی کر سکتے ہیں۔ آپ بھلے انہیں 50لاکھ دیں یا ایک کروڑ، اس سے ان کے زخم کبھی نہیں بھریں گے۔ اگر پمز میں حکمران اپنا علاج کراتے تو یہاں کے حالات مختلف ہوتے ۔ہم تو کئی سیاست دانوں کو جانتے ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کی ڈلیوری پرائیویٹ اسپتالوں میں کرائی ہے۔ آج سرکاری اسپتالوں میں کون آتا ہے وہ بیچارا آتا ہے جو ایک سر درد کی گولی بھی نہیں خرید سکتا۔ آج چلڈرن اسپتال لاہور اور کراچی کے بچوں کے اسپتال میں ایک ایک بستر پر تین سے چار بچے پڑے ہوتے ہیں ۔ہم کچھ عرصہ قبل جناح اسپتال کراچی کے بچوں کے اسپتال وارڈمیں گئے تو وہاں ایک بستر پر چھ بچے قطار میں لیٹے ہوئے تھے اب ان کو کراس انفیکشن نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟آج بھی لاہور کے کسی سرکاری اسپتال میں مریضوں کو بیڈ نہیں ملتا ۔

پتہ نہیں وہ اسپتال کہاں ہیں جو اسٹیٹ آف دی آرٹ ہیں جہاں پر ہر دوا مل جاتی ہے جہاں پر کسی بھی ٹیسٹ کے لیے لمبی لمبی تاریخیں نہیں دی جاتیں۔آج اسپتالوں میں آگ لگنے کے واقعات اس لیے بھی ہو رہے ہیں کہ وہاں پر بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے بجلی کو فوری بند کرانے کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں ۔ہم نے اپنے ا سکول سینٹرل ماڈل ا سکول میں تین سال تک بجلی کے کام کے بارے میں تعلیم و تربیت حاصل کی تھی اور ڈی سی بجلی کا سارا کام ہمیںآتا ہے، اب اے سی بجلی ہے۔ انگریزوں، ہندوؤں اور سکھوں کی لاہور میں جتنی بھی پرانی کوٹھیاں اورعمارات ہیں ان میں ہر کمرے کے اندر لکڑی کے سوئچ بورڈ کے اوپر Bakelite کے گول کالے فیوز یا چینی کے لمبے لمبے فیوز لگے ہوتے تھے جن کے اندر ایک تار لگی ہوتی تھی اگر بجلی کا کرنٹ کسی کو لگتا یا کوئی خرابی آتی تو فیوز اڑ جاتا اور بجلی فوراََبند ہو جاتی تھی۔ آج تو آپ کے اسپتالوں میں ڈی پی بکس اور سرکٹ بریکر لگے ہوئے ہیں اور ڈی پی بکس کہیں دور ہوتا ہے جس کا ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف تک کو بھی نہیں پتہ ہوتا ۔پمز کے واقعے میں کرپشن اور نااہلی دونوں کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔جس بھی ٹھیکیدار نے بجلی کا کام کیا، کیا آپ نے اس کو پکڑا؟

ہمیں یاد ہے کہ الحمراہال کی چھت کئی برس قبل گر گئی تھی اس وقت کی حکومت نے الحمرا کے ڈیزائن کرنے والے معروف ماہر تعمیر اور آرکیٹیکٹ نیر علی دادا کو پکڑ لیا تھا حالانکہ انہوں نے صرف الحمرا ہال کا ڈیزائن کیا تھا ۔اسپتال کا الیکٹریشن اور الیکٹریکل سپروائزر کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ پمزکے وہ ڈائریکٹرز جو بھاری بھرکم معاوضے لے رہے تھے ان کو بروقت بتاتے کہ تاریںناقص ہیں یا پرانی ہو چکی ہیں ۔پمز اس زمانے میں تعمیر ہوا تھا جب اسلام آباد صرف چند ہزار افراد کا شہر تھا آج یہ شہر لاکھوں کا ہو چکا ہے اور اس اسپتال پر اسلام آباد،آزاد کشمیر حتیٰ کہ افغانستان تک سے بھی لوگ علاج کرانے آتے ہیں۔ انتظامیہ کے کسی فرد اور کسی وفاقی وزیر صحت کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اسپتال کے ان حساس معاملات پر نظر رکھیں جس کا تعلق انسانی جان کے ساتھ ہے۔آج ہمارے محترم وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال پمزمیں جا کر ڈاکٹروں اور کام نہ کرنے والوں کو ملازمت سے برخاست کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ آپ اس آگ والے واقعے سے پہلے کتنی مرتبہ پمز میں گئے تھے؟

ہمارے ہاں لوگوں کو مختلف اسپتالوں کے بورڈز میں شامل ہونے کا تو بہت شوق ہے کبھی کسی بورڈ کے ممبر نے کسی بھی اسپتال کے زمینی حقائق کو دیکھا ہے؟ اسلام آبادہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی ہے جو ایک عرصے سے کام نہیں کر رہی اس کے تمام ممبرز اور چیئرمین استعفیٰ دے چکے ہیں انہوں نے اپنی جان چھڑائی ہے۔اس کے چیئرمین اور ممبرز اپنے اسپتال اور میڈیکل کالجز چلا رہے ہیں ۔ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔یہ سارے استعفیٰ دیکر بچ گئے۔ انہوں نے کتنی مرتبہ پمز اور اسلام آباد کے دیگر سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کا وزٹ کیا اور کوئی رپورٹ دی؟ ۔( جاری ہے)

تازہ ترین