• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی حالیہ سفارتی پیشرفت نے واضح کردیا ہے کہ ہمارا ملک Strategic depth سے محروم نہیں۔ جب سیاسی قیادت، قومی سلامتی کے ادارے اور سفارتی مشینری کسی مقصد پر یکجا ہوں تو پاکستان محدود وسائل کے باوجود اپنے ظاہری وزن سے زیادہ اثرورسوخ پیدا کرسکتا ہے۔ لیکن خارجہ پالیسی صرف سربراہی ملاقاتوں اور اعلامیوں سے تشکیل نہیں پاتی۔ اس پر عمل دنیا بھر کے سفارتخانوں، ہائی کمیشنوں، قونصل خانوں اور تجارتی مشنوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اب توجہ اس سفارتی ڈھانچے کی اصلاح پر ہونی چاہیے۔قومی قیادت سفارتی کامیابی کا دروازہ کھول سکتی ہے، مگر اسے کھلا رکھنا اداروں کا کام ہے۔ سفیر سیاسی خیرسگالی کو پائیدار تعلقات میں بدلتا، کمرشل افسر نئی منڈیاں تلاش کرتا اور مشن حکومتوں، کاروباری اداروں، جامعات، تھنک ٹینکس، سرمایہ کاروں، ذرائع ابلاغ اور سمندر پار پاکستانیوں سے روابط بناتا ہے۔ اس کیلئے متعلقہ ملک کی زبان، تہذیب، سیاسی نظام، معاشی ضروریات اور ابلاغی ماحول کا فہم ناگزیر ہے۔ سفارتکاری کو پُرکشش تعیناتی نہیں بلکہ قومی طاقت بڑھانے والی پیشہ ورانہ خدمت سمجھنا ہوگا۔ پاکستان میں غیرکیریئر افراد کیلئے سفارتی عہدوں کا مخصوص حصہ موجود ہے۔ سفارتی کور سے باہر کسی غیرمعمولی صلاحیت، تجربے یا عالمی ساکھ رکھنے والے شخص کو سفیر مقرر کرنے میں قباحت نہیں۔ مسئلہ تب ہے جب تقرری قومی ضرورت اور میرٹ کے بجائے سیاسی پسند، اقرباپروری یا ذاتی تعلق پر ہو۔ استثنائی اہلیت کا دروازہ کھلا رہے، مگر کیریئر سفارتکاروں کا راستہ مسدود نہ ہو۔ماضی میں سفارتی کور سے باہر کی شخصیات نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ میاں ممتاز دولتانہ، شیری رحمان، صاحبزادہ یعقوب علی خان، ڈاکٹر ہمایوں خان، Academia اور صحافت سے وابستہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی اور کاروباری پس منظر کے سابق کرکٹ کمنٹیٹر جمشید مارکر مثالیں ہیں۔ مارکر تین دہائیوں تک سفیر رہے۔ ثابت ہوا کہ غیرکیریئر تقرری بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔ پیمانہ اہلیت، تجربہ، کردار اور قابلِ پیمائش کارکردگی ہے۔اسکے برعکس بعض غیرکیریئر تقرریوں نے سیاسی صوابدید کے نقصانات نمایاں کیے۔ شاہد خاقان عباسی کے دور میں سفارتی تجربہ نہ رکھنے والےایک صاحب کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا گیا، مگر چند ماہ بعد انہیں ہٹا دیا گیا۔ سعودی عرب میں ایک ریٹائرڈ افسر کی تعیناتی بھی شکایات کے بعد قبل از وقت ختم کرنا پڑی۔ بعض ممالک میں ٹریڈ کمشنر مقرر کیے گئے جہاں پاکستان کی تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ سیاسی تعلق یا سابقہ عہدہ، سفارتی اہلیت کا نعم البدل نہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سفارتی منصب انعام نہ بنے اور ہر تقرری متعلقہ ملک میں پاکستان کے واضح مفاد سے مشروط ہو۔نئے عالمی نظام اور بدلتی صف بندیوں نے سفارتکاری کے تقاضے بدل دیے ہیں۔ آج جنگ سرحد اور مذاکراتی میز کے ساتھ اطلاعات، تصاویر، ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا پر بھی لڑی جاتی ہے۔ غلط اطلاع، آدھا سچ اور منظم پروپیگنڈا چند گھنٹوں میں عالمی رائے عامہ متاثر کرسکتے ہیں۔ بھارت نے پلوامہ اور پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشنز کے بعد پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ شدت سے پیش کیا۔ مئی 2025کی کشیدگی نے ثابت کیا کہ عسکری تیاری کے ساتھ بروقت سفارتی و ابلاغی ردعمل ناگزیر ہے۔پاکستانی سفارتخانوں کو اطلاعاتی یلغار کے انتظار کے بجائے پیشگی تیاری کرنا ہوگی۔ ہر اہم مشن میں میڈیا اور ڈیجیٹل ڈپلومیسی سیل ہو جو مقامی ذرائع ابلاغ، تھنک ٹینکس اور پالیسی سازوں سے رابطے میں رہے۔ جھوٹی خبر کے کئی دن بعد تردید کافی نہیں۔ پاکستان کا مؤقف فوری، معتبر، شواہد پر مبنی اور مقامی زبان میں آئے۔ سفیر بند کمروں کا مذاکرات کار ہی نہیں، قومی بیانیے کا مؤثر ترجمان بھی ہو۔اقتصادی سفارتکاری مشنوں کی بنیادی ذمہ داری بنانا ہوگی۔ کمرشل قونصلر صرف اسلام آباد کو رپورٹیں نہ بھیجے۔ اسے معلوم ہو کہ منڈی میں رکاوٹیں کیا ہیں، ممکنہ خریدار کون،پاکستانی برآمدکنندگان کیوں پیچھے اور کن سرمایہ کاروں کو پاکستان لایا جاسکتا ہے۔ ہر اہم مشن کے قابلِ پیمائش اہداف ہوں: کتنی سرمایہ کاری میں سہولت دی، کون سی منڈی کھولی، کتنے تجارتی تنازعات حل اور کتنے پائیدار کاروباری روابط قائم کیے۔ایک بنیادی اصلاح سفارت خانے میں وحدتِ کمان ہے۔ دفاعی اتاشی، ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسر اور پریس ونگ اپنے محکموں سے فنی ہدایات لیتے ہیں، مگر دوہری جواب دہی مشن کی حکمت عملی میں انتشار پیدا کرسکتی ہے۔ سفیر حقیقی سربراہ اور تمام شعبے متحدہ ’’کنٹری ٹیم‘‘ کا حصہ ہوں۔ وزارتوں سے فنی رابطہ رہے، مگر ترجیحات، رابطہ کاری اور کارکردگی کا حتمی اختیار سفیر کے پاس ہو۔ ذمہ داری مکمل ہو تو اختیار بھی مکمل ہونا چاہیے۔اقوام متحدہ کے مستقل مشن، امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، ایران، بھارت، افغانستان، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے اہم مقامات پر تجربہ کار کیریئر سفارت کار تعینات ہوں۔ تقرری سیاسی صوابدید یا نوازنے کی بنیاد پر نہ ہو، کیونکہ معمولی غلطی بھی سلامتی، معیشت اور عالمی حیثیت پر دوررس اثر ڈال سکتی ہے۔ غیرکیریئر تقرری تبھی قابلِ قبول ہو جب امیدوار کی غیرمعمولی اہلیت اور متعلقہ ملک کیلئے موزونیت واضح ہو۔اصلاح کا خاکہ پیچیدہ نہیں: کیریئر سفارت کاری معمول اور غیرکیریئر تقرری غیرمعمولی اہلیت کی بنیاد پر استثنا ہو۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سفارتی مناصب کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اہم ممالک میں تربیت یافتہ کیریئر سفارت کار مقرر ہوں۔ لسانی اور علاقائی مہارت کو ترقی اور تعیناتی سے جوڑا جائے۔ اقتصادی اور ڈیجیٹل سفارتکاری کو مرکزی حیثیت ملےاور اصول ہودرست شخص، درست ملک، درست مہارت اور مناسب مدت۔فارن سروس کی اصلاح اسلئے ضروری نہیں کہ پاکستانی سفارت کاری مکمل ناکام ہے، بلکہ اسلئے کہ حالیہ کامیابیوں نے ہماری بڑی صلاحیت آشکار کردی ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت مواقع پیدا کرسکتی ہے، مگر انہیں مستقل قومی اثاثوں میں بدلنا سفارتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کو ایسے بیرونی مشن درکار ہیں جو رسمی نمائندگی کےبجائے قومی طاقت کے فعال مراکز ہوںسیاسی طور پر زیرک، معاشی طور پر متحرک، ابلاغی طور پر مستعد، پیشہ ورانہ طور پر مضبوط اور ادارہ جاتی طور پر جواب دہ۔ آج کا سفارتی لمحہ مستقل قومی برتری بنے گا یا عارضی کامیابی رہیگا، اسکا فیصلہ ہمارے تعمیر کردہ ادارے کریں گے۔

تازہ ترین