میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن نے ایس ایچ او سے پوچھ گچھ کی اور ان کے سامنے اہم سوالات اٹھادیے۔ کمیشن نے ایس ایچ او سے کہا کہ میں صرف لگتا بےوقوف ہوں، بےوقوف ہوں نہیں۔
میر رضا کے والد میر حسین نے کمیشن کو بتایا کہ 30 جولائی کو ایس ایچ او نے کہا کہ ’ہم نے ملزمان کو ٹریس کرلیا ہے،‘ انہوں نے کہا کہ ’آپ کو معلوم ہے میرا ٹریک ریکارڈ کیسا ہے۔‘
میر حسین کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او نے کہا، ‘ہم 48 گھنٹوں میں آپ کو بتائیں گے‘۔
کمیشن نے کہا کہ پولیس نے ملزمان ٹریس کرلیے تھے، 48 گھنٹوں بعد خودکشی قرار دے دیا۔
کمیشن نے ایس ایچ او عدیل افضال سے سوال کیا کہ آپ نے فیملی سے کہا کہ باڈی ڈیڑھ دن پرانی ہے؟ جس پر ایس ایچ او بولے کہ میں نے میر رضا کی لاش نہیں دیکھی تھی۔
کمیشن نے ایس ایچ او سے سوال کیا کہ آپ نے فیملی سے اسمارٹ واچ کیوں لی تھی؟ جس پر ایس ایچ او نے جواب دیا کہ فرانزک کے لیے واچ لی تھی۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کیا میمو بنایا گیا تھا؟ جس پر عدیل افضال کا کہنا تھا کہ جی میمو بنایا گیا تھا۔
کمیشن نے کہا کہ سب نے بیان میں کہا کہ صرف دو لوگ گھر گئے تھے، کمیشن نے سوال کیا کہ میمو پر تیسرے اہلکار یاسر اور حماد کا نام کیسے ہے؟
میر حسین کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن میں سوال اٹھایا کہ میمو بنانے والے اے ایس آئی فیصل رحیم بھی وہاں موجود نہیں تھے۔ کیس میں ہولسٹر بھی اے ایس آئی فیصل رحیم نے برآمد کیا۔
ایس ایچ او عدیل افضال کا کہنا تھا کہ ہم دو گاڑیوں میں وہاں گئے تھے۔ جس ہر کمیشن نے کہا کہ ڈی ایس پی ارشد آفریدی نے بھی بیان میں یہی کہا تھا کہ وہ آپ کے ساتھ گئے تھے۔
کمیشن نے سوال اٹھایا کہ فیصل رحیم تو شاہین فورس میں ہیں، وہ تھانے میں کیا کر رہے تھے؟ جس پر ایس ایچ او عدیل افضال نے کہا کہ فیصل رحیم تھانے میں ایکسٹرا ڈیوٹی بھی کرتے ہیں۔
جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ فیملی کی موجودگی میں گواہ پولیس اہلکار کو ہی کیوں بنایا گیا؟
کمیشن نے ایس ایچ او کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے سینئر افسران سے پوچھیں میں صرف لگتا بےوقوف ہوں، بے وقوف ہوں نہیں۔