بلوچستان نے اپنی تاریخ کا بیشتر حصہ ہنگامہ دار وگیر میں گزارا ہے۔ انگریزوں سے آزادی کی جنگ ہو یا پاکستان سےالحاق کا مسئلہ، امن و امان کی صورت حال ہمیشہ ابتر رہی۔ اب تو صورتحال دہشت گردی تک پہنچ چکی ہےجس سے نمٹنے میں سیکورٹی فورسز رات دن مصروف عمل ہیں صرف پچھلے ہفتے صوبے کے 33 اضلاع میں کارروائیوں کے دوران 785افراد پکڑے گئے ان میں 44 اشتہاری مجرم اور 249 فراری بھی شامل ہیں 16مغوی بازیاب کرائے گئے ، یونیورسٹیوں کے اساتذہ سمیت ایک سو سرکاری ملازمین پاکستان مخالف بیانیہ اپنانے پر برطرف کردئیے گئے ہیں۔سیاسی بے چینی اور افراتفری کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔ ایسے میں صوبے کی صحافت بھی کڑی آزمائشوں سے گزررہی ہے ۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے اسی پس منظر میں پاکستان کو دنیا کا سب سے خطرناک ملک قراردیا ہے اور بلوچستان کو اس کا خطرناک ترین صوبہ، خیبرپختون خوا کو بھی حساس ترین قرار دیا گیا ہے میں نے بطور صحافی عمر عزیز کے تقریباً 32سال بلوچستان میں گزارے ہیں اسلئے وہاں میڈیا کارکنوں پر کیا گزررہی ہے اس کا چشم دید گواہ ہوں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ہاتھوں زک اٹھانے والوں کے علاوہ شہیدوں میں بھی آباد کار، بلوچ، پشتون اور ہزارے سب شامل ہیں ۔ان کا قصور بعض سیاسی پارٹیوں یا تنظیموں کے پریس ریلیز انکی منشا کے مطابق شائع نہ کرنا ہے یہ پریس ریلیزخبریت کی بجائے مخالفین کی کردار کشی ، گالی گلوچ،بہتان تراشی اور فساد پھیلانے کا ذریعہ ہوتے ہیں انہیں من و عن شائع کرنے پر اصرار کیا جاتا ہے اور انکار کی صورت میںسنگین نتائج کی نہ صرف دھمکیاں دی جاتی ہیں بلکہ ان پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ حکومت کی پابندیاں اس عمل کو مہمیز دیتی ہیں۔
بلوچستان میں باقاعدہ صحافت کا آغاز 1918ء میں ہوا جب بلوچستان ہیرالڈکے نام سے پہلا اخبار نکالا گیا ۔بعد کے ادوار میں خان عبدالصمد اچکزئی، محمد حسین عنقا ،میریوسف عزیز مگسی ، عبدالصمد درانی ،مولوی محمد حسین ،اللہ بخش سلیم ، یعقوب غلزئی ، حسن نظامی اور بعض دوسری شخصیات نے اس علاقائی صحافت کو زندہ رکھا ۔ اس وقت دو سو سے زائد انگریزی اور اردو روزنامے ،ہفت روزے ، پندرہ روزے اور ماہنامے یہاں سے شائع ہورہے ہیں یہ تمام اخبارات اور جرائد بلوچستان کے حقیقی مسائل عوام کے حق حاکمیت اور مسائل و وسائل پر اختیار جیسے موضوعات کو اجاگرکررہے ہیں ۔اپنی پوری زندگی اس مشن میں صرف کرنے والے بہت سے صحافی آج دنیا میں نہیں ہیں ان میں پچھلے دو عشروں میں دنیا سے گزرجانے والے بڑے صحافیوں میں سید فصیح اقبال ، اکبر اچکزئی ، امداد نظامی ،جمیل الرحمان ،مقبول رانا ،صدیق بلوچ ، رشید بیگ ، صلاح الدین ناسک ، شاہین روحی بخاری ،عبدالماجدفوز،اکرام احمد ،اکرام اللہ خان ، اخترمرزا ، محمد اقبال ، ڈاکٹر چشتی مجاہد ، عرفان الحق صائم ، نسیم احمد نسیم ، فیاض حسین سجاد اور عاشق بٹ بھی شامل ہیں ۔
اس قافلے کے ایک اور ہمراہی سید خلیل الرحمٰن گزشتہ دنوں 75سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ خلیل الرحمٰن روزنامہ جنگ کے ایڈیٹوریل بورڈ کے چیئرمین تھے انہوں نے تقریباً 50سال مختلف شعبوں میں صحافتی خدمات انجام دیں گزشتہ 16سال سے ادارتی شعبےکے سربراہ تھے علالت کے دوران پہلے کوئٹہ میں علاج کروایا پھر لاہور چلے گئے جہاں وہ 8ستمبرکو دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ خلیل الرحمٰن سے تقریباً 20سال میری بھی رفاقت رہی وہ اندرونی صفحات کے انچارج تھے بطور ایڈیٹر مجھے بھی مشاورت کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے ہر معاملے میں دیانتدارانہ اور دانشمندانہ رائے دی ۔ راولپنڈی تبادلہ ہوا تو یہاں بھی ملتے رہے بطور ایڈیٹر صحافتی حلقوں میں ان کاخاص مقام تھا بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے اخبار فروشوں کے مسائل میں بھی انکے ساتھ رہے ۔ادارے کے اسٹاف کے ساتھ ان کا رویہ بہت اچھا تھا تمام رفقاء ان کے حسن سلوک کی تعریف کرتے ہیں جنگ کوئٹہ کے اسسٹنٹ منیجر سید کاشف حسین نے جب بتایا کہ خلیل صاحب کی طبیعت بگڑ رہی ہے اس لئے مزید علاج کے لئے لاہور چلے گئے ہیں تو دل سے انکی مکمل شفایابی کے لئے دعا نکلی مگر اگلے ہی روز عرفان سعید نے ان کی وفات کی اطلاع دے کر سوگوار کردیا۔
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا ہے اس لئے قومی اسمبلی میں اس کی صرف 17نشستیں ہیں لیکن صوبے کے مسائل اتنے زیادہ ہیں جو 80سال گزرنےکے بعد بھی حل نہیں ہوئے جوں جوں وقت گزر رہا وہاں کے عوام میں محرومیوں کا احساس بھی بڑھ رہا ہے ۔ خود صوبے کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کہتے ہیں کہ اتنے بڑے صوبے کا نظم و نسق کوئٹہ میں بیٹھ کر نہیں چلایا جاسکتا اسکے کے لئے ضروری ہے کہ مزید صوبے بنائے جائیں ۔ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کی زیر صدارت کل جماعتی کانفرنس نے بھی صوبے میں پائی جانے والی بے چینی اور بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا ہےیہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ بلوچستان کو کم سے کم تین صوبوں میں تقسیم کیا جائے ان میں ایک پشتونخوا، دوسرا کوئٹہ قلات وغیرہ اور تیسرا گوادر سمیت ساحلی اضلاع پر مشتمل ہونا چاہئے قومی اسمبلی میں ان صوبوں کی نشستیں بھی آبادی کے بجائے رقبے کی بنیاد پر مختص ہونی چاہئیں تاکہ بلوچستان کے لوگوں کو قومی معاملات میں معقول نمائندگی مل سکے ۔ ساتھ ہی صحافت کی آزادی بھی یقینی بنانی چاہئے ۔ بلوچستان کے مسائل صرف ایک صوبے کے نہیں پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ۔ بلوچستان کے لوگوں کو دیوار سے نہیں سینے سے لگایاجائے اور انکی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے ملک کی یکجہتی اور قوم کے روشن مستقبل کیلئے بلوچستان کے مسائل کا یہی ایک موثر حل ہے۔