اج کی پکائیے دس تیرا کی خیال اے۔کالم نگار کو بھی آئے روز یہی سوال تنگ کرتا ہے۔موضوعات کے انبار لگے ہوتے ہیں مگر ہر موضوع کہتا ہے،آر یو شور؟ کالم نگار نظریں بچاکر حافظے کے کباڑ خانے میں نکل جاتا ہے۔وہاں بکھرے ہوئے عنوانات، واقعات، کہانیاں، شعر اور حوالے اچھل اچھل کر منہ کو آرہے ہوتے ہیں۔ایک کہتا ہے مجھے لو دوسرا کہتا ہے مجھے لو۔ادیب کو ایسے موقع پر طے کرنا ہوتا ہے کہ مجھے کیا نہیں لینا۔کوئی بات کتنی ہی شوخ ہو، جگہ نہ بنتی ہو تو ادیب وہ بات چھوڑ دیتا ہے۔کالم نگار کا مسئلہ اور ہے۔اسے اب وہی بات چھوڑنی پڑتی ہے جسکی جگہ بن رہی ہوتی ہے۔ایسا حرف اٹھانا پڑتا ہے جس میں مہک نہ ہو۔گردو پیش کے حالات سے بے نیاز حرف کاغذی پھول کی طرح معانی کی خوشبو سے محروم ہوتا ہے۔جبکہ حرف اور معانی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ۔آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ۔نون میم راشد کی یہ پوری نظم پڑھنی ہو تو گوگل کرلیجیے۔گوگل ادھوری نظمیں نہیں سناتا۔اسے شام کو گھر نہیں جانا ہوتا۔
کالم نگار کو گھر جانا ہوتا ہے۔اس لیے بہت وقت سے ادارتی صفحوں اور رات کے ٹاک شوز میں ادھورا پن نمایاں ہوکر سامنے آرہا ہے۔بات پوری نہیں ہے عنوانات واضح نہیں ہیں۔وہ بات بھی نہیں ہو پارہی جس کے کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔چائے خانوں اور تہہ خانوں میں لوگ بولنے کی کوشش تو کر رہے ہیں مگر چیزیں تجزیے کی دسترس میں نہیں آرہیں۔خبریں ادھوری تھیں اب تجزیے بھی ادھورے ہیں۔سینیٹ میں ہونیوالے مباحثے ادھورے ہیں۔پارلیمنٹ کی تقریریں ادھوری ہیں۔صوبوں کا معاملہ اس وقت قومی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے مگر اس پر سینیٹ اور پارلیمنٹ کے علاوہ ہر جگہ گفتگو ہورہی ہے۔جو ہورہی ہے وہ گفتگو بھی ادھوری ہے۔پورے ملک کے مسائل تین ضلعوں کے لوگ بیٹھ کر بیان کریں تو بات ادھوری ہی رہ جاتی ہے۔ایسی ادھوری باتوں پر کبھی لوگ رائے نہیں دیتے تھے اب قانون بنالیتے ہیں۔ایسے قانون کو بھی ادھورا ہونا چاہیے تھا مگر قانون پورا ہے۔اتنا پورا ہے کہ ادھوری بات کے بھی پورے پیسے کاٹ رہا ہے۔
بات کرنے کی جگہ نہیں ہے۔جماعتی فورم بھی تنگ پڑرہے ہیں۔میاں جاوید لطیف کا ایک ویڈیو کلپ دیکھا۔قیادت سے کہہ رہے تھے کہ آپ ہی بتائیں اگر میں فورم پر بات نہیں کروں گا تو کہاں کروں گا۔مجھے موقع دیں مجھے بات کرنی ہے۔بھئی بات تو قائد محترم کو بھی کرنی ہے۔اب وہ غالب ہمیں نہ چھیڑ والا شعر بھی ماسک پہن کر زیر لب ہی پڑھتے ہیں۔خواجہ سعد رفیق کو بھی سخن گسترانہ کہنی ہو تو فیس بک پر گزر بھر کی ناصحانہ تحریر لکھ دیتے ہیں یا پھر فیسٹیولز میں چلے جاتے ہیں۔لٹریچر فیسٹیولز میں بات کہنے کیلئے کچھ جگہ نکلی تو تھی مگر وہاں بھی حضرت داغ بیٹھ گئے ہیں۔
دی بلیک ہول کا دم غنیمت ہے۔پچھلے چند سالوں میں واحد وہی ایک جگہ نکلی جہاں ہونیوالے ایک مباحثے میں ادھورا پن محسوس نہیں ہوا۔فواد چوہدری نے وہی کہا جو وہ بے لاگ کہتے ہیں۔ثنااللہ بلوچ نے وہ کہا جو وہ سینیٹ میں نہیں کہہ سکتے۔اب تو کہیں بھی نہیں کہہ سکتے۔خدا دی بلیک ہول کو نظر بد سے بچائے۔دی بلیک ہول کیا ہے۔آپ کو بلیک ہول کا بھی نہیں پتہ؟ حد ہے۔بلیک ہول خلا میں ایک ایسا مقام ہے جہاں مادہ انتہائی حد تک مرتکز اور کثیف ہو جاتا ہے۔یہ بات آسان الفاظ میں بالکل کہی جاسکتی تھی مگر آسان الفاظ اب بہت مشکل ہوگئے ہیں۔
آسان الفاظ میں بات کہنے کیلئے لوگ اب یوٹیوب چینلز پر جارہے ہیں۔مین اسٹریم میڈیا پر بات وہی دانشور کر پارہے ہیں جو سہیل وڑائچ کی طرح کردار نگاری کر رہے ہیں، ضیغم خان کی طرح اردوئے معلی میں بات کر رہے ہیں، وسعت اللہ خان کی طرح آنکھوں ہی آنکھوں میں بول رہے ہیں یا پھر وہ جو شدھ انگریزی میں لکھ رہے ہیں۔گوگل کو یاد ہوگا کہ جب سید کاشف رضا نے محمد حنیف کی انگریزی میں کہی ہوئی بات کو آسان کرنے کی کوشش کی تو صیغے کتنے گرم ہوگئے تھے۔
ایک شام یاد آگئی۔فیصلے کے دن تھے اور شرفا کو محتسب پڑے ہوئے تھے۔کسی نے استاذی وجاہت مسعود سے کہا، آپ کا لکھا ہوا عام قاری کو سمجھ نہیں آتا۔بہت مشکل لکھتے ہیں۔استاذ نے کچھ کہنے کیلئے گہرا کش لگایا۔اس سے پہلے کہ کچھ کہتے ایک اور صاحب بولے، حالات مشکل ہوتے جارہے ہیں۔بات مسترد ہورہی ہے۔کیا سوچا ہے آپ نے؟ استاد نے ترنت کہا، بھئی ہم نے تو یہی سوچا ہے کہ تھوڑا اور مشکل لکھ لیں گے۔محفل زعفران زار ہوگئی۔بات ازراہ تفنن کہی تھی مگر لگتا ہے بات سچ ہوگئی۔اب لکھنے سے پہلے وہ بھی غالب والی دعا پڑھ کر قلم پر پھونکتے ہیں۔کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔آمین ثم آمین۔استعارہ پہلے بھی ان کا ہتھیار تھا مگر اب ایک جملے پر استعارے کی تین تہیں جماتے ہیں۔حالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی۔اب انکے پورے کالم سے صرف ایک بات سمجھ آتی ہے۔کچھ بات ہے جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔بات کہنے کے بہانے ہیں بہت، آدمی کس سے مگر بات کرے۔
اچھا یہاں ادارتی صفحے پر بلال غوری نام کے ایک صاحب ہوا کرتے تھے۔پچھلے ڈیڑھ ہفتے سے انکے کالم نظر نہیں آرہے۔وہ کہاں ہیں؟ گوگل نے اس سوال کا بہت تفصیل سے جواب دیا ہے۔گوگل نے مجھے یہ تک بھی بتا دیا کہ بلال غوری کے خلاف درج ہونیوالی والی ایف آئی آر میں کیا لکھا ہے۔میں نے گوگل سے کہا، آدھی رات جب بلال کے دروازے پر دستک ہوئی تو وہ کیا کر رہے تھے؟ گوگل نے کہامجھے نہیں معلوم۔یعنی تمہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ کالم لکھ رہے تھے؟جی نہیں معلوم۔پھر تو تمہیں یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ ان کا کالم ادھورا رہ گیا ہے۔جی نہیں معلوم۔پھر تو یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ اس ادھورے کالم میں کیا لکھا ہے۔جی نہیں معلوم۔کیا تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں گوگل؟ نہیں میرے بچے کیسے ہو سکتے ہیں۔تو پھر تمہارے جوابات اتنے ادھورے کیسے ہوسکتے ہیں۔