• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب میں نویں جماعت کے حالیہ نتائج سامنے آئے تو اہلِ دانش چونک اٹھے۔ کہیں بچوں کی بڑی تعداد ناکام، کہیں نمبروں کی شرمناک کمی اور کہیں والدین کی آنکھوں میں سوال۔ مگر ذرا ٹھہریے! یہ نوحہ صرف نویں جماعت کے نتائج کا نہیں، یہ پورے تعلیمی نظام کے زوال کا نوحہ ہے۔ یہ اس قوم کی داستان ہے جس نے اپنے مستقبل کو کتاب کے بجائے فائلوں، تجربات اور وقتی پالیسیوں کے حوالے کردیا۔

تعلیم کی یہ بربادی ایک دن کا قصہ نہیں۔ یہ گتھی برسوں میں بڑی مہارت سے الجھائی گئی ہے۔ ہم نے استاد کو قوم کا معمار کہا، مگر اسے ایسی ذمہ داری کے حوالے کردیا جس کا تدریس سے دور دور تک تعلق نہیں تھا۔ جس استاد کو بچے کے ہاتھ میں قلم دینا تھا، اسے ہم نے سرکاری مشینری کا ایک ایسا پرزہ بنا دیا جسے جہاں ضرورت پڑی، نصب کردیا گیا۔پھر ہم نے تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی تجربات شروع کردیئے۔ کہیں سرکاری اسکول ٹھیکے پر دینے کی بات ہوئی، کہیں نجی شعبے کے حوالے کرنے کا تجربہ ہوا۔ سوال یہ نہیں کہ نجی شعبہ برا ہے یا سرکاری شعبہ اچھا، سوال یہ ہے کہ ریاست نے اپنی بنیادی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کیوں کی؟ تعلیم کوئی دکان نہیں کہ بہتر منافع دینے والے کے حوالے کردی جائے۔ یہ ریاست کا فرض ہے کہ پاکستان کے ہر بچے کو، خواہ وہ اسلام آباد کی پوش بستی میں پیدا ہوا ہو یا تھر کے کسی دور افتادہ گاؤں میں، یکساں معیار کی تعلیم فراہم کرے۔

سب سے بڑا المیہ پرائمری تعلیم کی تباہی ہے۔ عمارت کھڑی ہے، تختی لگی ہے، استاد موجود ہے، بچے بھی موجود ہیں، مگر بنیاد کمزور ہے۔ بچہ ابتدائی جماعتوں میں روانی سے پڑھنا، لکھنا اور بنیادی حساب نہیں سیکھ پاتا اور ہم اسے اگلی جماعت میں دھکیل دیتے ہیں۔تعلیمی سال پہلے ہی مختصر ہے، اس پر تعطیلات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ، موسمی بندشیں، انتظامی رکاوٹیں اور مختلف سرکاری سرگرمیاں۔ تعلیم میں تسلسل بنیادی شرط ہے۔ جس بچے کو چند دن پڑھا کر کئی دن گھر بھیج دیا جائے، اس سے مستقل علمی ترقی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

اور پھر نصاب! ہر حکومت آئی اور نصاب کو اپنی مرضی سے چھوتی رہی۔ کبھی انگلش میڈیم کا نعرہ، کبھی اردو میڈیم کی واپسی، کبھی کتابیں تبدیل، کبھی مضامین تبدیل، کبھی امتحانی نظام میں تبدیلی۔ یوں طالب علم صرف کتاب نہیں پڑھتا رہا، وہ ہر چند سال بعد ایک نیا تعلیمی تجربہ بنتا رہا۔

نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔آج ہمارے پاس ڈگریاں بہت ہیں، مگر علم کم ہے۔ کاغذی تعلیم بہت ہے، تحقیق کم ہے۔ یونیورسٹیاں بہت ہیں، مگر ایسی ایجادات کہاں ہیں جو پاکستان کے کھیت، فیکٹری، اسپتال اور معیشت کو بدل دیں؟ ہماری زرعی جامعات کسان کے مسائل کا فیصلہ کن حل کیوں نہیں دے رہیں؟ انجینئرنگ یونیورسٹیاں ہماری صنعت کو نئی ٹیکنالوجی کیوں نہیں دے رہیں؟ ہمارے سائنس دان عالمی سطح پر ایسی مصنوعات اور ٹیکنالوجی کیوں نہیں بنا رہے جن پر پاکستان فخر کرسکے؟

ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ صرف طالب علم کا نہیں، پورے نظام کا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے؟جواب ہے: ہاں، مگر اس کے لیے تقریروں نہیں، قومی فیصلوں کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے تعلیم کو سیاسی تجربہ گاہ بنانا بند کرنا ہوگا۔ ملک میں ایک قومی تعلیمی پالیسی ہونی چاہیے جو حکومتوں کے بدلنے سے تبدیل نہ ہو۔ کم از کم پچیس سال کی تعلیمی حکمت عملی بنائی جائے اور تمام سیاسی جماعتوں، صوبوں اور ماہرینِ تعلیم کو اس پر اتفاق کرنا چاہیے۔

پورے ملک میں ایک بنیادی یکساں قومی نصاب ہونا چاہیے۔ صوبائی زبان، ثقافت اور علاقائی تاریخ کو محفوظ رکھا جائے، مگر سائنس، ریاضی، کمپیوٹر، انگریزی، اردو، تاریخ، جغرافیہ، شہری شعور اور بنیادی اخلاقی تعلیم کے کم از کم معیارات پورے پاکستان میں یکساں ہوں۔دوسرا اہم کام استاد کا وقار بحال کرنا ہے۔ اسے غیر تدریسی ذمہ داریوں سے آزاد کیا جائے۔ استاد کا اصل میدان کلاس روم ہے۔ اسے واپس کلاس روم میں لائیے۔مگر استاد کے وقار کے ساتھ احتساب بھی ضروری ہے۔ استاد کی ترقی صرف سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ ترقی، انعام اور مراعات کو کارکردگی سے جوڑا جائے۔ تاہم کارکردگی کا مطلب صرف بورڈ کے نتائج نہ ہو۔ طلبہ کی علمی ترقی، حاضری، کلاس روم کا معیار، تدریسی منصوبہ بندی، تربیتی سرگرمیاں اور اسکول کی مجموعی کارکردگی کو بھی جانچا جائے۔ اچھے استاد کو معاشرے کا ہیرو بنایا جائے اور کمزور استاد کو سزا دینے سے پہلے تربیت دی جائے۔

تیسرا کام پرائمری تعلیم کا ہنگامی بنیادوں پر احیا ہے۔چوتھا کام نصاب کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ آج کا بچہ صرف کتاب نہیں پڑھ رہا، وہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل دنیا، سوشل میڈیا، ماحولیاتی بحران اور بدلتی ہوئی معیشت کے درمیان بڑا ہورہا ہے۔ اسے رٹنے والا طالب علم نہیں بلکہ سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور مسئلہ حل کرنے والا انسان بنانا ہوگا۔

پانچواں کام یونیورسٹیوں کو ڈگریوں کی فیکٹریوں کے بجائے تحقیق کے مراکز بنانا ہے۔ ہر جامعہ سے پوچھا جائے کہ اس نے ملک کو کیا دیا؟ کتنی زرعی ایجادات؟ کتنی صنعتی ٹیکنالوجیز؟ کتنے نئے کاروبار؟ کتنے قومی مسائل کا حل؟ یونیورسٹی کا مقام صرف اس کے طلبہ کی تعداد سے نہیں بلکہ اسکی تحقیق کے عملی اثرات سے متعین ہونا چاہیے۔

اور آخر میں ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ تعلیم خرچ نہیں، سرمایہ کاری ہے۔

آج نویں جماعت کے نتائج نے ہمیں آئینہ دکھایا ہے۔ آئینہ توڑ دینے سے چہرہ خوبصورت نہیں ہوجاتا۔ ہمیں چہرہ بدلنا ہوگا، نظام بدلنا ہوگا، ترجیحات بدلنا ہوں گی۔اور اگر ہم نے آج استاد کو عزت، بچے کو معیاری تعلیم، نصاب کو سمت، اسکول کو سہولت اور یونیورسٹی کو تحقیق دے دی تو یقین رکھیے، پاکستان کا تعلیمی نظام پھر اٹھ سکتا ہے۔

مگر اگر آج بھی ہم نے صرف نتیجہ دیکھا اور اس کے پیچھے چھپی ہوئی تباہی نہ دیکھی تو آنے والی نسلیں ہم سے ضرور پوچھیں گی:جب ملک کا مستقبل ڈوب رہا تھا، تم لوگ کیا کررہے تھے؟

تازہ ترین