• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہماری بڑی آبادی، لسانی شناخت اور مخصوص جغرافیائی علاقوں کی بنیاد پر کراچی کو الگ صوبہ بنایا جائے تو کیا یہ مطالبہ صرف آبادی کے تناسب کی بنیاد پر تسلیم کیا جاسکتا ہے؟اگر ہاں، تو پھر صوبائی حدود کی بنیاد تاریخ اور آئین ہوں گے یا ہر بڑی لسانی آبادی اپنے لیے ایک نئی صوبائی اکائی کا مطالبہ کرسکے گی؟اگر لسانی اکثریت کو صوبہ بنانے کی بنیاد مان لیا جائے تو کسی بھی صوبے کی تاریخی وحدت مستقل نہیں رہے گی۔ آج کراچی، کل کوئی دوسرا شہر اور پھر کسی اور صوبے کا کوئی علاقہ اسی اصول پر نئی شناخت کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ یوں انتظامی اصلاح کے نام پر صوبائی سیاست لسانی تقسیم کا شکار ہوسکتی ہے۔

پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور تاریخی شناختوں کا ملک ہے۔ اس کی طاقت اس تنوع کو ختم کرنے میں نہیں بلکہ اسے ایک آئینی وفاق کے اندر محفوظ رکھنے میں ہے۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا تاریخی اکائیاں ہیں، جن کی شناخت صدیوں کے تہذیبی سفر، زبان، ثقافت اور جغرافیے سے تشکیل پائی ہے۔ اسلئے کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی صرف آبادی کے اعداد یا وقتی سیاسی ضرورت کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئے۔سندھ کیلئے یہ معاملہ مزید حساس ہے۔ کراچی سندھ کی تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی وحدت کا حصہ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی ملک کا معاشی مرکز بنا اور مختلف علاقوں سے لوگ یہاں آباد ہوئے۔ لیکن کسی شہر میں مختلف قومیتوں اور زبانوں کے لوگوں کی موجودگی اس شہر کی تاریخی صوبائی شناخت کو تبدیل نہیں کرتی۔ اگر کراچی کی کسی لسانی آبادی کی تعداد کو الگ صوبے کا جواز مان لیا جائے تو یہی اصول دوسری آبادیوں کیلئے بھی استعمال ہوگا۔ پھر حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص یا کسی دوسرے شہر میں بھی مختلف گروہ اسی بنیاد پر نئی شناخت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ یوں صوبائی وحدتیں تاریخی اور آئینی بنیادوں کے بجائے مردم شماری کے ہر نئے عدد کے ساتھ تبدیل ہونے لگیں گی۔

سندھ ایک تاریخی وطن ہے، جس نے مختلف قوموں اور برادریوں کو اپنے اندر جگہ دی ہے۔ سندھ کی قوت اس کی تہذیبی وسعت اور برداشت میں ہے، لیکن برداشت کا مطلب اپنی تاریخی شناخت سے دستبرداری نہیں۔ سندھ پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی اور آئینی رشتے پر قائم ہے۔ سندھ سے وابستہ قومی سوچ کا مطلب پاکستان سے علیحدگی نہیں بلکہ پاکستان کے اندر سندھ کی شناخت، وسائل، حقوق اور سیاسی وقار کا تحفظ ہے۔

کراچی کے شہری مسائل حقیقی ہیں۔ پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، سڑکوں، نکاسی آب، صحت، تعلیم، کچرے اور مقامی حکومت کے مسائل نے شہر کو طویل عرصے سے متاثر کیا ہے۔ لیکن ان مسائل کا حل صوبائی سرحد تبدیل کرنا نہیں۔ اگر بلدیاتی ادارے کمزور ہیں تو انہیں بااختیار بنایا جائے، مالی وسائل کم ہیں تو مناسب وسائل دیے جائیں اور انتظامی اختیارات ضرورت سے زیادہ مرکز یا صوبے میں مرتکز ہیں تو انہیں قانون کے مطابق نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔کراچی کو بہتر حکمرانی چاہیے، نئی صوبائی سرحد نہیں۔ یہی اصول پاکستان کے دوسرے صوبوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ کسی علاقے میں انتظامی محرومی ہے تو اسے ترقی، اختیارات اور بہتر انتظام دیا جائے، لیکن ہر انتظامی مسئلے کا حل نیا صوبہ قرار دینا مستقبل میں بے شمار سیاسی مطالبات کو جنم دے سکتا ہے۔

پنجاب کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنے کی بحث بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ اگر ایک بڑے صوبے کو کئی صوبوں میں تقسیم کرکے ہر نئے صوبے کو سینیٹ میں مساوی نمائندگی حاصل ہوجاتی ہے تو ضروری نہیں کہ اس خطے کی وفاقی طاقت کم ہوجائے۔ ممکن ہے سیاسی طاقت سینیٹ میں مزید پھیل جائے۔ اس لیے صوبوں کی تعداد بڑھانے سے پہلے سینیٹ کے کردار اور وفاقی توازن پر سنجیدہ غور ضروری ہے۔

سینیٹ کا وجود ہی اس اصول پر قائم ہے کہ پاکستان کی تمام وفاقی اکائیاں برابر سیاسی وقار رکھتی ہیں۔ قومی اسمبلی میں آبادی کا اصول اپنی جگہ، لیکن سینیٹ میں صوبائی مساوات وفاقی معاہدے کی بنیاد ہے۔ اگر ہر لسانی گروہ کی آبادی کو صوبہ بنانے کا جواز تسلیم کیا گیا تو نئی صوبائی اکائیاں وفاقی طاقت کے توازن کو بھی متاثر کریں گی۔ اس لیے صوبوں کے قیام کا سوال صرف انتظامی نہیں بلکہ وفاقی طاقت کے توازن کا سوال ہے۔

ہمیں ایسا پاکستان نہیں چاہیے جہاں ہر لسانی اکثریت اپنی الگ صوبائی شناخت کا مطالبہ لے کر کھڑی ہو۔ ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں پشتون اپنی پشتون شناخت کے ساتھ پاکستانی ہو، سندھی اپنی سندھی شناخت کے ساتھ پاکستانی ہو، بلوچ اپنی بلوچ شناخت کے ساتھ پاکستانی ہو اور پنجابی اپنی پنجابی شناخت کے ساتھ پاکستانی ہو۔ قومی اتحاد کا مطلب شناخت مٹانا نہیں بلکہ شناختوں کو آئینی برابری دینا ہے۔سندھ کی تقسیم کا سوال اس اصول کا سوال ہے کہ پاکستان کی تاریخی اکائیاں کس بنیاد پر قائم رہیں گی۔ اگر آج آبادی کے تناسب کو تاریخی وحدت سے بالاتر کردیا گیا تو کل کوئی بھی صوبہ محفوظ نہیں رہے گا اور ہر مردم شماری نئی سیاسی حد بندی کا جواز بن سکتی ہے۔

سندھ کسی شہری کو باہر نکالنے کی بات نہیں کرتا۔ سندھ میں رہنے والا ہر پاکستانی سندھ کا شہری ہے اور اسے برابر عزت ملنی چاہیے۔ کراچی میں رہنے والے پشتون، اردو بولنے والے، بلوچ، پنجابی، سرائیکی اور دیگر پاکستانی سب سندھ کے شہری ہیں۔ ان سب کے حقوق محفوظ رہنے چاہئیں، مگر سندھ کی جغرافیائی اور تاریخی وحدت بھی برقرار رہنی چاہیے۔

پاکستان کو نئی تقسیموں سے زیادہ مضبوط اداروں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے بلدیاتی ادارے چاہئیں جو کراچی کے شہری مسائل حل کرسکیں، ایسی صوبائی حکومت چاہیے جو تمام شہریوں کو برابر سمجھے اور ایسا وفاق چاہیے جو تمام اکائیوں کے حقوق کا محافظ ہو۔ شہری حقوق برابر ہوں، شناختوں کا احترام برابر ہو، مگر تاریخی صوبائی وحدتیں محض لسانی اکثریت کے اعداد سے تبدیل نہیں ہوسکتیں۔

کراچی سندھ کا تاریخی شہر ہے اور سندھ پاکستان کی ایک تاریخی وفاقی اکائی ہے۔ کراچی کے ہر شہری کو برابر حقوق دینا پاکستان کو مضبوط کرے گا، لیکن سندھ کی تقسیم پاکستان کے وفاقی توازن کو مضبوط نہیں کرے گی۔ ہمیں ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو لوگوں کو حقوق دے، مگر زمینوں کو لسانی بنیادوں پر تقسیم نہ کرے۔ یہی سندھ کے مفاد میں ہے، یہی پاکستان کے مفاد میں ہے اور یہی ایک مضبوط وفاق کی ضمانت ہے۔

تازہ ترین