• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہذیبیں نہ تو محض اتفاق سے عروج پاتی ہیں اور نہ ہی صرف اسلئے زوال پذیر ہوتی ہیں کہ انکی دولت کم ہو جائے یا ان کی افواج کوئی جنگ ہار جائیں۔ مادی زوال کے آثار نمایاں ہونے سے بہت پہلے انکے باطن میں ایک گہری کمزوری جنم لینے لگتی ہے: یہ کمزوری اس شعور کی ہوتی ہے کہ وہ کون ہیں، کیوں وجود رکھتی ہیں اور اپنے اجتماعی مقصد کی تکمیل کیلئے انہیں خود کو کیسے منظم کرنا ہے۔کسی تہذیب کی صحت کو تین بنیادی سوالات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے: ہم کون ہیں؟ یہ شناخت کا سوال ہے۔ ہم کیوں موجود ہیں؟ یہ مقصد کا سوال ہے۔ ہم اس مقصد کو کیسے حاصل کرینگے؟ یہ حکمرانی کا سوال ہے۔جب ان سوالات کے جوابات واضح، باہم مربوط اور معاشرے میں وسیع پیمانے پر مشترک ہوں تو تہذیبوں میں تخلیق کا اعتماد، تنظیم کا نظم اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ جوابات مبہم ہو جائیں تو زوال کا آغاز ہو جاتا ہے۔کوئی معاشرہ دولت، ٹیکنالوجی اور فوجی طاقت رکھنے کے باوجود محض افراد کا ایک مجموعہ ہو سکتا ہے۔ وہ اس وقت تہذیب بنتا ہے جب ایک بلند تر اجتماعی شناخت اور مشترکہ اخلاقی تصور کو جنم دیتا ہے۔ یعنی انسانی وقار، انصاف، علم، ذمہ داری اور اس مستقبل کے بارے میں ایک مشترک فہم جو وہ تنگ اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ شناخت اس اخلاقی تصور کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ یہ ان سوالات کا جواب دیتی ہے:ہم کون ہیں؟ کون سی اقدار ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں؟ اپنے ورثے کی کس حکمت کو ہمیں محفوظ رکھنا ہے؟ اور وہ کون سی خصوصیات ہیں جو دوسروں سے دشمنی پیدا کیے بغیر ہمیں ممتاز بناتی ہیں؟مقصد سمت متعین کرنے والا قطب نما ہے۔ یہ سوال اٹھاتا ہے: ہمارا اجتماعی وجود کس لئے ہے؟ ہمیں انسانیت کی فلاح میں کیا حصہ ڈالنا ہے؟ اور ہم کس مستقبل کی تعمیر کے لیے محنت اور قربانی دینے کو تیار ہیں؟حکمرانی شناخت اور مقصد کو عمل میں ڈھالتی ہے۔ یہی طے کرتی ہے کہ آیا نظریات اداروں کی صورت اختیار کرتے ہیں، صلاحیت کو صلہ ملتا ہے، انصاف سب کیلئے قابلِ رسائی ہوتا ہے، علم کی آبیاری کی جاتی ہے اور قومی وسائل مشترکہ بھلائی کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ مقصد سے محروم شناخت ماضی پرستی، نسلی و لسانی عصبیت، قبائلیت یا تبدیلی کی مخالفت میں ڈھل سکتی ہے۔ ایسی شناخت ماضی کے کارناموں پر فخر تو کرتی ہے مگر نئے کارنامے تخلیق نہیں کر سکتی لیکن جب شناخت، مقصد اور حکمرانی مربوط ہو کر ایک دوسرے کو تقویت دیں تو وہ تہذیبی حرکت اور قوت پیدا کرتے ہیں۔ شناخت اعتماد دیتی ہے۔ مقصد سمت فراہم کرتا ہے۔ اقدار نظم پیدا کرتی ہیں۔ علم صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اور ادارے اس صلاحیت کو پائیدار قومی طاقت میں ڈھالتے ہیں۔ اس تعلق کی سب سے گہری مثال اسلامی تہذیب کا عروج ہے۔اسلام نے منتشر اور باہم برسرِپیکار قبائل کو توحید کی بنیاد پر ایک امت میں تبدیل کر دیا۔ توحید نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کیساتھ انسانیت کی اخلاقی وحدت کا شعور بھی دیا۔اسلام نے ابھرتی ہوئی تہذیب کو ایک مقصد بھی عطا کیا: معاشرتی و سماجی انصاف کا قیام، علم کی جستجو، انسانی وقار کا تحفظ، زمین کی تعمیر اور انسانیت کی خدمت۔ انسان کو زمین پر ذمہ دار نائب اور امین بنایا گیا، بے لگام استحصال کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اقتدار ایک مقدس امانت قرار پایا، دولت کے ساتھ سماجی ذمہ داریاں وابستہ ہوئیں اور علم کا حصول ایک عظیم فریضہ بن گیا۔ اس مقصد نے ایک غیرمعمولی علمی بیداری کو جنم دیا۔ مسلمانوں نے سوال اٹھائے، تجربے کیے اور نئے علوم تخلیق کیے۔ ریاضی، فلکیات، طب، بصریات، کیمیا، طبیعیات، جغرافیہ، قانون، فنِ تعمیر اور تجارت میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ بغداد، قرطبہ، غرناطہ، قاہرہ، دمشق اور بخارا علم و تحقیق کے عظیم مراکز بن گئے۔ علم ایمان سے الگ نہیں تھا، بلکہ اس تصورِ حیات سے پھوٹتا تھا جو غوروفکر، تدبر اور تحقیق کو قرآنی فریضہ سمجھتا تھا۔ ہسپتالوں، کتب خانوں، رصدگاہوں، جامعات، منڈیوں اور فلاحی اوقاف نے اس وسیع اخلاقی مقصد کو ادارہ جاتی شکل دی۔ زوال اس وقت شروع ہوا جب سیاسی اقتدار منتشر ہوا، بلند تر اجتماعی شناخت کمزور پڑی اور قبائلی و فرقہ وارانہ تقسیم گہری ہوتی گئی۔ فکری تحقیق کا دائرہ سکڑ گیا اور ادارے جمود کا شکار ہو گئے۔ ورثے میں ملنے والا علم مزید تحقیق اور دریافت کی بنیاد بننے کے بجائے محض عقیدت کی ایک شے بن گیا۔ مسلمان ماضی کے کارناموں پر فخر تو کرتے رہے، مگر تجسس، جرأت اور ادارہ سازی کی وہ روح دوبارہ پیدا نہ کر سکے جس نے ان کارناموں کو ممکن بنایا تھا۔ علامہ محمد اقبال نے اس تہذیبی بحران کو اکثر مفکرین سے زیادہ گہرائی کیساتھ سمجھا۔ ان کا تصورِ خودی انا یا خودنمائی کی دعوت نہیں، بلکہ شعور کی پکار تھا؛ اپنی عزت، صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی ذمہ داری کے ادراک کا نام۔ اقبال کے نزدیک تجدید کا آغاز اپنی حقیقی شناخت کی بازیافت سے ہوتا ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

انہوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ وہ کسی دوسری تہذیب کے پیمانوں سے خود کو نہ پرکھیں:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

اقبال نہ مغرب سے لاتعلقی چاہتے تھے اور نہ جدید علم کو مسترد کرتے تھے۔ ان کا انتباہ فکری غلامی اور تہذیبی نقالی کے خلاف تھا۔ ان کا پیغام تھا کہ ہر تہذیب سے علم حاصل کرو، لیکن اپنے آپ کو دیکھنے کے لیے دوسروں کی آنکھیں مستعار نہ لو۔ کوئی تہذیب مشینیں تو درآمد کر سکتی ہے، اپنی روح نہیں۔

انہوں نے مسلم نوجوان کو تاریخ میں اپنا مقام دوبارہ دریافت کرنے کے لیے جھنجھوڑا:

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

یہ محض کھوئی ہوئی عظمت کا نوحہ نہیں، بلکہ خود احتسابی کا مطالبہ ہے۔ اقبال نوجوان مسلمان سے کہتے ہیں کہ وہ اس فکری اور اخلاقی کائنات کو سمجھے جس سے اس کا تعلق ہے، اور اپنی وراثتی صلاحیت اور موجودہ کارکردگی کے درمیان فاصلے کو پہچانے۔

لیکن شناخت صرف آغاز ہے۔ اقبال تہذیبی مقصد بھی متعین کرتے ہیں:

یہ نکتہ سرگزشتِ ملتِ بیضا سے ہے پیدا

کہ اقوامِ زمینِ ایشیا کا پاسباں تو ہے

یہ پیغام غلبے کا نہیں بلکہ قیادت اور ذمہ داری کا ہے۔ اپنے اخلاقی ورثے کا شعور رکھنے والی قوم کو انسانی وقار، عدل اور آزادی کی محافظ بننا چاہیے۔ پاکستان کا مقصد محض اپنی سرحدوں کا دفاع یا قومی آمدنی میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔ اسے اپنے خطے میں استحکام، علم، مواقع اور تعاون کا ذریعہ، اور عالمی سطح پر انصاف کی ایک تعمیری آواز بننا ہے۔اسکے بعد اقبال ’’کیسے‘‘ کا جواب دیتے ہیںیعنی ان اقدار کی نشان دہی کرتے ہیں جن کے ذریعے تہذیبی قیادت کا مقام حاصل کیا جا سکتا ہے:

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

(جاری ہے)

تازہ ترین