دنیا خاموشی سے ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں قوموں کی معاشی طاقت کا فیصلہ صرف جغرافیہ، قدرتی وسائل اور صنعتی پیداوار سے نہیں ہوتا۔ ایک نئی سرحد وجود میں آ چکی ہے ڈیجیٹل بارڈر۔ یہاں دولت زمین کے اندر نہیں، انسان کے ذہن میں ہےاور برآمدات کنٹینروں میں نہیں، ڈیٹا کے بہاؤ میں سفر کرتی ہیں۔پاکستان کیلئے اس بدلتی دنیا میں ایک امید افزا حقیقت سامنے آئی ہے۔ مالی سال 2025ءمیں ہماری آئی ٹی برآمدات تقریباً 3.8 ارب ڈالر تک پہنچیں، اور رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں یہ 3.2ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جبکہ ٹیک فری لانسرز کی آمدن 856.3ملین ڈالر رہی(اسٹیٹ بینک آف پاکستان) ۔
یہ اعداد اس نوجوان پاکستان کی صلاحیت کا اظہار ہیں جو دنیا کی منڈی میں اپنی ذہانت بیچ رہا ہے۔مگر عالمی منظرنامہ ہمیں اصل مقام دکھاتا ہے۔ بھارت کی آئی ٹی برآمدات 224 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ فلپائن، کبھی محض کال سینٹرز کا ملک، اب چالیس ارب ڈالر کما رہا ہے۔ یوکرین جیسا جنگ زدہ ملک بھی بلیک آؤٹس کے سائے میں آٹھ ارب ڈالر کے قریب آئی ٹی برآمدات حاصل کر رہا ہے۔ امریکا میں ستر لاکھ سے زائد فری لانسرز ڈیڑھ کھرب ڈالر کما رہے ہیں، اور برطانیہ میں تنہا فری لانس کارکن معیشت میں سینکڑوں ارب پاؤنڈ کا حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ مقابلہ کتنا شدید اور حقیقی ہے۔اس کہانی کا سب سے اہم کردار وہ نوجوان ہے جس کے پاس نہ کوئی صنعتی یونٹ ہے، نہ سرمایہ کاری کا نیٹ ورک صرف ایک کمپیوٹر، ایک انٹرنیٹ کنکشن اور ایک ہنر۔ وہ لاہور، کراچی، اسلام آباد یا کسی دور دراز شہر میں بیٹھ کر لندن، نیویارک یا دبئی کے کلائنٹ کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہی پاکستان کی نئی معاشی حقیقت ہے۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس حقیقت سے کتنا فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ہماری کمزوری یہ نہیں کہ نوجوان باصلاحیت نہیں، کمزوری یہ ہے کہ ہم ان کی صلاحیت کو مربوط قومی حکمتِ عملی میں تبدیل نہیں کر سکے۔ بھارت نے یہ پالیسی سے کیا، فلپائن نے تربیت سے، یوکرین نے بحران میں بھی سرمایہ کاری جاری رکھ کر۔ ہمیں بھی یہی راستہ چننا ہوگا۔دنیا کی ڈیجیٹل معیشت اب معمولی کاموں سے آگے نکل چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس وہ میدان ہیں جہاں آنے والے برسوں کی اصل قدر پیدا ہوگی۔ پاکستان اگر صرف کم اجرت والی خدمات کا مرکز بن کر رہ گیا تو ترقی کی رفتار محدود رہے گی۔ ہمیں نوجوان کو سستا کارکن نہیں، اعلیٰ قدر پیدا کرنے والا عالمی پیشہ ور بنانا ہوگا۔یہ تبدیلی صرف نوجوان کے ذمے نہیں چھوڑی جا سکتی۔ ریاست کو ڈیجیٹل کاروبار کے بنیادی مسائل حل کرنا ہوں گے۔سب سے اہم مسئلہ عالمی ادائیگیوں کا ہے۔ اگر ادائیگی کا نظام پیچیدہ، مہنگا یا غیر یقینی ہو تو عالمی منڈی میں مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو قانونی، شفاف اور آسان ہو۔دوسرا مسئلہ انٹرنیٹ کا ہے۔ اب انٹرنیٹ محض رابطے کا ذریعہ نہیں، معاشی بنیادی ڈھانچہ ہے۔ جس طرح صنعت کیلئے بجلی ضروری ہے، ڈیجیٹل معیشت کیلئے مسلسل اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ ضروری ہے۔ ایک آن لائن کارکن کیلئے رابطہ منقطع ہونا کبھی پورا معاہدہ کھو دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ پاکستان میں براڈ بینڈ صارفین کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہے یہ اب کسی محدود طبقے کی سرگرمی نہیں، ہماری معیشت کا باقاعدہ حصہ ہے (وزارتِ خزانہ، پاکستان)۔
تیسرا مسئلہ تربیت کا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ جامعات ڈگریاں تقسیم کر رہی ہیں یا عالمی معیشت کے لیے انسانی سرمایہ تیار کر رہی ہیں۔ سرٹیفکیٹ روزگار نہیں دیتابلکہ قابلِ فروخت مہارت دیتی ہے۔ ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو صرف پروگرامنگ نہ سکھائے بلکہ عالمی معیار، پیشہ ورانہ اخلاق، زبان اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات سے بھی روشناس کرائے۔چوتھی ضرورت یہ ہے کہ فری لانسر کو محض ایک فرد کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ ایک کامیاب فری لانسر کل ایک چھوٹی کمپنی بنا سکتا ہے، پانچ نوجوانوں کو روزگار دے سکتا ہے، پھر دس کو، پھر پچاس کو۔ یوں ایک فرد کی محنت ادارے میں اور برآمدی آمدن ایک مستقل کاروباری سلسلے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ’میں‘ سے ’ہم‘ کا سفر شروع ہوتا ہے۔حکومت کا کام ہر نوجوان کو ملازمت دینا نہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ جو دنیا کے لیے کام کرنا چاہتا ہے، اس کے راستے میں غیر ضروری رکاوٹیں نہ ہوں۔ ہمیں فری لانسر کو رعایت کا محتاج نہیں، موقع کا مستحق سمجھنا ہوگااسے خیرات نہیں، سہولت چاہیے۔اسے وعدے نہیں، مستحکم انٹرنیٹ چاہیے۔اسے پیچیدہ نظام نہیں، آسان بینکاری چاہیے۔اسے صرف سرٹیفکیٹ نہیں، عالمی معیار کی مہارت چاہیے۔اور سب سے بڑھ کر اسے ایک ایسی ریاست چاہیے جو اس کی محنت پر اعتماد کرے۔پاکستان کے پاس بڑی نوجوان آبادی ہے، دنیا سے جڑنے کی صلاحیت ہے اور ایک ایسا شعبہ ہے جس میں برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع کو وقتی کامیابی سمجھیں گے یا قومی معاشی پالیسی کا مستقل ستون بنائیں گے؟ڈیجیٹل دنیا میں سرحدیں ختم نہیں ہوئیں، ان کی نوعیت بدل گئی ہے۔ اب مقابلہ اس بات کا ہے کہ کس ملک کے نوجوان زیادہ قدر پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے نوجوان کے ہنر کو تعلیم، ٹیکنالوجی، بینکاری اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کے ساتھ جوڑ دیا تو آج کا فری لانسر کل ایک برآمدی ادارہ بن سکتا ہے، آج کی چھوٹی ٹیم کل عالمی کمپنی بن سکتی ہے۔پھر یہ صرف کسی ایک نوجوان کی کامیابی نہیں ہوگی، یہ پاکستان کی کامیابی ہوگی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ’میں‘ ختم نہیں ہوتا، ’ہم‘ بن جاتا ہے۔