میں نے کئی دہائیوں تک پاکستان کو قریب اور دور سے دیکھا ہے، اور ایک بات ہمیشہ میرے ذہن میں رہی ہے:ہم اپنا مستقبل معیشت، سیاست، آئینی معاملات اور سلامتی میں تلاش کرتے ہیں، اور بجا طور پر کرتے ہیں۔ مگر قوم سازی کا ایک پہلو ایسا ہے جسے ہم مسلسل نظر انداز کرتے آئے ہیں وہ ہے زبان۔ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں۔ یہ وہ وسیلہ ہے جسکے ذریعے ایک تہذیب اپنی یادداشت محفوظ رکھتی ہے، ایک معاشرہ اپنی اقدار آگے منتقل کرتا ہے، اور ایک قوم اجتماعی شعور تشکیل دیتی ہے۔دنیا پر ایک نظر ڈالیں۔ چین، جاپان، روس، فرانس، جرمنی، ترکی اور جنوبی کوریا انتہائی مختلف معاشرے ہیں، مگر ایک بات میں مشترک ہیں:انہوں نے اپنی لسانی شناخت پر سمجھوتہ کئے بغیر جدت اختیار کی۔ہم لسانی اعتبار سے یکساں قوم نہیں،تاہم اردو آزادی کے پہلے دن سے پاکستان کی قومی زبان ہے، ایک ایسا مقام جو عددی اکثریت سے نہیں بلکہ قومی اتفاقِ رائے اور آئینی حیثیت سے حاصل ہوا ہے۔
ملک کے ابتدائی برسوں میں بنگالی زبان کا تنازع مشرقی پاکستان کی بیگانگی میں ایک عنصر بن گیا۔ تاہم یہ کہنا سادہ لوحی ہوگی کہ صرف زبان اس شگاف کا سبب بنی؛ سیاسی اخراج اور نمائندگی سے محرومی کہیں زیادہ گہرے عوامل تھے۔ ہمیں اپنی مادری زبانوں اور قومی زبان اردو کے درمیان یا اردو اور انگریزی کے درمیان انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں تینوں کی ضرورت ہے۔ اردو کو بطور رابطہ زبان جلد متعارف کرایا جائے، اور انگریزی کو دنیا کی جانب اپنی کھڑکی کے طور پر مناسب طریقے سے پڑھایا جائے۔ اصل مسئلہ کہیں اور ہے۔ ہم نے ایک ایسا درجہ بندی نظام تشکیل دیا ہے جس میں انگریزی طاقت کی علامت بن چکی ہے، ہم اکثر انگریزی کی روانی کو ذہانت سمجھ بیٹھتے ہیں، بہت سے پاکستانی والدین اپنے بچوں کو بولنا سیکھتے ہی انگریزی سکھانے میں مگن ہو جاتے ہیں، اور بعض اوقات اس بچے پر زیادہ فخر کرتے ہیں جو انگریزی میں گفتگو کر سکے۔ اسکے پیچھے کارفرما نفسیات قابلِ فہم ہے مگر بہت کچھ آشکار بھی کرتی ہے:انگریزی کا تعلق بہتر اسکولوں، بہتر ملازمتوں، سماجی ترقی، شائستگی اور اشرافیہ میں قبولیت سے جوڑا جاتا ہے۔ والدین انگریزی کو محض ایک زبان نہیں بلکہ اپنے بچے کے مستقبل کی ضمانت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مگر اس فائدے کے تعاقب میں ہم غیر ارادی طور پر بچوں کو ایک اور سبق بھی سکھا دیتے ہیں کہ انگریزی وقار رکھتی ہے جبکہ انکی اپنی زبان کم تر ہے۔ یہ درجہ بندی زیادہ تر غلامی کے دور کی وراثت ہے اور ہماری نفسیات میں گھر کر چکی ہے:یہ خاموش خوف کہ انگریزی کے بغیر ہمیں پہچانا یا سنجیدگی سے نہیں لیا جائیگا۔ کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی جیسے فٹبالر، جو ہر پیمانے پر عالمی سپر اسٹار ہیں، پرتگالی اور ہسپانوی میں انٹرویو دیتے ہیں، اپنی ہی زبانوں میں، اور کوئی بھی اس پر انکے مقام کو مشکوک نہیں سمجھتا۔ چین نے صنعتی ترقی سے پہلے کروڑوں شہریوں کو انگریزی نہیں سکھائی۔ جاپان نے ٹویوٹا اور سونی جاپانی زبان کو ترک کیے بغیر تعمیر کیے۔ ان قوموں نے جدید علم اپنی ہی زبانوں میں منتقل کیا، اور پاکستان کو بالآخر یہی کرنا ہوگا۔ اردو کو نہ صرف شاعری بلکہ معیشت، انجینئرنگ، طب اور عوامی پالیسی جیسے موضوعات کو بھی سمیٹنے کے قابل بنانا ہوگا۔ بیس برس پہلے یہ کام ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا ہوتا، مگر آج ترجمے کی ٹیکنالوجی اور لینگویج ماڈلز اسے حقیقی رفتار سے ممکن بناسکتے ہیں۔ یہاں ایک جمہوری سوال بھی پوشیدہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 251 میں یہ منصوبہ بندی کی گئی تھی کہ اردو کا سرکاری استعمال آئین کے نفاذ کے پندرہ برس کے اندر ریاست بھر میں یقینی بنایا جائیگا، جبکہ صوبوں کو اپنی اپنی زبانوں کے فروغ کی اجازت بھی ہوگی۔ وہ مقررہ مدت کب کی ختم ہو چکی، مگر سرکاری فائلیں اور بیشتر سرکاری امور آج بھی بڑی حد تک انگریزی پر انحصار کرتے ہیں۔ اور پھر سب سے نمایاں علامت۔ جب کوئی پاکستانی رہنما اقوامِ متحدہ سے خطاب کرے، تو اردو زبان کیوں نہ سنی جائے، جبکہ ترجمے کی سہولت ہر دوسری خودمختار قوم کی طرح میسر ہو؟ یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ پاکستان کو اپنی توثیق کیلئے انگریزی کی ضرورت نہیں، اور یہ منظر ہر پاکستانی کو یہ پیغام دیگا:تمہاری زبان باوقار ہے، تمہاری شناخت کی قدر ہے۔ مگر یہ دلیل تب ہی کارگر ہوگی جب اسے ایمانداری سے برتا جائے۔
اردو کو مرکزیت کا ہتھیار نہیں بننا چاہئے۔ اگر اسلام آباد نے ہر علاقائی زبان پر اردو مسلط کرنے کی کوشش کی، تو اس سے ہم آہنگی کے بجائے ناراضی جنم لے گی، اور یہ اسی غلطی کا اعادہ ہوگا جسے یہ دلیل حل کرنا چاہتی ہے۔ قومی اتحاد کا حکم نہیں دیا جا سکتا؛ اسے رضامندی سے کمانا پڑتا ہے، اور اسی دوران صوبوں کو اپنی اپنی زبانوں میں سرمایہ کاری بھی کرنی چاہئے۔ کسی سندھی بچے کو کبھی سندھی کو قربان کر کے پاکستانی بننے کی ضرورت نہ پڑے، اور نہ کسی پختون کو حبِ الوطنی ثابت کرنے کیلئے پشتو کو کم تر جاننا پڑےبہت سے پاکستانیوں سے پوچھیں کہ وہ کہاں سے ہیں، تو فطری جواب اکثر کسی شہر، صوبے یا نسل کا نام ہوتا ہے۔ اس میں کوئی خرابی نہیں؛ ہم سب متعدد شناختیں رکھتے ہیں۔ خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب چھوٹی شناخت جذباتی طور پر بڑی شناخت سے زیادہ مضبوط ہو جائے۔ پاکستان کو پنجابی پاکستانیوں، سندھی پاکستانیوں، پختون پاکستانیوں، بلوچ پاکستانیوں اور سرائیکی پاکستانیوں کی ضرورت ہے، مگر ایک لفظ کو سب سے زیادہ وزن اٹھانا چاہئے۔ پاکستانی۔ پاکستان کو ایک نئے لسانی معاہدے کی بھی ضرورت ہے: شناخت کیلئے مادری زبان، یکجہتی کیلئے اردو، مسابقت کیلئے انگریزی، اور کوئی بھی دوسری کیلئے خطرہ نہ بنے۔ جن ممالک کو ہم قابلِ رشک سمجھتے ہیں انہوں نے ایک سادہ سی بات سمجھ لی تھی: جدیدیت ثقافتی ہتھیار ڈالنے کی متقاضی نہیں، اور خودمختاری صرف علاقے اور اداروں پر کنٹرول کا نام نہیں۔ ایک فکری اور نفسیاتی خودمختاری بھی ہوتی ہے۔ اپنے ہی لوگوں کے سامنے، اور دنیا کےسامنے کھڑے ہو کر اپنی ہی آواز میں بات کرنیکا اعتماد۔ پاکستان کے پاس یہ آواز پہلے سے موجود ہے۔ آزادی کے قریب آٹھ دہائیوں بعد بھی جو چیز ادھوری ہے، وہ اسے استعمال کرنے کا اعتماد ہے۔