سانحہ پمز پر انتظامیہ کی جانب سے اسپتال کے 6 افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے، جواب جمع کروانے کےلیے 14 دن کی مہلت دے دی گئی ہے۔
پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کے خلاف چارج شیٹ جاری کردی گئی ہے جس میں ڈاکٹر رانا عمران سکندر پر فائر سیفٹی اور انتظامی نگرانی میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
چارج شیٹ کے مطابق 6 جولائی کے نرسنگ ہاسٹل فائر حادثہ کے بعد اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔
چارج شیٹ میں ڈاکٹر رانا عمران سکندر پر بیک وقت کلینیکل اور انتظامی عہدے رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ اس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی اور ترقی میں قواعد کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
چارج شیٹ میں ایمرجنسی فنڈز کے باوجود عارضی حفاظتی اقدامات نہ کرنےکا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
چارج شیٹ میں 6 جولائی کے فائر واقعے کے بعد متعلقہ اداروں سے مؤثر رابطہ نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نگہام نواز پر حادثے کی رات نیو نیٹولوجی یونٹ میں موجود نہ رہنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، ان کی غیر حاضری کو انتظامی غفلت قرار دیا گیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سعدیہ ریاض پر نیو نیٹولوجی یونٹ میں عملے کی دستیابی اور نگرانی میں ناکامی کا الزام ہے۔
چارج شیٹ کے مطابق محمد عثمان کے خلاف فائر سیفٹی اور سیکیورٹی انتظامات میں ناکامی کا الزام ہے، ان پر 26 اگست کو بغیر منظور شدہ اسٹیشن لیو پر پمز سے غیر حاضر رہنے کا بھی الزام عائد ہے۔
علاوہ ازیں محمد عثمان پر فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی راستوں اور سیکیورٹی عملے کی تربیت یقینی نہ بنانے کا بھی الزام ہے جبکہ جولائی فائر انکوائری کا رکن ہونے کے باوجود اصلاحی اقدامات نہ کرنے کا بھی الزام ہے۔
جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر وارث علی رضا کے خلاف بھی چارج شیٹ جاری کردی گئی ہے۔ ان پر پر سیکیورٹی، انجینئرنگ، مینٹیننس اور فائر سیفٹی کی نگرانی میں ناکامی کا الزام ہے۔
وارث علی رضا پر حفاظتی خامیوں کی بروقت اصلاح کےلیے متعلقہ شعبوں سے رابطہ نہ کرنے کا الزام ہے۔
تمام افسران کو تحریری جواب جمع کروانے کےلیے 14 روز کی مہلت دے دی گئی ہے۔ چارج شیٹ میں ملازمت سے برطرفی سمیت بڑی سزاؤں کی گنجائش کا ذکر ہے۔