• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں ہر سال29 ستمبر کو’’دل کا عالمی دن ‘‘ایک تھیم کے تحت منایا جاتا ہے ،جس کا مقصد لوگوں کو دل کی صحت اور اس کی دیکھ بھال کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد یہ سمجھانا ہے کہ دل کی صحت کسی خاص عمر، جنس یا طبقے کا مسئلہ نہیں۔ بچپن سے بڑھاپے تک ہر شخص کی روزمّرہ زندگی کے معمولات اس کے دل کے مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور ورلڈ ہارٹ فیڈریشن (WHF) کے مطابق دل کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں، جس کے باعث سالانہ 2 کروڑ سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

عالمی سطح پر بالخصوص پاکستان جیسے درمیانی اور کم آمدنی والے ممالک پر اس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے، جہاں صحت کی سہولتوں کی کمی اور ناخواندگی کی وجہ سے یہ بیماریاں ایک خاموش وبا کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ عالمی مہم ’’Don’t Miss a Beat‘‘کے تحت اس سال کابنیادی تھیم ’’Use Heart for Action‘‘(دل کا استعمال، عمل کے لیے کریں) مقرر کیا گیاہے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں دل کی بیماریوں کا بوجھ تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ خون کی شریانوں کی تنگی یعنی اسکیمک ہارٹ ڈیزیز (Ischemic Heart Disease) ملک میں اموات کی بڑی وجوہ میں شامل ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ شریانوں کی بیماری اور دل کی دیگر پیچیدگیوں میں مبتلا ہے۔مردوں میں اس بیماری کا تناسب نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 26 سے 30 فی صد بالغ مرد دل کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ ان میں تمباکو نوشی، ذہنی تناؤ اور غیر متوازن طرزِ زندگی اہم اسباب ہیں۔دوسری جانب خواتین میں بھی امراض ِقلب کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ، تقریباً 18 سے 22 فی صد خواتین ان کا شکا ر ہیں۔

واضح رہے ،ان میں ہارٹ اٹیک کی علامات اکثر روایتی نہیں ہوتیں اوان میں رشوگر کی بڑھتی ہوئی شرح کے سبب بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہونا جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں نو عمر اور جوان نسل میں بھی مائیوکارڈیل انفارکشن (Myocardial Infarction) اور دل کے دورے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ 40 سال سے کم عمر افراد میں فاسٹ فوڈز کا استعمال، جسمانی تحّرک کی کمی اور سگریٹ یا شیشہ نوشی کی وجہ سے شریانوں کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

یوں بھی دل کی بیماری اکثر اس وقت سامنے آتی ہے، جب مرض کافی آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ اسی لیے ہمیں بیماری کی علامات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ بلڈ پریشر، ذیابطیس، کولیسٹرول کی زیادتی، زیادہ وزن، کمر کےگھیر، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمی اور خوراک جیسے عوامل کو باقاعدگی سے دیکھنا چاہیے ،کیوں کہ یہ دل کی بیماری سے بچاؤ کا بنیادی حصّہ ہیں۔

دل کی اہمیت

د ل، جسم کا مرکزی پمپ ہے۔ یہ خون کو مسلسل پورے جسم میں پہنچاتا رہتاہے، تاکہ دماغ، گردوں، پھیپھڑوں، جگر، پٹّھوں اور دوسرے تمام اعضاء کو آکسیجن اور ضروری غذائی اجزاء ملتے رہیں۔ اسی نظام کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں سے فاضل مادّے بھی خارج ہونے کے عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے دل کی صحت کو صرف دل تک محدود سمجھنا بنیادی غلطی ہے۔

جب دل یا خون کی شریانوں کا نظام متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے جسم پر مرتب ہوتے ہیں۔ دل کی کم زور کارکردگی دماغ تک خون کی فراہمی کا عمل متاثر کر سکتی ہے، گردوں کے افعال پر اثر ڈال سکتی ہے اور جسمانی سرگرمی کی صلاحیت کم کر سکتی ہے۔ اسی طرح گردوں، ذیابطیس، بلند فشار خون اور دیگر دائمی بیماریوں کا دل پر بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔اس اعتبار سے دل کی حفاظت دراصل پورے جسم کی حفاظت ہے۔

امراض ِقلب

دل کی بیماریوں میں دل کے پٹّھوں، والوز، برقی نظام یا شریانوں کی مختلف بیماریاں شامل ہیں، جب کہ قلبی و عروقی بیماریوں میں خون کی نالیوں سے متعلق بیماریاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ ان میں کورونری ہارٹ ڈیزیز،، ہارٹ اٹیک (Heart Attack)، فالج (Stroke)، پیریفرل آرٹری ڈیزیز (Peripheral Artery Disease)، ریمیٹک ہارٹ ڈیزیز (Rheumatic Heart Disease) اوردل کی پیدائشی بیماریاں (Congenital Heart Diseases) شامل ہیں۔

بعض مریضوں میں ایک سے زیادہ مسائل بیک وقت موجود ہو تے ہیں۔شریانوں کی بیماری میں عموماً ان کی اندرونی دیواروں میں چکنائی، کولیسٹرول اور دیگر مادّے جمع ہونے لگتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ تہہ شریان کو تنگ اور خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے۔

اگر کسی شریان میں اچانک مکمل رکاوٹ پیدا ہو جائے تو دل کا دورےیا فالج جیسے سنگین حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔یہ تکلیف خاموشی سے بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے خود کوصحت مند محسوس کرنے والا شخص بھی خطرے کے عوامل کا حامل ہو سکتا ہے۔

امراض ِقلب کا عالمی بوجھ

دنیا بھر میںامرا ض ِقلب (Cardiovascular Diseases) صحتِ عامہ کا ایک بڑا چیلنج ہیں۔ 2022 ءکے عالمی تخمینوں کے مطابق تقریباً 19.8 ملین افرادامراض ِقلب کے باعث جان کی بازی ہار گئے، جو دنیا بھر میں ہونے والی مجموعی اموات کا تقریباً 32 فی صد بنتی ہیں۔

ان میں تقریباً 85 فی صد کی ہلاکت ہارٹ اٹیک اور فالج سے ہوئی۔یہ اعداد وشمار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ امراض ِقلب صرف اسپتالوں اور ماہر ِامراضِ قلب کا مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی صحت، معیشت اور سماجی ترقّی کا بھی مسئلہ ہے۔

خاموش بیماری

دل کی بیماری کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کے کئی اہم خطرات ابتدا میں کوئی واضح علامت پیدا نہیں کرتے۔ بلند فشار خون، کولیسٹرول کی زیادتی، ذیابطیس اور شریانوں میں چکنائی کا جمع ہونا (Atherosclerosis) کئی سال تک خاموش رہ سکتا ہے۔بعض افراد کو پہلی بار اس وقت اپنی بیماری کا علم ہوتا ہے، جب اُنہیں سینے میں شدید درد، ہارٹ اٹیک یا فالج کا سامنا ہوتا ہے۔

اس لیے ’’مجھے کوئی تکلیف نہیں، لہٰذا میں صحت مند ہوں‘‘ ایک خطرناک تصور ہے۔’’Don’t Miss a Beat‘‘کا پیغام اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ علامات کا انتظار نہ کیا جائے۔ باقاعدہ معائنہ اور خطرے کے عوامل کی شناخت بیماری کو شدید مرحلے تک پہنچنے سے پہلے روکنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

خصوصاً وہ افراد جن کے خاندان میں امراض ِقلب ہو ، جنہیں ذیابیطس یا بلند فشارِ خون کی شکایت ہو، جو تمباکو استعمال کرتے ہوں یا جن کا وزن زیادہ ہو، انہیں علامات نہ ہونے کے باوجود اپنی قلبی صحت کے ضمن میں محتاط رہنا چاہیے۔

خاندانی خطرات

دل کی بیماری کے کچھ خطرات انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ عمر میں اضافہ، خاندانی تاریخ، جینیاتی رجحانات اور بعض پیدائشی بیماریاں ایسے عوامل ہیں، جنہیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر والدین یا قریبی رشتے داروں میں کسی کو کم عُمری میں دل کی بیماری کا سامنا رہا ہو تو فرد کو اپنے قابلِ اصلاح خطرات (Modifiable Risk Factors) پر مزید توجہ دینی چاہیے۔خاندانی تاریخ بیماری کی یقینی پیش گوئی نہیں کرتی، لیکن یہ خطرے کی سطح سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اسی لیے کسی شخص کے بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کو سمجھنے کے لیےصرف ایک عدد دیکھنا کافی نہیں، عمر، خاندانی تاریخ، ذیابطیس، تمباکو نوشی، وزن اور دیگر عوامل کو مجموعی طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ اس کے برعکس بہت سے اہم خطرات تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

بلند فشارِ خون، ذیابطیس، کولیسٹرول، موٹاپا، تمباکو نوشی، غیر متوازن خوراک، جسمانی بے عملی، ذہنی دباؤ اور نیند کی خرابی ایسے عوامل ہیں ،جن میں کمی کے ذریعے بیماری کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

بلند فشارِ خون

یہ قلبی بیماری کا ایک اہم اور اکثر نظرانداز کیا جانے والا خطرہ ہے۔ اسے ’’خاموش قاتل‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ بہت سے افراد کو بلڈ پریشر بڑھنے کا احساس نہیں ہوتا۔ لیکن مسلسل بلڈ پریشر رہنا دل، دماغ، گردوں اور خون کی شریانوں کو بتدریج نقصان پہنچا سکتا ہے۔ دل کو زیادہ دباؤ کے خلاف مسلسل خون پمپ کرنا پڑے تو وقت کے ساتھ دل کے پٹھوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ 

شریانوں کی دیواروں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے، جس سے ان میں نقصان اور سختی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے بلڈ پریشر کی باقاعدہ پیمائش بنیادی احتیاط ہے۔ ایک مرتبہ معمول سے زیادہ ریڈنگ آنے کا مطلب لازماً مستقل بیماری نہیں، لیکن ہرمرتبہ زیادہ ریڈنگ کو نظرانداز بھی نہیں کرنا چاہیے۔

تشخیص اور علاج کے لیے درست طریقے سے پیمائش اور طبّی مشورہ ضروری ہے۔بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں نمک کی کمی، مناسب وزن، جسمانی سرگرمی، متوازن خوراک، تمباکو سے پرہیز اور تجویز کردہ ادویہ کا باقاعدہ استعمال اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ذیابطیس

اس کا اور دل کی بیماری کا بہت گہرا تعلق ہے۔ خون میں شکر کی طویل عرصے تک زیادتی خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور امراض ِقلب کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔ ذیابطیس کے ساتھ بلند فشار خون اور خون میں چکنائی کی شکایت بھی ہو تی ہے ۔وزن میں اضافہ اور جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت (Insulin Resistance) اس پورے سلسلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

اضافی چربی، خصوصاً پیٹ کے گرد، جسم کے میٹابولزم پر اثر ڈال سکتی ہے اور وقت کے ساتھ ذیابطیس، بلند فشار خون اور خون میں چکنائی کی خرابی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔اسی لیے ذیابطیس کا علاج صرف خون کی شکر کےاعداد کم کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، وزن، خوراک، جسمانی سرگرمی اور تمباکو نوشی سمیت مجموعی خطراتِ قلب کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، جس شخص کو ذیابطیس ہو، اُس کی دل کی بیماری کی علامات کے ساتھ باقاعدہ طبی نگرانی بھی ضروری ہے، کیوںکہ ذیابطیس میں بعض اوقات امراض ِقلب روایتی علامات کے بغیر بھی ظاہر ہو سکتےہیں۔

کولیسٹرول کی زیادتی

یہ جسم کے لیے ایک ضروری مادّہ ہے، لیکن خون میں بعض اقسام کی چکنائی کی زیادتی شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کے عمل کو بڑھا سکتی ہے۔ اس عمل کو ایتھرواسکلروسس (Atherosclerosis) کہا جاتا ہے اور یہی دل اور دماغ کی خون کی نالیوں کی بیماری کی اہم بنیاد بن سکتا ہے۔ کولیسٹرول کا جائزہ لیتے وقت صرف کُل کولیسٹرول کو دیکھنا کافی نہیں۔

مختلف اقسام کی چکنائی اور فرد کے مجموعی خطرہ ٔقلب کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ ذیابطیس، بلند فشارِ خون، تمباکو نوشی اور خاندانی تاریخ موجود ہو تو کولیسٹرول کی معمولی تبدیلی بھی مجموعی خطرے کے تناظر میں اہم ہو سکتی ہے۔

خوراک میں غیر صحت بخش چکنائی کی زیادتی، جسمانی بے عملی اور موٹاپا کولیسٹرول کے مسائل میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس کے برعکس متوازن غذا، سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج، مناسب مقدار میں گری دار میوہ جات ، مچھلی اور جسمانی سرگرمیاں، وزن میں کمی اور قلبی صحت کے لیے مفید ہیں۔

موٹاپا

یہ صرف ظاہری شکل کا نہیں بلکہ دل کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔ جسمانی وزن میں اضافہ، چربی، ذیابطیس، بلند فشار ِخون اور خون میں چکنائی کی خرابی کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔ یہ خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ موٹاپا، انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتا ہے، جو ذیابطیس کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے ساتھ بلند فشار خون اور خون میں چکنائی کی خرابی بھی پیدا ہو سکتی ہے، اور یہ تمام عوامل مل کر امراض ِقلب کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

اس لیے وزن کم کرنا صرف خوب صورتی یا لباس کے سائز کا معاملہ نہیں،یہ دل، دماغ، گردوں اور پورے جسم کی حفاظت کی بات ہے۔ وزن میں معمولی مگر مستقل کمی بھی صحت مند طرزِ زندگی کا حصہ بن سکتی ہے۔ وزن کا جائزہ صرف ترازو سے نہیں ہونا چاہیے۔ جسمانی وزن کے ساتھ قد کے مطابق جسمانی کمیت (BMI)، کمر کا گھیر، خوراک، جسمانی سرگرمی اور مجموعی صحت دیکھنا زیادہ مفید ہے۔

تمباکو نوشی

یہ دل اور خون کی شریانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ سگریٹ کا دھواں خون کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے، شریانوں میں نقصان کے عمل کا بڑھا سکتا ہے اور ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ مسئلہ صرف سگریٹ تک محدود نہیں۔بلکہ دوسروں کی سگریٹ کے دھوئیں میں سانس لینا (Passive Smoking) بھی اتنا ہی نقصان دہ ہے۔

اسی طرح تمباکو کی بغیر دھوئیں والی شکلیں، مثلاً: نسوار، محفوظ متبادل نہیں۔ نئی نسل میں الیکٹرانک سگریٹ اور دیگر نکوٹین مصنوعات کے استعمال کا رجحان بھی تشویش کا باعث ہے اور انہیں دل کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔یاد رہے ،دل کے لیے تمباکو کی کوئی شکل محفوظ نہیں۔

نمک کا زیادہ استعمال اور خوراک میں بے احتیاطی

خوراک دل کی صحت کی بنیادی اینٹ ہے۔ زیادہ نمک بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ عالمی صحت کے رہنما اصول بالغ افراد کے لیے روزانہ پانچ گرام سے کم نمک استعمال کرنے کی ہدایت دیتے ہیں، جو تقریباً ایک چائے کے چمچ سے کم بنتا ہے۔ یہاں نمک اور سوڈیم کافرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔

جسم میں بہت سا نمک گھر کے پکے کھانوں سے نہیں بلکہ اچار، اسنیکس، فاسٹ فوڈز،تیار شدہ غذاؤں (Processed Foods) اور ریستوران کے کھانوں سے آتا ہے۔ اس لیے صرف گھر کے پکنے کھانوں میں نمک کم کردینا کا فی نہیں، خوراک کے پورے نظام کو دیکھنا ضروری ہے۔زیادہ چینی والے مشروبات اور انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کا مسلسل استعمال بھی وزن، ذیابطیس اور قلبی خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ

دل کی صحت کو ذہنی صحت اور نیند سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مسلسل ذہنی دباؤ، طویل کام کے اوقات، اسکرین کے سامنے زیادہ وقت، جسمانی بے عملی اور خراب نیند ایک دوسرے کی شدت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ مسلسل دباؤ کے دوران جسم میں ایسے ہارمونل اور جسمانی ردعمل پیدا ہوتے ہیں، جو بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور میٹابولزم کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اگر ذہنی دباؤ کے ساتھ نیند کم ہو، جسمانی سرگرمی نہ ہو اور خوراک بھی غیر متوازن ہو تو مجموعی خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔نیند کی مناسب مقدار اور باقاعدہ معمول جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کے لیے ضروری ہیں۔ رات گئے مسلسل موبائل یا دیگر اسکرینز استعمال کرنا، غیر معمولی اوقات میں کھانا اور کام کی وجہ سے نیند قربان کرنا طویل مدت میں صحت کے لیے نقصان دہ عادات بن سکتی ہیں۔دل کی حفاظت کے لیے ذہنی سکون، مناسب نیند اور جسمانی سرگرمی ایک دوسرے سے مربوط عناصر ہیں ۔

جسمانی سرگرمی کی اہمیت

یہ دل کی صحت کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ باقاعدہ ورزش دل کی کارکردگی، وزن، بلڈ پریشر، خون میں شکر اور مجموعی جسمانی فٹنس کے لیے مفید ہے۔بالغ افراد کے لیے ہفتے میں تقریباً 150 سے 300 منٹ درمیانی شدت کی جسمانی سرگرمی ایک عمومی ہدف ہے۔

تیز قدموں سے چلنا، سائیکل چلانا، تیراکی، سیڑھیاں اترنا چڑھنا، گھر کے کام اور دیگر فعال سرگرمیاں بھی جسمانی حرکت کا حصہ بن سکتی ہیں۔اہم بات صرف ورزش کے مقررہ وقت کی نہیں بلکہ طویل عرصے تک مسلسل بیٹھے رہنے کو کم کرنا بھی ہے۔ دفتر، گھر یا مطالعے کے دوران وقفے وقفے سے اُٹھنا اور چلنا معمول بنایا جا سکتا ہے۔ بچّوں اور نوجوانوں کے لیے جسمانی سرگرمی خاص طور پر اہم ہے۔

فضائی آلودگی کے اثرات

امراض ِقلب کے خطرات صرف گھر کے اندر یا پلیٹ میں موجود نہیں ہوتے، ماحول بھی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ فضائی آلودگی میں موجود باریک ذرّات (PM2.5) اور دیگر مضر اجزا ءسانس کے نظام کے ساتھ ساتھ خون کی شریانوں اور نظامِ قلب کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

شہری علاقوں میں ٹریفک، صنعتی دھواں، کچرے کا جلنا اور دیگر ذرائع فضائی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں رہنے والے افراد، خصوصاً پہلے سے امراض ِقلب یا سانس کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے آلودہ ہوا، ایک اضافی خطرہ بن سکتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف فرد سے یہ کہنا نہیں کہ وہ احتیاط کرے۔ صاف ہوا اجتماعی صحت کا حق ہے، جس کے لیے بہتر شہری منصوبہ بندی، ٹریفک مینجمنٹ، آلودگی پر قابو، صاف توانائی اور مؤثر ماحولیاتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ امراض ِقلب کی روک تھام اسی وقت مؤثر ہو گی، جب ذاتی طرزِ زندگی کے ساتھ صحت مند ماحول کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا جائےگا۔

خطرے کی علامات

ہارٹ اٹیک کی ایک اہم علامت سینے کے درمیان دباؤ، جکڑن یا درد ہو سکتی ہے۔ یہ تکلیف بازو، کندھے، گردن، جبڑے یا کمر تک پھیل سکتی ہے۔ سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی پسینہ، متلی، چکر، کم زوری یا بے چینی بھی ساتھ ہو سکتی ہے۔ واضح رہے، ہر سینے کا درد ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا، لیکن ہر مشتبہ سینے کے درد کو صرف گیس یا بدہضمی سمجھ کر نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

خاص طور پر جب درد اچانک شروع ہو، جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلے یا سانس کی شدید تکلیف اور پسینے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبّی معاینہ ضروری ہے۔خواتین، بزرگ افراد اور ذیابطیس کے مریضوں میں علامات بعض اوقات روایتی شکل میں ظاہر نہیں ہوتیں۔

اس لیے غیر معمولی تھکن، سانس کی تکلیف، متلی یا اچانک کم زوری کو بھی مناسب طبّی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ہارٹ اٹیک اور فالج میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ علامات شروع ہونے کے بعد گھر پر انتظار، خود تشخیصی یا غیر ضروری تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مشتبہ صورت میں فوری طبّی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

خواتین اور امراض ِقلب

خواتین میں ذیابطیس، بلند فشار خون اور موٹاپا اہم خطرات ہیں۔ حمل کے دوران بلند فشارِ خون یا ذیابطیس بھی مستقبل میں امراضِ قلب کے بڑھتے ہوئے خطرے کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں، اس لیے ایسے طبّی واقعات کو صرف حمل کے دوران کا عارضی مسئلہ سمجھ کر بھلا دینا مناسب نہیں۔

عمر بڑھنے اور ماہواری بند ہونے (Menopause) کے بعد بھی خواتین کے قلبی خطرات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس لیے خواتین کے لیے باقاعدہ بلڈ پریشر، خون میں شکر، کولیسٹرول اور وزن کی نگرانی اہم ہے۔ خواتین میں سینے کے درد کے ساتھ ساتھ سانس کی تکلیف، غیر معمولی تھکن، متلی یا جسم کے کسی حصے میں تکلیف جیسی علامات کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

نوجوان نسل اور امراض ِقلب کا بڑھتا ہوا رجحان

دل کی بیماری کو صرف 60 یا 70 سال کی عمر سے جوڑنا اب درست نہیں۔ پاکستان میں کم عمر افراد میں بھی ہارٹ اٹیک اور مائیوکارڈیل انفارکشن (Myocardial Infarction) کے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔نوجوانوں میں سگریٹ، شیشہ، نکوٹین مصنوعات، فاسٹ فوڈز، میٹھے مشروبات، جسمانی بے عملی، بڑھتا ہوا وزن، اسکرین ٹائم، نیند کی خرابی اور ذہنی دباؤ جیسے عوامل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مستقبل کے قلبی خطرات بڑھا سکتے ہیں۔

بچّوں کو متوازن خوراک، جسمانی کھیل، مناسب نیند اور تمباکو نوشی سے دور ی مستقبل کے امراض ِقلب کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ والدین خود اگر صحت مند عادات اختیار کریں تو بچّوں کے لیے عملی مثال بنتے ہیں۔ اسکول بھی صرف کتابی تعلیم کے بجائے جسمانی صحت اور صحت بخش خوراک کو بھی تعلیمی ماحول کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا چیلنج

پاکستان میں امراض ِقلب کا بڑھتا ہوا بوجھ متعدد عوامل کا نتیجہ ہے۔ شہری زندگی اور فضائی آلودگی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خطرہ بڑھا رہے ہیں۔ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سے افراد کو اپنے بلڈ پریشر، خون میں شکر یا کولیسٹرول کی سطح کا علم ہی نہیں ہوتا۔ بعض افراد تشخیص کے بعد علاج شروع تو کرتے ہیں، لیکن باقاعدگی سے ادویہ استعمال نہیں کرتے یا فالو اَپ نہیں لیتے۔

پاکستان میں بنیادی صحت کی سطح پر باقاعدہ اسکریننگ کی کمی، ماہرین اور جدید علاج تک محدود رسائی اور علاج کے اخراجات بھی مسئلے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے ہنگامی حالات میں تاخیر کے نتیجے میں بیماری کی شدت بڑھ سکتی ہے۔

علاوہ ازیں ایک مریض کی شدید بیماری پورے خاندان کے لیے مالی بحران پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے امراض ِقلب کی روک تھام صحت کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ کی بھی حکمتِ عملی ہے۔

خاندان اور معاشرے کا کردار

صحت مند عادات کی پہلی درس گاہ گھر ہے۔ بچّے وہی عادات زیادہ آسانی سے اپناتے ہیں، جو انہیں اپنے والدین اور گھر کے دوسرے افراد میں نظر آتی ہیں۔ اگر گھر میں روزانہ سبزی اور دال کے بجائے مسلسل تلی ہوئی غذائیں استعمال ہوں، جسمانی سرگرمی نہ ہو اور تمباکو نوشی عام ہو، تو صرف بچّوں کو صحت مند رہنے کی نصیحت مؤثر نہیں ہوگی۔

خاندان مل کر صحت مند خوراک، روزانہ چہل قدمی، تمباکو نوشی سے پاک ماحول اور مناسب نیند کا معمول بنا سکتا ہے۔ معاشرے میں کمیونٹیز، ہیلتھ ورکرز، مقامی تنظیمیں اور ذرائعِ ابلاغ صحت کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔’’ہر گھر ایک صحتِ قلب کا معائنہ‘‘ جیسی سوچ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ خاندان کم از کم اپنے بنیادی خطرات سے واقف ہو اور ضرورت کے مطابق طبّی مشورہ حاصل کرے۔

اسکول، کالج اور کام کی جگہ کی اہمیت

اسکول، بچّوں میں صحت مند عادات پیدا کرنے کے لیے اہم مقام ہیں۔ جسمانی تعلیم، کھیلوں کے مواقع، صحت بخش خوراک، تمباکو نوشی سے بچاؤ، مکمل نیند اور اسکرین کے متوازن استعمال کو اسکول کی’’ صحت پالیسی‘‘ کا حصّہ بنایا جا سکتا ہے۔

اسی طرح کام کی جگہ پر طویل عرصے تک بیٹھنا، مسلسل ذہنی دباؤ، غیر صحت بخش کھانے اور جسمانی سرگرمی کی کمی بالغ افراد میں امراضِ کے قلب کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔ دفاتر میں مختصر اًجسمانی وقفہ، صحت بخش غذا کاانتخاب، بلڈ پریشر کی جانچ اور ذہنی دباؤ کم کرنے کے اقدامات مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایمرجینسی کیئر اور بحالی

عوام کو بنیادی علامات کی شناخت اور فوری طبّی مدد لینے کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔صرف اسپتال تک پہنچنا کافی نہیںبلکہ ہنگامی نظام بھی مؤثر ہونا چاہیے۔ مریض کو بروقت شناخت، ایمرجینسی سہولت، ضروری تشخیص اور مناسب علاج تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ ہارٹ اٹیک یا دل کی بڑی بیماری کے بعد مریض کو جسمانی سرگرمی، خوراک، ادویہ، ذہنی صحت اور دوبارہ بیماری سے بچاؤ سے متعلق رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

قلبی بحالی (Cardiac Rehabilitation) کا مقصد مریض کو صرف زندہ رکھنا نہیں بلکہ اسے ممکنہ حد تک فعال اور محفوظ زندگی کی طرف واپس لانا ہے۔اس لیے قلب کے مرض میں مبتلا شخّص کو ایمرجینسی طبّی امدار اور بحالی دونوں کو روک تھام اور تشخیص کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے۔

قومی حکمتِ عملی اور عملی راستہ

امراض ِقلب کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے فرد، خاندان، معاشرے اور حکومت کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کا آغاز بنیادی صحت کی سطح پر بلڈ پریشر، خون میں شکر، کولیسٹرول، وزن اور کمر کے گھیر کی باقاعدہ جانچ سے ہونا چاہیے، تاکہ خطرات کی بروقت شناخت اور مسلسل فالو اَپ ممکن ہو۔

تمباکو نوشی، نسوار، شیشہ اور نئی نکوٹین مصنوعات کے استعمال کی روک تھام، خوراک میں نمک، چینی اور غیر صحت بخش چکنائی کی کمی، صحت بخش غذاؤں کے فروغ، جسمانی سرگرمی کے لیے محفوظ شہری ماحول اور فضائی آلودگی پر قابو پانا قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

ضروری ادویہ کو قابلِ رسائی اور قابلِ برداشت بنانے کے ساتھ ہارٹ اٹیک اور فالج کے لیے مؤثر ایمرجنسی نظام اور قلبی بحالی کی سہولتوں کی فراہمی بھی ضروری ہیں۔ گھر میں صحت بخش خوراک، روزانہ چہل قدمی، تمباکو سے پاک ماحول اور مناسب نیند کا معمول بنائیں، جب کہ اسکول، کالج اور کام کی جگہیں بھی جسمانی سرگرمی، صحت بخش خوراک اور باقاعدہ صحت کی جانچ کو فروغ دیں۔ دل کی دھڑکن زندگی کی علامت ہے، اس کی حفاظت دراصل زندگی کے ہر لمحے کی حفاظت ہےسو،’’Don’t Miss a Beat‘‘دل کی کسی دھڑکن، کسی علامت اور کسی موقعے کو نظرانداز نہ کریں۔

(مضمون نگار ،پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت سندھ ہیں)