20 ممالک اور یورپی یونین نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور اسے انسانی نگرانی میں رکھنے کے لیے عالمی تعاون پر زور دیا ہے۔
جرمنی، جنوبی افریقا، کینیڈا، آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات اور سنگاپور سمیت ان ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں مصنوعی ذہانت کے لیے مشترکہ عالمی معیار بنانے، سنگین حفاظتی واقعات کی معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرنے اور ایک بین الاقوامی نگرانی کے ادارے کے قیام پر غور کرنے کی تجویز دی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق تیار کیا جائے اور اس پر انسانی ہدایت، نگرانی اور اختیار برقرار رہنا چاہیے، مجوزہ عالمی ادارہ معیار طے کرنے، ان کی پابندی کی تصدیق کرنے اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں اہم پیش رفت کی صورت میں ممالک کو اکٹھا کرنے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
اعلامیے پر جرمن چانسلر فریڈرک مرٹس، ناروے کے وزیرِ اعظم جوناس گار اسٹور، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈر لاین، کینیا کے صدر ولیم روٹو، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائف اور ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان سمیت دیگر رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں۔
واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کی 2 بڑی طاقتیں امریکا اور چین اس اعلامیے میں شامل نہیں ہیں۔
بھارت، جنوبی کوریا، جاپان، برطانیہ اور فرانس بھی دستخط کنندگان میں شامل نہیں۔
اعلامیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس سے وابستہ خطرات پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈے نے رواں ماہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ایلون مسک سمیت دیگر ٹیکنالوجی رہنماؤں نے بھی حمایت کی تھی۔
اوپن اے آئی نے بھی امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ جدید مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی تکنیکی معیار بنانے کی بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کرے۔
اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل نے بھی نئی حفاظتی پابندیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہیگنگ فیس پر ہونے والے سائبر حملے نے موجودہ حفاظتی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔
