خانہ کعبہ، مسجد الحرام، مقام ابراہیم ؑاور صفا مروہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں ہر لمحہ لبیک، اللہ اکبر اور سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔ یہ مسلمانوں کیلئے صرف تاریخی مقامات نہیں بلکہ ایمان اور عقیدت کا حصہ ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی میں عمرے کی سعادت کیلئے اپنے بھائی اختیار بیگ اور فیملی کے ہمراہ سعودی عرب آیا ہوں اور یہ کالم مکہ مکرمہ سے تحریر کررہا ہوں۔ کالم تحریر کرتے وقت ہوٹل میں کمرے کی کھڑکی سے خانہ کعبہ کا روح پرور منظر میری نظروں کے سامنے ہے جہاں لاکھوں افراد طواف میں دیوانہ وار مصروف ہیں۔ گزشتہ روز جب سعودی حکام کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف ایک ڈرون آنے کا سیکورٹی الرٹ جاری ہوا تو اس وقت ہم سب طواف میں مصروف تھے۔ بعد ازاں جب مکہ مکرمہ کی ممنوعہ حدود میں ڈرون داخل ہونے کی خبر وائرل ہوئی تو طواف میں مصروف لاکھوں افراد پر اس خبر کا رتی بھر اثر نہیں ہوا۔ ڈرون بھیجنے والے والے شاید اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ مسجد الحرام میں عبادات میں مصروف لاکھوں افراد میں خوف و ہراس پھیلانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور اللہ کا گھر عازمین سے خالی ہوجائے گا مگر مجھے یہ دیکھ کر خوشی اور فخر محسوس ہوا کہ طواف میں مصروف عازمین میں ذرہ برابر بھی گھبراہٹ نہیں تھی بلکہ وہ طواف میں دیوانہ وار مصروف رہے اور مسجد الحرام کی فضائیں لبیک اور سبحان اللہ کی صدائوں سے گونجتی رہیں۔ بعد ازاں سعودی حکام کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی ڈرون کو تباہ کردیا گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب اس وقت اپنی قومی سلامتی کے سب سے سنگین بحران سے دوچار ہے۔ سعودی عرب کو سب سے بڑا صدمہ اپنے اتحادی امریکہ کے رویے سے پہنچا ہے جس نے حوثی گروپ کو یقین دلایا ہے کہ وہ سعودیہ حوثی تنازع سے دور رہے گا اور اس طرح امریکہ نے حوثیوں سے ڈیل کرکے ریڈ سی میں اپنی شپنگ لائن کی راہ ہموار کرلی۔
امریکی یقین دہانی کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملے تیز کردیئے ہیں۔ حالیہ ڈرون حملے سے قبل حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا جس کے باعث سعودی عرب کی مشرقی اور مغربی آئل پائپ لائن بند ہوگئی، یمبو سے آئل شپمنٹ کو بند کردیا گیا اور نتیجتاً یورپ جانے والی بیشتر شپمنٹ منسوخ ہوئی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ریڈ سی کی شپنگ مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور خالد ایئر بیس پر حملے سے سعودی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کا F-15 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے جسکی تاحال کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مکہ مکرمہ کی جانب حالیہ ڈرون حملہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کا ایک امتحان بھی ہے کیونکہ اب خطرہ صرف سعودی عرب کے دروازے پر نہیں رہا بلکہ مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ مکرمہ تک پہنچ گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں پاک فوج کی جانب سے غیر معمولی سخت موقف سامنے آیا جس میں واضح الفاظ میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور پاک فوج حرمین الشریفین کی حفاظت کیلئے موجود ہے اور مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے پاکستان کسی حد تک بھی جاسکتا ہے۔ یہ ردعمل صرف سفارتی زبان نہیں بلکہ پاکستان کے تمام مسلمانوں کے دل کی کیفیت کی ترجمانی کرتا ہے۔ حالیہ واقعہ نے ایک بنیادی سوال ضرور ہمارے سامنے رکھ دیا ہے کہ جس شہر کو مسلمان امن، عبادت اور رحمت کی علامت سمجھتے ہیں، وہاں جنگ کے ہتھیار کا سایہ بھی ناقابل تصور ہے۔ مکہ مکرمہ وہ شہر ہے جہاں کروڑوں مسلمان خالی ہاتھ لئے اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں، یہاں کسی کے پاس دنیاوی طاقت کا غرور نہیں ہوتا، یہاں بادشاہ بھی دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتا ہے اور عام انسان بھی، یہاں امیر و غریب، گورا اور کالا، عربی اور عجمی سب اپنے رب کے سامنے کھڑے اور سربسجود ہوتے ہیں۔ اس طرح اس مقدس شہر کی طرف اٹھنے والا ہر خطرہ صرف ایک ملک کی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات، عقیدے اور روحانی وابستگی سے جڑا ہوا ہے۔ کسی بھی فریق کو یہ اجازت نہیں کہ جنگی کشمکش میں مقدس مقامات اور عبادات میں مصروف لوگوں کی سلامتی خطرے میں ڈالے۔ یہ اصول صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ ہر مذہب کے مقدس مقامات کے حوالے سے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ایک ایسی ریڈ لائن ہے جسکی حدود پار کرنے کی کسی کو اجازت نہیں اور اگر کبھی دشمن نے اس ریڈ لائن کو عبور کرنے کی ناپاک جسارت کی تو پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان احرام کے بجائے کفن پہن کر ان مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے نکل کھڑے ہوں گے، یہی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔