• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنسی جرم کا مقدمہ، ہاروی وائن اسٹائن کو 15 سال قید کی سزا سنادی گئی

تصویر بشکریہ: گیتی امیجز، دی گارجین۔
تصویر بشکریہ: گیتی امیجز، دی گارجین۔

سابق امریکی فلم پروڈیوسر اور پروڈکشن کمپنیوں میرامیکس اور  وائن اسٹائن کے شریک بانی ہاروی وائن اسٹائن کو بدھ کو نیو یارک کی عدالت نے ایک اور می ٹو مقدمے میں جنسی جرم کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

وائن اسٹائن کو 2020 میں سابق ٹی وی پروڈکشن اسسٹنٹ ہیلی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی، تاہم چھ سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی قانونی کشمکش کے بعد وہ سزا کالعدم قرار دے دی گئی تھی۔ گزشتہ سال دوبارہ ہونے والے مقدمے میں جیوری نے انہیں دوبارہ مجرم قرار دیا۔

ماضی میں فلمی صنعت کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار ہونیوالے 74 سالہ آسکر ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر کی مشہور فلموں میں شیکسپیئر ان لو، پلپ فکشن اور چاکلیٹ شامل ہیں۔ 2017 میں جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آنے کے بعد ان کا زوال شروع ہوا، جس نے می ٹو تحریک کو جنم دیا۔

ہیلی بدھ کی صبح عدالت میں پیش ہوئیں اور گزشتہ سات برسوں کے دوران ہراسانی اور ذلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وائن اسٹائن، ان کی ڈیفنس ٹیم اور ان پوڈکاسٹرز کی جانب سے عوامی سطح پر بدنام کیا گیا جن کے بارے میں انھیں شبہ ہے انہیں ان کی ساکھ خراب کرنے کے لیے رقم دی گئی تھی۔

نیو یارک کی ضلعی اٹارنی نکول بلمبرگ نے استغاثہ کی جانب سے عدالت سے درخواست کی کہ وائن اسٹائن کو 20 سال قید اور رہائی کے بعد پانچ سال کی نگرانی کی سزا دی جائے۔

وائن اسٹائن نے اپنے بیان میں کہا انہیں ہیلی کے حوالے سے پچھتاوا ہے، بہت سی شرمندگیوں کے ساتھ جینا پڑ رہا ہے اور میں اپنے کیے پر معذرت خواہ ہوں۔

وائن اسٹائن کے وکلاء نے کہا کہ انھیں خون کے کینسر اور دل کی بیماری سمیت کئی صحت کے مسائل ہیں۔ انھوں نے نو سال کی سزا کی درخواست کی تھی۔

سزا سنانے سے قبل جج نے کہا وائن اسٹائن کو صرف فلمیں بنانے کے لیے ہی نہیں بلکہ می ٹو تحریک کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وائن اسٹائن نے فلم انڈسٹری میں کام کرنے کے ہیلی کے خوابوں کا فائدہ اٹھایا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید